عوامی جمہوری اتحاد تحریک انصاف میں ضم ہوگئی

عوامی جمہوری اتحاد تحریک انصاف میں ضم ہوگئی

باباگل سے

تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے گزشتہ ہفتے پشاور میں طویل پڑاؤ ڈالا انہوں نے پشاور میں پریس کانفرنس کی اگلے روز چارسدہ میں بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا جبکہ اتوار کے روز وہ صوابی میں سونامی کے سامنے کھڑے تھے جہاں حکومت میں شامل عوامی جمہوری اتحاد با ضابطہ طور پرتحریک انصاف میں ضم ہوگئی پشاور پریس کانفرنس سے لیکر صوابی کے آخری جلسہ تک عمران خان کی تقاریر میں یکسانیت پائی گئی اوروہی باتیں دہرائی گئیں جو پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا کے عوام اڑھائی برسوں سے سنتے آرہے ہیں عمران خان وفاق سمیت دیگر صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر تنقید اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی تعریفیں کرتے رہے عمران خان نے کہا کہ باقی جماعتیں کئی باریاں لے چکی ہیں مگر اب خیبر پختونخوا میں اگلی باری ہماری ہوگی انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے مرحوم رہنما اعظم ہوتی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایزی لوڈ سمیت تمام چوروں کا احتساب ہوگا انہوں نے دعوی کیا کہ پیسکو ہمارے حوالے کیاجائے ہم بجلی سستی کرینگے اورلوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرینگے ہم میٹرو بنانے کی بجائے عوام کاپیسہ عوام پرخرچ کرینگے اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ نظر انداز کرنا سراسر ظلم ہے حکومت بجلی کے معاملات ٹھیک کرنے میں ناکام رہی ہے کیونکہ حکومت کے پاس اصل افراد نہیں ہیں اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ پیسکو کو ہمارے حوالے کردے ہم خیبر پختونخوا میں بجلی سستی کرینگے اور لوڈشیڈنگ بھی ختم کرائینگے انہوں نے حسب روایت جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن پر سخت تنقید کی اور کہا کہ مولانا صاحب ہرحکومت کا حصہ ہوتے ہیں عمران خان نے اپنے صوبے میں امن وامان کی صورتحال کو مثالی قرار دیا اور اس کا کریڈٹ اپنی صوبائی حکومت کو دیتے رہے۔

عمران خان جس وقت خیبر پختونخوا میں امن وامان کے بلند وبانگ دعوئے کررہے تھے عین اسی وقت دہشتگردوں نے شہر کے بارونق بازاروں میں دن دیہاڑے ایک معروف مذہبی شخصیت سید امداد حسین جعفری کی ٹارگٹ کلنگ کر کے عمران خان کے دعوؤں کی نفی کردی سید امداد حسین جعفری کے بیہمانہ قتل کے پندرہ منٹ بعد پشاور کی مختلف سٹرکیں احتجاجاً بندہونا شروع ہوگئیں اوردیکھتے ہی دیکھتے پورا پشاور احتجاج کے اثرات کی زد میں آگیا گردونواح میں کئی کلو میٹر تک ٹریفک جام ہوگئی اگلے روز جب سید امداد جعفری کی نماز جنازہ اداد کی گئی اس میں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی کہ پشاور کے باسیوں نے اس اجتماع کو حضرت مولوی جی اور بشیر بلور کے جنازے کے بعد تیسرا بڑا اجتماع قرار دیا سید امداد حسین جعفری کے قتل کی ایف آئی آر کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ میں درج کرائی گئی جس میں مقتول کے بھائی نے صوبائی حکومت کو اس قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے جواز پیش کیا کہ چونکہ صوبائی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں ناکام رہی اور مضافات میں دہشتگردوں کے مراکز کیخلاف کسی قسم کا فیصلہ کن یا نتیجہ خیز اپریشن نہیں کیا جاسکا جسکی وجہ سے دہشتگرد آزاد اور عوام محصور ہیں

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ 2001 میں جب خیبر پختونخوا میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت معرض وجود میں آئی تو ان کے 5 سالہ دورحکومت میں صوبے میں ایک مصنوعی امن قائم رہا اور اس وقت کی حکومت اس نام نہا د امن کو مثالی قراردے کر اپنی تعریفیں کرتی نہیں تھکتی نہیں تھی مگر یہ 5 سال گزرنے کے بعد یہ خوفناک عقدہ نکلا کہ ان 5 برسوں کے دوران دہشتگرد اپنے آپ کو مسلح اورمنظم کرتے رہے سوات اور دیگرعلاقوں میں کئی کئی کلو میٹرطویل سرنگیں بناتے رہے ہیں اورزیر زمین اپنے آپ کو ایک طاقت اور قوت بنانے میں مصروف رہے اور حکومت کے خاتمے کے فوراً بعد یہ دہشتگرد ایک خوفناک بلا کی طرح ابھر کر سامنے آ گئے اب ایک مرتبہ پھر خیبرپختونخوا میں ایک ایسا ہی نام نہاد امن قائم ہے جس کے مستقبل میں سامنے آنے والے کربناک نتائج سے لوگ ابھی سے خوفزدہ ہیں۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پشاور شہر کے اندورن اور مضافاتی علاقے خطر ناک دہشتگردوں سے بھرے پڑے ہیں ان کی تعداد اور ان کے پاس موجود اسلحہ کے باعث وہ کسی بھی وقت پشاور کے امن کو تہہ وبالا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں مگر یہ دہشتگرد 2001 کی طرح اب 2018 تک کوئی بڑی کاروائی کرنے کی بجائے اپنے آپ کو منظم اور مزید مسلح کرنے میں مصروف ہیں اور موجودہ حکومت کے صوبائی ومرکزی قائدین اس امن کو مثالی قرار دیتے رہے ہیں تحریک انصاف کے قائد عمران خان کراچی میں رینجرز کی کارکردگی کو شاندار قرار دیتے ہوئے وہاں قیام امن کا سہرا ان کے سر سجاتے ہیں جو حق بجانب ہے مگر خیبر پختونخوا کے عوام جب اپنے صوبے میں ملٹری اپریشن کا مطالبہ کرتے ہیں تو اسے نظر انداز کردیا جاتا ہے یہ حقیقت ہے کہ خیبرپختونخوا کی عوام کی بھاری اکثریت سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر فوجی اپریشن اور ملٹری کورٹس کے قیام کے حق میں ہے مگر عمران خان خیبرپختونخوا میں کسی قسم کے ملٹری اپریشن کے حق میں نظر نہیں آتے جو کہ معنی خیز ہے بہر حال عمران خان کی پشاور موجودگی کے دوران پیسکو کے سینکڑوں ملازمین نے طویل دورانئیے کی ہڑتال کی ان کی ہڑتال واپڈا کی نجکاری کے فیصلے کیخلاف تھی کئی دنوں تک پیسکو ملازمین مظاہرے کرتے رہے اوروفاقی حکومت کے خلاف نعرہ بازی ہوتی تھی اس دوران دفاتر کی بھی تالہ بندی کی جاتی صارفین کو مزید مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا بالا آخر جمعہ کے روز واپڈا کی نجکاری کیخلاف حکومت کی یقین دہانئی پر یہ ہڑتال ختم کردی گئی ۔

مزید : ایڈیشن 1