روسی طیارے کی تباہی ، کشیدگی بڑھ گئی ،داعش کے حامیوں نے پیٹھ میں چھرا گھو نپا،روس،دفاع کا حق ہے،ترکی

روسی طیارے کی تباہی ، کشیدگی بڑھ گئی ،داعش کے حامیوں نے پیٹھ میں چھرا گھو ...
روسی طیارے کی تباہی ، کشیدگی بڑھ گئی ،داعش کے حامیوں نے پیٹھ میں چھرا گھو نپا،روس،دفاع کا حق ہے،ترکی

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک )ترکی کی جانب سے روسی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے،روس کا کہنا ہے کہ ترکی نے پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے جبکہ ترکی کا کہنا ہے کہ اسے دفاع کا حق حاصل ہے ، اقوام متحدہ اور امریکہ نے کشیدگی میں کمی پر زور دیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق روس کے صدر ولادی میر پوتن نے طیارے کی تباہی کے واقعے پر اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ ’ہم اس قسم کی بدتہذیبی کو برداشت نہیں کریں گے۔‘سرکاری ٹی وی پر خطاب میں صدر پوتن نے کہا کہ ہم آج کے المناک واقعے کا تفصیلی تجزیہ کریں گے اور روس اور ترکی کے تعلقات سمیت اس کے معنی خیزنتائج برآمد ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے حامیوں کی جانب سے ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا ہے۔خیال رہے کہ ترکی کے ایف سولہ طیاروں نے ترکی اور شام کی سرحد پر روس کا اٹیک جنگی جہاز ایس یو 24 مار گرایاتھا۔

طیارے کی تباہی کی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارے کا ملبہ شام کے سرحدی صوبے لاذقیہ کی حدود میں گرا جبکہ دو پائلٹ پیراشوٹ کی مدد سےزمین پراترے جن میں سے ایک پائلٹ کے بارے میں غیر مصدقہ اطلاعات ہیںکہ وہ شام میں ترکمان فوجیوں کے قبضے میں ہے۔

فضائی حدود کی خلاف ورزی کے حوالے سے نیٹو کے وضع کردہ جنگی قوانین کے مطابق فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی طیارے کو تین مرتبہ خبردار کیا جاتا ہے اگر تین مرتبہ خبردار کرنے کے باوجود طیارہ اپنا راستہ نہیں بدلتا تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

علاوہ ازیں اقوام متحدہ میں ترکی کے سفیر نے سکیورٹی کونسل کو خط میں کہا ہے کہ دو نامعلوم جنگی جہاز ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔دونوں جہازوں کو ترکی کی فضائی حدود میں پانچ منٹ کے وقت میں دس بار متنبہ کیا گیا اور ایمرجنسی چینل کے ذریعے ان سے ترکی کی فضائی حدود سے نکل جانے کا کہا گیا۔خط میں کہا گیا ہے کہ دونوں جہازوں نے وارننگ کو نظر انداز کیا اور پھر ایک جہاز ترکی کی فضائی حدود کے 2.19 کلومیٹر اندر اور دوسرا 1.85 کلومیٹر اندر تک پہنچ گئے۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ 07:24:05 جی ایم ٹی پر پیش آیا۔ترکی کا مزید کہا ہے کہ اس فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد ایک جہاز واپس شام میں داخل ہوگیا جبکہ دوسرے جہاز کو ترکی کے ایف سولہ طیارے نے ترکی کی فضائی حدود کے اندر مار گرایا۔ترکی کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ معلومات کے مطابق گرائے گئے روسی ایس یو 24 کے دونوں پائلٹ زندہ ہیں ترکی کی فوج ان کی تلاش کر رہی ہے۔

دوسری جانب روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی جہاز شام کی فضائی حدود ہی میں تھا۔ ’ڈیٹا کے تجزیے سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی گئی جبکہ روسی صدر ویلادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ روسی جنگی جہاز 19685 فٹ کی بلندی پر تھا اور اس کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔روسی صدر کا کہنا ہے کہ روسی ایس یو 24 شام کی فضائی حدود میں شام اور ترکی کی سرحد سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا جب اس کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ جہاز سرحد سے چار کلومیٹر دور شام میں گرا۔

ترکی کے وزیراعظم دوائود اوگلو نے روسی جہاز کو مار گرانے کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی ’ہماری فضائی حدود یا زمینی سرحدوں کی خلاف ورزی کرے اس کے خلاف اقدام کرنا قومی ذمہ داری ہے۔‘

واضح رہے کہ فضائی خلاف ورزیوں کے بعد اکتوبر میں بھی ترک جنگی طیاروں نے شام کی سرحد کے قریب ملکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ایک بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے کو مار گرایا تھا۔

جبکہ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ’ترکی کو اپنے اور اپنی فضائی حدود کے دفاع کا حق ہے۔‘پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکہ اس وقت حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا کہ مار گرائے جانے والا روسی طیارہ کس ملک کی فضائی حدود میں موجود تھا۔

ترکی کے وزیر برائے توانائی کا کہنا ہے کہ ترکی کی جانب سے روسی جنگی جہاز مار گرانے کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان توانائی کے حوالے سے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔جبکہ روسی وزیر خارجہ نے ترکی کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ ان کا یہ دورہ بدھ سے شروع ہونا تھا۔انھوں نے روسی شہریوں سے ترکی کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردی کے واقعے کا خدشہ جتنا مصر میں ہے اتنا ہی ترکی میں ہے۔

روسی صدر ویلاوی میر پیوتن نے کہا ہے کہ ’یہ بات واضح ہے کہ روسی پائلٹس ترکی کے لیے خطرہ نہیں تھے۔ وہ داعش کے خلاف شمالی لاذقیہ کے پہاڑوں میں آپریشن میں حصہ لے رہے تھے جہاں شدت پسندوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ یہ وہ شدت پسند ہیں جو زیادہ تر روس سے آئے ہوئے ہیں۔‘

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں