بلوچستان میں حالات پہلے سے بہتر، بلوچ حساس ہیں،ڈاکٹر مالک

بلوچستان میں حالات پہلے سے بہتر، بلوچ حساس ہیں،ڈاکٹر مالک

بلوچستان پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور کم آبادی والا صوبہ ہے، جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ گیس اور پتھر کے علاوہ کوئلے، تانبے اور سونے تک کی کانیں ہیں ان سے پورا استفادہ بھی نہیں کیا گیا، بلکہ سیندک اور رکوڈک تنازعات کا شکار ہو گئے ہیں،بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک سچ کہتے ہیں کہ بلوچ اپنے وسائل کے حوالے سے حساس ہیں، انصاف کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ جو کچھ جہاں سے نکلے اس پر پہلا حق اسی علاقے کے عوام کا ہونا چاہئے اور یہ بات قریباً تمام مقررین نے تسلیم کی جو پنجاب یونیورسٹی کے تعان سے پائنا کے سیمینار سے خطاب کر رہے تھے، مہمان مقرر ڈاکٹر عبدالمالک تھے تاہم اس سے خطاب کرنے والوں میں وفاقی وزرا خواجہ سعد رفیق اور احسن اقبال کے علاوہ چیف ایڈیٹر روزنامہ ’’پاکستان‘‘ مجیب الرحمن شامی، الطاف حسن قریشی، عطا الحق قاسمی اور دیگر حضرات بھی تھے، ڈاکٹر عبدالمالک نے بلوچستان کے حوالے سے تفصیلی بات کی اور بتایا کہ بلوچستان میں حالات مکمل طور پر قابو میں نہیں، لیکن امن و امان کی حالت بہتر ہوئی، جس میں فوج کا کردار بڑا اہم ہے۔ ان کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا کہ ناراض بلوچ حضرات سے مذاکرات کے لئے وفاقی حکومت اور فوج دونوں کا تعاون حاصل ہے اور اب حالات بتدریج بہتر ہو رہے ہیں تاہم عوام کو ان کے حقوق لوٹا کر ہی مزید بہتری پیدا کی جا سکتی ہے، دونوں وفاقی وزرا احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق نے بھی مجموعی طور پر اتفاق کیا اور ڈاکٹر عبدالمالک کو خراج تحسین پیش کیا کہ ان کی کوشش سے حالات میں سدھار آیا ہے۔ مجیب الرحمن شامی نے تعلیم کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ تعلیم ہی سے شعور آتا ہے، بلوچستان میں تعلیم عام ہونی چاہئے انہوں نے ہتھیار پھینک کر ملکی امور میں شامل ہونے والوں کی تعریف کی اور اسے بہتر عمل قرار دے کر اپیل کی کہ سب ناراض بلوچوں کو ہتھیار پھینک کر سیاسی عمل میں شامل ہونا اور اپنے حقوق حاصل کرنا چاہئیں۔

لاہور میں یہ ایک معلوماتی اور حوصلہ افزا تقریب تھی کہ اسی ہفتے کے دوران وزیراعظم محمد نواز شریف بھی لاہور میں تھے اور انہوں نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت بھی کی، ان کے ساتھ وزیراعلیٰ پنجاب بھی بیٹھے تھے، وزیراعظم کو ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی وزیراعظم نے خصوصی طور پر نو منتخب بلدیاتی نمائندوں کے حوالے سے بات کی اور کہا کہ ان سب کو اب عوام سے کئے گئے وعدوں کے مطابق خدمت کرنا اور عوامی بہبود کے کام کرنا چاہئیں۔ وزیراعظم نے اقبال پارک(منٹو پارک) کی تزئین نو کے حوالے سے گہری دلچسپی لی اور ہدایت کی کہ اقبال پارک کو دُنیا کی مثالی پارک اور گراؤنڈ ہونا اور اسے جلد مکمل ہونا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں عوام نے مسلم لیگ(ن) پر پھر سے اعتماد کا اظہار کر کے ان کی ذمہ داریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بریفنگ دی اور کہا کہ عوام کی ترقی اور خوشحالی کا سفر جاری رکھا جائے گا اور حکومت اس کے لئے متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی(پارلیمنٹرین) کے صدر پیپلزپارٹی کے بنیادی رکن سابق وفاقی وزیر اور سروری جماعت کے روحانی پیشوا مخدوم امین فہیم کی روح کو ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کو اچھرہ میں تقریب قرآن خوانی ہوئی، اس میں پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو، مرکزی رہنما جہانگیر بدر اور نوید چودھری کے علاوہ دیگر حضرات نے شرکت کی۔ اس کا اہتمام میاں خالد سعید نے کیا تھا۔ پیر کے روز پیپلزپارٹی لاہور کی طرف سے صدر ثمینہ گھرکی کی رہائش پر قرآن خوانی ہوئی اس میں لاہور کے تمام عہدیداروں کے علاوہ حاجی عزیز الرحمن چن، الطاف قریشی اور صغیرہ اسلام نے بھی شرکت کی اور مرحوم کی روح کو ایصال ثواب کیا گیا اس سے پہلے شعبہ خواتین کی طرف سے فائزہ احمد(ایم پی اے) نے اہتمام کیا، خواتین کی بھاری تعداد شریک تھی، مجموعی طور پر مخدوم امین فہیم کی پارٹی اور ملکی خدمات کو سراہا گیا اور قرار دیا گیا کہ وہ وفادار، وضعدار اور حلیم الطبع انسان تھے جو ہر آزمائش پر پور اترتے اور طوفانوں میں بھی جماعت کے ساتھ رہے، ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا پُر ہونا مشکل ہے اور پارٹی کے لئے ان کی وفات نقصان دہ ہے۔

لاہور اس وقت ترقیاتی کاموں کی زد میں میں ہے، قرطبہ چوک سے لبرٹی تک سگنل فری بنانے کا کام تیزی سے جاری ہے جو بڑی حد تک مکمل ہو چکا، اس کی تکمیل کے لئے کچھ دِنوں کی توسیع بھی دی گئی ہے،اسی طرح اقبال پارک کا ترقیاتی منصوبہ منظور شدہ تو ہے، لیکن اس پر اس رفتار سے کام شروع نہیں ہوا، جس کی توقع کی جا رہی تھی، تاہم وزیراعظم نے ہدایت کر دی ہے۔

اورنج لائن ریلوے پر بھی کام جاری ہے، جس کا آغاز تو ٹھوکر نیاز بیگ کی طرف سے کیا گیا ہے تاہم اس کے لئے داروغہ والا روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی تک بھی کام جاری ہے، اس منصوبے کی زد میں تاریخی عمارتیں، کچی آبادیاں اور کئی بلڈنگیں بھی آ رہی ہیں، حکومت کی طرف سے ان کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے، مالکان کے مطابق یہ معاوضہ آٹے میں نمک کے برابر نہیں اور مارکیٹ کے حوالے سے نہیں ہے۔ دوسری طرف سول سوسائٹی کے حضرات نے احتجاج شروع کر رکھا ہے کہ تاریخی یادگاروں کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ کچی آبادی والے سر چھپانے کی جگہ چھن جانے کے خوف سے سراپا احتجاج ہیں۔

ترقیاتی کاموں کے پورے شہر میں شروع ہونے کی وجہ سے پورے شہر کا ماحول خراب ہو گیا اور گرد کی زد میں ہے، شہر پر مٹی کی ایک باریک سی تہ نظر آتی ہے،جو لوگوں کی سانس کی نالیوں کے ذریعے پھیپھڑوں،گلے اور چھاتی کو نقصان پہنچا رہی ہے ، چینی کمپنی نے جو مقامی ٹھیکیدار شامل کئے ان کو کسی کی کوئی پرواہ نہیں، ایک اسفالٹ پلانٹ وحدت روڈ پر سڑک کے کنارے گنجان آبادی میں لگا دیا گیا ہے، اس کے ساتھ ہی فروٹ اور سبزی منڈی اور اشیاء خوردو نوش کی پوری مارکیٹ اور بیکریاں ہیں، گرد گھروں میں داخل ہو جاتی اور یہ اشیاء خوردو نوش آلودہ ہو رہی ہیں، کاروبار ٹھپ اور گزرنا محال ہو چکا ہے۔ علامہ اقبال ٹاؤن اور وحدت روڈ کے مکینوں اور تاجروں نے احتجاج کیا، جگہ جگہ احتجاجی بینرز لگائے گئے ہیں، ٹھیکیدار کو کوئی فکر نہیں۔ سڑک بھی بجری اور مٹی سے اٹی رہتی ہے۔ اب اس پر چھڑاؤ شروع کر دیا گیا، جس سے کیچڑ ہو جاتا ہے اور گاڑیاں بھی سلپ ہوتی ہیں، فضا پہلے ہی دھوئیں سے آلودہ تھی اب مزید آلودہ ہو گئی ہے۔

وحدت روڈ کی جدید آبادی مصطفی ٹاؤن اور اقبال ٹاؤن تک مویشیوں کی زد میں ہیں، بھینسیں کھلے عام پھرتی ہیں، گرین بیلٹ چراگاہ بن چکی ہے، کوئی پُرسان حال نہیں۔

مزید : ایڈیشن 1