دینی مدارس و مساجد کی رقوم پر ودہولڈنگ ٹیکس وصولی شرعاً جائز نہیں: اتحاد تنظیمات مدارس

دینی مدارس و مساجد کی رقوم پر ودہولڈنگ ٹیکس وصولی شرعاً جائز نہیں: اتحاد ...

اسلام آباد (آئی این پی)اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان نے کہاہے کہ دینی مدارس و مساجد کی رقوم پر وِد ہولڈنگ ٹیکس وصول کرنا شرعاً جائز نہیں ، ان اداروں کو لوگ زکوٰۃ ، فطرہ، فدیہ ، نذر اور کفارات یعنی صدقاتِ واجبہ کی مد میں رقوم دیتے ہیں ، قرآن مجید میں ان کے مصارف متعین ہیں،مساجد کو دیئے جانے والے عطیات وقف ہو جاتے ہیں ،ان رقوم پر وِدہولڈنگ ٹیکس وصول کرنے سے صدقاتِ واجبہ دینے والے کا پورا صدقہ اور زکوٰۃ ادانہیں ہوگی ، پاکستان کی قیادت نے حکومت وقت سے درخواست کی ہے کہ وہ اولین فرصت میں دینی مدارس و جامعات اورمساجدکے اکاؤنٹس سے نکالے جانی والی رقوم کو وِد ہولڈنگ ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے یکم جولائی سے اب تک جو ٹیکس وصول کیا جا چکاہے ، اسے واپس ان اداروں کے اکاؤنٹس میں جمع کرنے کے احکام صادر کرے ، ورنہ موجودہ حکومت شریعت کی اس حکم عدولی کیلئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جواب دہ ہوگی۔ منگل کو وفاقی وزیر خزانہ محمداسحاق ڈارکے نام ایک خط میں اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے راہنماؤں مولانا سلیم اللہ خان ،مفتی منیب الرحمن ، مولانا محمد حنیف جالندھری،مولانا عبد المالک ،مولانا محمد یٰسین ظفر اور علامہ قاضی نیاز حسین نقوی نے کہاکہ مساجد کو دیے جانے والے عطیات وقف ہو جاتے ہیں ان پر بھی ودِ ہولڈنگ ٹیکس وصول کرنا شرعاً جائز نہیں ہے ۔ان اداروں کو لوگ زکوٰۃ ، فطرہ، فدیہ ، نذر اور کفارات یعنی صدقاتِ واجبہ کی مد میں رقوم دیتے ہیں ، قرآن مجید میں ان کے مصارف متعین ہیں،مساجد کو دیئے جانے والے عطیات وقف ہو جاتے ہیں ،ان رقوم پر وِدہولڈنگ ٹیکس وصول کرنے سے صدقاتِ واجبہ دینے والے کا پورا صدقہ اور زکوٰۃ ادانہیں ہوگی ۔ خط میں کہا گیا کہ بجٹ 2015-16 میں بینکوں سے رقوم کی ترسیلات پر وِد ہولڈنگ ٹیکس عائد کردیا گیا ہے اور دینی مدارس و جامعات اور مساجد کے اکاؤنٹ سے رقوم نکالنے پر بھی یہ ٹیکس وصول کیا جارہا ہے، پاکستان کی تاریخ میں یہ ایک منفرد مثال ہے کہ دینی اداروں اور مساجد کو بھی کاروباری اداروں کی طرح ٹیکس نیٹ ورک میں شامل کیاگیاہے اور یہ اعزاز مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو حاصل ہواہے جو از حد قابلِ افسوس ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ خط میں کہا گیا کہ مقامِ حیرت ہے کہ برطانیہ اور یورپ میں جو لوگ مساجد اور رفاہی اداروں کو عطیات دیتے ہیں ان پر وہاں کی حکومتیں وصول کیا ہوا ٹیکس ان رفاہی اور مذہبی اداروں کے اکاؤنٹس میں جمع کر دیتی ہیں۔ خط میں اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کی قیادت نے حکومت وقت سے درخواست کی ہے کہ وہ اولین فرصت میں دینی مدارس و جامعات اورمساجدکے اکاؤنٹس سے نکالے جانی والی رقوم کو وِد ہولڈنگ ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے یکم جولائی سے اب تک جو ٹیکس وصول کیا جا چکاہے ، اسے واپس ان اداروں کے اکاؤنٹس میں جمع کرنے کے احکام صادر کرے ، ورنہ موجودہ حکومت شریعت کی اس حکم عدولی کیلئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جواب دہ ہوگی۔

مزید : صفحہ آخر