پی سی بی بنگلہ دیش سے کرکٹرز فوراً واپس بلائے

پی سی بی بنگلہ دیش سے کرکٹرز فوراً واپس بلائے

ایک ہی دن اور دو خبریں۔ ہمارے قومی دوہرے معیار کی عمدہ مثال ۔ ایک خبر ڈھاکہ میں جوئے میں سزا یافتہ بولر محمد عامر کی بنگلہ دیش پریمیر لیگ میں شاندار کارکردگی۔ جبکہ دوسری خبرڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمشنر کی بنگلہ دیش دفتر خارجہ میں طلبی اور پاکستان کے بنگلہ دیش میں دی جانے والی پھانسیوں کے بیان پر شدید رد عمل کا اظہار۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مجھے عالمی رہنماؤں کے خطاب سننے کا موقع ملا۔ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد کا خطاب پاکستان کے حوالہ سے شدید متعصبانہ تھا۔ حتیٰ کہ بھارت سے بھی زیادہ متعصبانہ تھا۔ حسینہ واجد نے اپنی پوری تقریر میں جب سارک کے ممالک کا ذکر کیا تو انہوں نے پاکستان کا نام لینا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ وہ تو پاکستان کو سارک ممالک کا حصہ ماننے کے لئے بھی تیار نہیں جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت پاکستان کو نہ صرف سارک کا حصہ مانتا ہے۔ بلکہ کسی نہ کسی شکل میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے پر بھی تیار ہے۔

پی سی بی نے اس وقت جب بنگلہ دیش میں پاکستان کی حمایت پر لوگوں کو پھانسیاں لگائی جا رہی ہیں، بنگلہ دیش پریمیر لیگ میں کھیلنے کے لئے پاکستان کے کھلاڑیوں کو اجازت دے دی ہے۔ کیا یہ اجازت اس وقت دی جانی چاہیے تھی کہ نہیں ۔ یہ وہ سوال ہے جو سارا دن میرے ذہن میں رہا۔ اور میں سوچتا رہا کہ کب پی سی بی اور ہمارے کھلاڑی پیسے کے لالچ سے نکل قومی وقار کو بھی اہمیت دیں گے۔

کرکٹر محمد حفیظ نے بولر محمد عامر کے ساتھ کھیلنے سے تو انکار کیا ہے۔ لیکن انہیں ویسے بنگلہ دیش میں کھیلنے سے کوئی پرابلم نہیں ہے۔ اسی طرح پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق سمیت کئی پاکستانی کرکٹر خوشی خوشی بنگلہ دیش میں کھیل رہے ہیں۔ آخر یہ کیا ہے۔

جب یہ طے ہو گیا ہے کہ کھیل اور سیاست الگ نہیں۔ جب یہ طے ہو گیا ہے کہ کرکٹ کے معاملات دو ملکوں کے درمیان موجود سفارتی تعلقات پر منحصر ہیں۔جب یہ طے ہو گیا ہے کہ اگر دو ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات نہیں ہو نگے تو ان کے درمیان کھیل کے میدانوں میں بھی اچھے تعلقات نہیں ہو نگے ۔ تو یہ بات پی سی بی کو کیوں سمجھ نہیں آرہی۔ اگر بھارت پاکستان کے ساتھ برے تعلقات کیو جہ سے پاکستانی کھلاڑیوں پر بھارتی آئی پی ایل میں شرکت پر پابندی لگا سکتا ہے ۔ تو پی سی بی پاکستانی کرکٹرز پر بنگلہ دیش میں پریمیر لیگ کھیلنے پر پابندی کیوں نہیں لگا سکتی۔

پی سی بی اور پاکستانی کھلاڑی پہلے ہی بھارتی آئی پی ایل کا حصہ نہ بننے پر مرے جا رہے تھے۔ کہ پاکستانی کرکٹرز کو پیسے بنانے کا موقع نہیں مل رہا۔ اس وجہ سے کرکٹرز کا نقصان ہو رہا ہے۔ اب بنگلہ دیشن پر بھی یہی موقف ہے کہ نہیں جائیں گے تو نقصان ہو جائے گا۔ کرکٹرز پیسہ نہیں کما سکیں گے۔ ہائے پیسہ ہا ئے پیسہ۔ پی سی بی اور پاکستان کرکٹرز تو پیسے سے آگے سوچ ہی نہیں پا رہے۔ چاہے پاکستان کی جتنی مرضی بے عزتی ہو جائے ۔ لیکن پیسہ کمانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جا نا چاہئے۔ ایک وقت تھا جب پوری دنیا نے جنوبی افریقہ کا بائیکاٹ کیا ہوا تھا۔ اس وقت ان کا کرکٹ بائیکاٹ بھی تھا۔ اور اسی بائیکاٹ نے جنوبی افریقہ کی حکومت کو اپنے امتیازی قوانین ختم کرنے پر مجبور کیا۔ اگر ہم بھی اپنے قومی وقار کے لئے کوئی سخت موقف نہیں اپنائیں گے تو دوسرے ممالک بھی ہمارے قومی وقار کی عزت نہیں کریں گے۔

اب جبکہ پاکستانی حکومت نے اللہ اللہ کر کے بنگلہ دیش میں دی جانیوالی پھانسیوں پرآواز اٹھائی ہے تو پی سی بی کو بھی چاہئے کہ وہ تمام پاکستانی کرکٹرز کو بنگلہ دیش سے واپس بلا لے۔ تا کہ ہم کسی حد تک تو پاکستان کے نام پر تختہ دار پر چڑھنے والے اپنے ان شہیدوں کے خون سے سرخرو ہو سکیں۔ اس سے پہلے بنگلہ دیش پاکستان کے ساتھ وعدہ کر کے پاکستان میں سیریز کھیلنے سے انکار کر چکا ہے۔ جب پاکستانی

کرکٹ ٹیم بنگلہ دیش کے دورے پر تھی تو بنگلہ دیشی وزیر اعظم نے پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ہاتھ ملانے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ اور وہ گراؤنڈ میں صرف اپنی ٹیم کے ساتھ ہاتھ ملا کر چلی گئی تھیں۔ جو نہ صرف مہمان نوازی کے آداب کی بھی خلاف ورزی تھی۔ بلکہ سفارتی آداب کے بھی منافی تھا۔ سوال یہی ہے کہ آخر ہم اپنے قومی وقار کے لئے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھا سکتے۔

بنگلہ دیش میں جن رہنماؤں کو پھانسی دی جا رہی ہے وہ پاکستان کے وہ ہیرو ہیں ۔ جنہوں نے آخری وقت تک پاکستان کو دو لخت ہونے سے بچانے کی کو شش کی۔ وہ ہمارے ورثا کے ہیرو ہیں۔ اگر ہم ان کا ساتھ نہیں دے سکتے تو ان کے زخموں پر نمک بھی تو نہ چھڑکیں۔ ویسے تو ہم بھارت کے ساتھ کرکٹ سیریز کھیلنے پر بھی مرے جا رہے ہیں۔ اور بھارت کی ہر شرط ماننے کے لئے تیار ہیں۔ شکر ہے کہ حکومت نے اس ضمن میں پی سی بی کو ہوش کے ناخن لینے کا مشورہ دیا ۔ اور اب پی سی بی نے حکومت سے اجازت مانگ لی ہے۔ اسی طرح میری حکومت پاکستان اور وزیر اعظم سے درخواست ہے کہ وہ پی سی بی کو کہیں کہ بنگلہ دیش سے بنگلہ یش پریمیر لیگ میں شریک تمام کرکٹرز کو فوری طور پر وطن واپس بلائے۔ ان کے این او سی ختم کئے جائیں۔ اور جب تک بنگلہ دیش ان پھانسیوں کا سلسلہ بند نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ تعلقات کو نچلی سطح پر ہی رکھا جائے۔

مزید : کالم