حکومت توانائی صحت تعلیم کیلئے پنگمی بنیادوں پر کام کر ہی ہے،گورنر پنجاب

حکومت توانائی صحت تعلیم کیلئے پنگمی بنیادوں پر کام کر ہی ہے،گورنر پنجاب

 فیصل آباد(بیورورپورٹ)گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ نے کہا ہے کہ حکومت توانائی‘ صحت‘ تعلیم اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہے تاکہ مقامی سطح پر عام لوگوں کے معیار زندگی میں اضافہ کیا جا سکے۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے اقبال آڈیٹوریم میں ربیع فیسٹیول میں ڈائس بزنس مقابلوں کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ حکومت سنبھالتے وقت ہمیں توانائی‘ دہشت گردی اور بلوچستان میں امن و امان کے پہاڑ جیسے مسائل کا سامنا تھا تاہم حکومت کی مدبرانہ حکمت عملی اور تمام سیاسی جماعتوں کی غیرمتزلزل حمایت سے حالات میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج حکومت اس حوالے سے مطمئن ہے کہ تمام ریاستی ادارے اور سیاسی جماعتیں ضرب عضب کی کامیابی کیلئے یکساں موقف رکھتی ہیں جس کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان یونیورسٹی کیمپس میں زیرتعلیم ہوتے ہوئے مستقبل میں اپنے پیشہ وارانہ خدوخال اور اہداف کا ابھی سے تعین کر لیں تاکہ گریجوایشن کے فوری بعد اپنے آئیڈیازکوحقیقت کا پیرہن عطاء کرکے ملک میں علم کی بنیاد پر معیشت کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ گورنر پنجاب نے پارلیمنٹرینز سمیت اپنی ذمہ داریوں کا حلف اُٹھانے والے تمام افراد اور عہدیداروں پر زور دیا کہ انہیں حلف میں شامل وعدے کو یاد رکھتے ہوئے ملک میں عام آدمی کی آسانیوں کیلئے جہد مسلسل سے کام لینا ہوگا۔ ڈائس پروگرام کیلئے اپنی مکمل حمایت اور سپورٹ کا یقین دلاتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ وہ ایسے تمام آئیڈیاز اور بزنس پلانز کے حامی ہیں جن سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اخوت فاؤنڈیشن غریب اور ضرورت مند خاندانوں کواپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے مثالی کام کر رہی ہے لہٰذا کاروباری اداروں اور صاحب ثروت افراد کو بھی دھرتی کا قرض اُتارتے ہوئے مزید ضرورت مند افراد کی معاشی بہتری کیلئے اپنا کردار اد اکرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی فوڈ مارکیٹ میں ضرورت کے مقابلے میں غذائی اجناس کی وافر فراہمی کی وجہ سے برآمدات میں کمی سے کسان سمیت آڑھتی اور کاروباری حلقوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے جس کیلئے وزیراعظم پاکستان نے 341ارب روپے کے کسان پیکیج کے ذریعے محنتی اور غریب کسانوں کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی ہے۔ گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مانچسٹر فیصل آباد معیشت میں ریڑھ کی مضبوط ہڈی تصور کیا جاتا ہے لہٰذا اس شہر کی جامعات اور کاروباری اداروں کے مابین روابط کو مزید مضبوط کرکے اس کی اہمیت کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقراراحمد نے اپنے کہا کہ یونیورسٹی میں نموپانے والے بزنس آئیڈیاز کو انڈسٹری کی سپورٹ فراہم کرنے کیلئے یونیورسٹی ایسے پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے تاکہ تحقیق کی بنیاد پر سامنے آنے والے نئے علم اورٹیکنالوجی سے سروسز اور کاروبارکو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ جامعہ زرعیہ ماضی کی طرح اپنے تمام سب کیمپسز کو مستقبل کی جامعات کے طور پر تیار کر رہی ہے تاکہ اعلیٰ تعلیم اور ٹیکنالوجی کونچلی سطح پر عوام کی دہلیز تک پہنچایا جا سکے۔ فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس و انڈسٹری کے صدر میاں محمد ادریس نے یونیورسٹی کو مبارکباد دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کا ادارہ بزنس پلانز مقابلوں میں ہر کیٹگری سے کم سے کم 10فیصد بزنس آئیڈیازکوکاروباری سرگرمیوں کا حصہ بنائے گا۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم میاں نواز شریف بزنس کمیونٹی کی آراء کوسنجیدگی سے لیتے ہیں اور پلاننگ کمیشن آف پاکستان نے سال 2015ء کو معیشت کی بحالی کا سال قرار دیتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کو اپنا متحرک پارٹنر بنایا ہے۔ انہوں نے اختراعات کی درجہ بندی میں شامل 141ممالک میں سے پاکستان کی 131ویں پوزیشن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے میاں ادریس نے کہا کہ ملک کے ترقیاتی ایجنڈامیں اختراعات کی درجہ بندی میں کمزوری ایک بڑی رکاوٹ کی صورت میں موجود ہے جسے مضبوط اکیڈیمیاانڈسٹری تعلق سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قومی سطح پر نیشنل انوویشن پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے انڈسٹری و اکیڈیمیا روابط کو نئی بلندیوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی کامیابیوں میں حصہ دار بننا ہوگا۔پاکستان کونسل فار سائنس و ٹیکنالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر انوار الحسن گیلانی نے کہا کہ جاپان پوری دنیا میں سستے ترین خام مال کا سب سے بڑا خریدار ہے جو اپنی ٹیکنالوجی اور کاروباری مہارتوں سے ویلیو ایڈیشن کے بعد مختلف مصنوعات برآمد کرکے اربوں ڈالر کما رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنیوالے بڑے ممالک میں شامل ہوتے ہوئے زیادہ تر خام کپاس سستے داموں برآمدکر دیتا ہے جبکہ بنگلہ دیش سے ویلیوایڈیشن گارمنٹس کی درآمد پر کثیرزرمبادلہ خرچ کردیتا ہے لہٰذا ضرورت ہے کہ درآمدی کلچر کے رجحان کویکسربدلتے ہوئے برآمدات کو بڑھایا جائے۔ڈائس فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر خورشید قریشی نے کہا کہ 2007ء میں ڈائس پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے پورے ملک سے درجن بھر سائنسی اختراعات سامنے آئیں تھی جو آج بڑھ کر سینکڑوں تک پہنچ چکی ہیں جو کاروباری اور اختراعاتی کلچر کی تبدیلی کی خبر دے رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈائس آٹوموٹیو ‘انرجی اور ہیلتھ پروگرامز کی کامیابی کے بعد ان کا ادارہ زرعی یونیورسٹی کے ساتھ ڈائس ایگریکلچر جبکہ نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کے ساتھ ڈائس ٹیکسٹائل پروگرام کا آغاز کر رہا ہے۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ جلد ہی ملک میں سولر پینلز کی ڈیزائننگ اور مقامی سطح پر سستی کاروں کی مینوفیکچرنگ شروع کر دی جائے گی۔برٹش کونسل کے ڈائریکٹر ایگزیمی نیشن سروسز مسٹر مورے کیلر‘پاکستان میں جرمن سفیر مسز اینا لیپل ‘ ڈائریکٹر اورک ڈاکٹر آصف علی اور ڈاکٹر فرح ریاض نے بھی خطاب کیا۔

گورنر پنجا

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر