جناح ہسپتال ،نرسنگ اسکول کی سپرنٹنڈنٹ نے ڈائریکٹر کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے

جناح ہسپتال ،نرسنگ اسکول کی سپرنٹنڈنٹ نے ڈائریکٹر کے احکامات ہوا میں اڑا ...

کراچی (اسٹاف رپورٹر) شہر کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے اسکول آف نرسنگ کی چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ کی من مانیاں عروج پر پہنچ گئیں ۔ڈائریکٹر جنال اسپتال کے جاری کردہ لیٹر کو ردی میں ڈال دیا ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ جناح اسپتال کے ڈائریکٹر نے دو غریب طلباء کی موصول ہونے والی درخواست کو اسکول آف نرسنگ کی چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ کو بھیجی تاکہ مذکورہ طلباء کو اسکول آف نرسنگ میں داخلے مل سکیں مگر چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ نے ڈائریکٹر جناح اسپتال کے موصول ہونے والے لیٹر کو ردی میں ڈالتے ہوئے ان غریب طلباء کو داخلے نہیں دیئے اور نہ ہی ان کا نام لسٹ میں شائع ہونے دیا جبکہ ان طلباء کو پوری امید تھی کہ ان کا مستقبل تاریک نہیں ہوگا لیکن نہ ہونے والے داخلوں سے اب وہ ذہنی طور پر پریشان ہو کر رہ گئی ہیں کہ ایسی کون سی وجہ ہے کہ جس سے چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ ان کے داخلے نہیں ہونے دے رہی ہیں جس پر انہوں نے کمیونٹی کی غیر منافع بخش این جی او کو مدد کی اپیل بھی کی لیکن کوئی پیش رفت نہ ہوسکی جبکہ روزنامہ پاکستان کو موصول ہونے والی درخواست میں اس بات کا مکمل تذکرہ کیا گیا کہ انہوں نے دو ماہ قبل اسکول آف نرسنگ میں داخلے کے تمام کاغذات جمع کروائے جس پر انہیں ایڈمٹ کارڈ بھی جاری کیا گیا جس سے انہیں امید ہوئی کہ انہیں داخلہ مل جائے گا ۔لیکن آئندہ چند ہی دنوں میں لگنے والی لسٹوں میں ان غریب طلباء کا نام نہیں آیا جس پر ان کی آس ٹوٹ گئی اور وہ مایوس ہوگئیں ۔اس ضمن میں روزنامہ پاکستان کو تفصیلات بتاتے ہوئے چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ اسکول آف نرسنگ جناح اسپتال نے کہا کہ انہیں ڈائریکٹر کا جاری کردہ لیٹر موصول ہوا ہے لیکن یہ ان کا اختیار ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کسی کو داخلہ دے سکتی ہیں ۔ان داخلوں کے معاملات میں ڈائریکٹر جناح اسپتال کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔یہاں کی انچارج میں ہوں ۔ان طلباء کو فی الوقت داخلہ نہیں مل سکتا ہے ۔اگر ان کو داخلہ لینا ہے تو مزید انتظار کرنا ہوگا انہوں نے یہ بھی کہا کہ تاحال سیٹس خالی نہیں ہیں اگر سیٹس خالی ہوئیں تو داخلے کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے ۔جس پر اسپتال ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ دنوں چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ نے 3طلباء کو داخلے دیئے ہیں ۔جبکہ وہ یہ کہہ چکی ہیں کہ ان کے پاس سیٹیں مکمل ہیں پھر یہ مزید تین داخلے کیسے ہوگئے ؟ اسپتال ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ وہ یہ داخلے رشوت کے عوض کررہی ہیں جو کہ 80ہزار فی داخلہ بتائی جاتی ہے جس کا انکشاف ان کے اسکول آف نرسنگ کے عملے اور موجود نرسز نے بھی کیا ہے ۔اس حوالے سے موقف جاننے کے لیے متعدد بار ایگزیکٹو ڈائریکٹر انیس الدین بھٹی اور سیمی جمالی کو فون کیا گیا مگر انہوں نے فون رسیو نہیں کیا اور نہ ہی اپنے دفتر میں موجود پائے گئے مگر ڈپٹی ڈائریکٹر جاوید اختر جمال نے فون رسیو کیا اور یقین دہانی کرائی تاہم ان کی طرف سے بھی کوئی کارروائی تاحال عمل میں نہیں لائی گئی ہے ۔

مزید : کراچی صفحہ آخر