امریکہ میں پیرس جیسی دہشتگردی کی قابل اعتبار دھمکی نہیں ملی: ہوم لینڈ سکیورٹی چیف

امریکہ میں پیرس جیسی دہشتگردی کی قابل اعتبار دھمکی نہیں ملی: ہوم لینڈ ...

واشنگٹن(اظہر زمان، تجزیاتی رپورٹ) داعش کے خلاف جنگ اور اس کی وجہ سے درپیش خطرات اس وقت امریکی حکومت اور عوام کے لیے سب سے اہم موضوعات بحث ہیں۔منگل کے روز فرانسیسی صدر فرانکوئس ہالاند کی واشنگٹن آمد پر یہ بحث اور بھی زور پکڑ گئی ہے۔ پیرس میں حالیہ تباہ کن دہشتگردی کے بعد یورپ اور امریکہ میں بھی ایسی ہی کارروائیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور امریکی عوام یقیناًایسی خبروں سے خوف کا شکار ہیں اور اس فضا میں ری پبلکن پارٹی کے ایک اہم صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کچھ سیاست دان داعش کے خلاف عوام کی نفرت کا رخ نائن الیون کی طرح بے گناہ امریکی مسلمانوں کی طرف موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کا منافرت کا یہ سودا کسی نے نہیں خریدا۔ ایسے وقت میں کوالالمپور سے صدر اوبامہ کا واضح پیغام آیا کہ داعش اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے ارکان مسلمان ضرور کہلاتے ہیں لیکن دنیا بھر کے مسلمان دہشتگردی کے سخت خلاف ہیں۔ شاید ان کے بیان کے اس حصے کے مخاطب امریکی عوام تھے جس میں انہوں نے کہا کہ اگر دہشتگردی کا بہانہ بنا کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا تو اس سے داعش اور دیگردہشتگرد تنظیموں کو فائدہ پہنچے گا۔ امریکی وزارت خارجہ نے ملک کے اندر اور باہر امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس ہالیڈے سیزن میں پرہجوم مقامات اور بڑی تقریبات میں شرکت سے احتراز کریں، ادھر ایف بی آئی نے یہ خبر بھی دی ہے کہ داعش امریکہ کی جنوبی ریاست ٹیکساس سے نوجوان ریکروٹس بھرتی کر رہا ہے۔ لیکن ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے (جس کا ایف بی آئی ایک حصہ ہے) کے سربراہ جیہ جانسن نے این بی سی ٹیلی ویژن کے ’’میٹ دی پریس‘‘ میں واضح طور پر کہا ہے کہ امریکی سر زمین پر پیرس کی طرز کی دہشتگرد کا رروائی کی کوئی قابل اعتبار دھمکی موصول نہیں ہوئی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے ہمدرد اکیلے شخص جن کے لئے ’’اکیلے بھیڑیئے‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے ہر جگہ موجود ہیں جو کئی برس سے چھوٹی موٹی کارروائی کرتے رہتے ہیں جو اس سیزن میں بھی ایسی وارداتیں کر سکتے ہیں۔ مسٹر جانسن نے بتایا کہ صدر اوبامہ کے وعدے کے مطابق شام کے تقریباً اکیس سو پناہ گزینوں کو مکمل تفتیش کے بعد امریکہ میں آباد کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی سکیورٹی اداروں کو اس وقت ان ممالک سے امریکہ آنے والے باشندوں پر ہے جنہیں امریکہ کے لئے ویزا حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق داعش نے پیرس میں یہ حکمت عملی اپنائی کہ اپنے ان کارکنوں کو استعمال کیا جن کے پاس یورپی شہریت تھی۔ امریکہ کے لئے بھی وہ ان ممالک کے باشندوں کا انتخاب کر سکتے ہیں جنہیں امریکی ویزے سے استثنیٰ حاصل ہے۔ جہاں تک داعش کے خلاف جنگ کا تعلق ہے اس کے بارے میں وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جوش ارنسٹ کا تازہ بیان بہت اہم ہے اور امریکہ اس جنگ میں اپنے حصے سے بڑھ کر کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ بیان گزشتہ روز فرانس کے صدر فرانکوئس ہالاند کے وائٹ ہاؤس میں صدر اوبامہ سے اہم مذاکرات کے موقع پر جاری کیا گیا ہے۔ فرانسیسی صدر بارک اوبامہ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ شام میں داعش کے خلاف فوجی کارروائیوں کو روس کے صدر پیوٹن سے مربوط کریں جو امریکہ کے مخالف شام کے صدر بشار الاسد کی فوجی حمایت کر رہا ہے ، صدر اوبامہ اس مشورے کی مزاحمت کر رہے ہیں اور ان کا موقف یہ ہے کہ پہلے روس کو اپنی پالیسی تبدیل کرنی چاہئے اور اسد کے مخالف ان جنگجوؤں پر حملے روکے جن کی امریکہ حمایت کرتا ہے۔ پریس سیکرٹری کے اصل الفاظ یہ ہیں کہ ’’امریکہ یقیناًاپنے وزن سے زیادہ کھینچ رہا ہے اور وہ یہ سب کچھ خوشی سے کر رہا ہے کہ یہ امریکی قیادت کی طویل روایت کے عین مطابق ہے۔ فرانسیسی صدر کی واشنگٹن آمد سے قبل فرانسیسی طیارہ بردار بحری بیڑہ شام کے ساحل پر پہنچ چکا ہے جہاں سے اس کے جہاز اڑ کر داعش کے ٹھکانوں پر حملے شروع کر چکے ہیں ا س سے پہلے فرانس کے طیارے قریبی ممالک کے اڈوں سے اڑ کر حملہ آور ہوتے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر