گوجرانوالہ فلائی اوور کی تعمیر میں کروڑوں کی خوردبرد کا انکشاف

گوجرانوالہ فلائی اوور کی تعمیر میں کروڑوں کی خوردبرد کا انکشاف

 گوجرانوالہ(بیورورپورٹ)گوجرانوالہ میں اربوں روپے کی لاگت سے بننے والے فلائی اوور کی تعمیر میں کروڑوں روپے کے سنگین گھپلوں کا انکشاف ہوا ہے بعض سرکاری افسران نے اپنا کمیشن بڑھانے کے چکر میں منصوبے کو عرصہ دراز سے تا خیر میں رکھ کر اسکی لاگت کے تخمینے کو متعدد بار ریوائز کروایا جس سے حکومتی خزانے کو بھاری اضافی بوجھ اٹھانا پڑا جبکہ فلائی اوور کی کمپیلشن کیلئے ایکوائر کردہ 66کنال رقبے کے لین دین میں بھی بڑے پیمانے پر کرپشن اور خرد برد منظر عام پر آنے لگی ہیں تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت نے عرصہ دراز پہلے عز یز کراس چوک پنڈی بائپاس پر ٹریفک کے بڑھتے ہوئے اوور فلو اور اسے رواں دواں رکھنے کی غرض سے 2ارب کی لاگت سے ایک جاررویہ اوور ہیڈ فلائی اوور کی منظوری دی بعدازاں حکومتی فنڈنگ میں تا خیر محکمہ ہائی وے پراونشنل ،ضلعی انتظامیہ اور دیگر اداروں کی جانب سے مذکورہ پراجیکٹ التواء میں چلاگیا اور چند ماہ قبل وزیر اعلی پنجاب کی خصوصی ہدایت پر اس منصوبے کے نئے اسٹیمٹ کے مطا بق اسکی تعمیر کیلئے سوا پانچ ارب روپے منظوری دیکر اسے فنڈز بھی ریلیز کردئیے جبکہ فلائی اوور کی تعمیر کی زد میں آنے والی 66کنال کے قریب پرائیویٹ مالکان کی اراضی ،دوکانوں ،فیکٹریوں وغیرہ کو ایکوائر کرتے ہوئے 300کے قریب متاثرین کو ادائیگی کیلئے سوا2ارب روپے مختص کئے لیکن متاثرین کو ڈیل کرنے والے لینڈ ایکوزیشن اور ریونیو بورڈکے بعض افسران نے یہاں پر وسیع پیمانے پر گھپلے کرتے ہوئے متعدد ایکوائر کردہ جائیدادوں کو مڈل مین اور دلالوں کے ذریعے انکے مالکان کو انکی پراپرٹیاں بحق سرکار ضبط کئے جانے کی دھمکیاں دیکر اونے پونے خرید ا اور بہت سے املاک کو بھاری نذرانے لیکر انکی سرکاری ویلیو شیڈول سے بھی زیادہ مقرر کردیں جبکہ انکے ملبے کی قیمتوں کو بھی بڑھا چڑھا کر انکی قیمتیں مقرر کی گئی اور اس آڑ میں کرپٹ مافیا نے کروڑوں روپے کی نہ صرف کرپشن کی بلکہ ان زیادتیوں کے خلا ف آواز اٹھانے والے متاثرین کو سرکا ری ڈنڈوں سے پٹوایا جس سے ایکوائر کردہ املاک کے متاثرین کی بڑی تعداد نے عزیز کراس چوک میں ٹا ئیر جلاکر شدید احتجاجی مظاہر ہ کیا اور سٹرک کو چاروں اطراف سے بند کردیا جس سے دیگر اضلاع اور لوکل ٹرانسپورٹ آٹھ گھنٹے سے بھی زیادہ جام ہوکر رہ گئی زرائع کے مطابق لینڈ ایکوزیشن کے کئی افسران اور سٹاف ادائیگی اور جائیدادوں کی سیلز پرچیز میں کھل عام کروڑوں کی کرپشن کر رہے ہیں جبکہ سینکڑوں متاثرین نے سرکاری افسران وملازمین اس زیادتی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے راشی عناٖصر کے خلاف فی الفور قانونی کاروائی کامطالبہ کیا ہے جبکہ محکمہ ہائی وے پراونشنل اور دیگر کا کہنا ہے کہ ایکوائر کردہ رقبے کی ویلیو محکمہ بورڈ آف ریونیو لاہور لگاتا ہے اور وہی کرتا دھرتا ہے وہ اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر