14سے 18 سال کے لڑکوں کی 24 خطرناک شعبوں میں ملازمت ممنوع قرار، خلاف ورزی پر جرمانہ، 5 سال تک قید ہوگی

14سے 18 سال کے لڑکوں کی 24 خطرناک شعبوں میں ملازمت ممنوع قرار، خلاف ورزی پر ...
14سے 18 سال کے لڑکوں کی 24 خطرناک شعبوں میں ملازمت ممنوع قرار، خلاف ورزی پر جرمانہ، 5 سال تک قید ہوگی

  


لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 14 سے 18 سال کے لڑکوں کی 24خطرناک شعبوں میں ملازمت کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اخبار روزنامہ جنگ کے مطابق Restriction of Employment of Children نامی ایک جو ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 1991ءکی جگہ لے گا، کے ڈرافٹ کی وزیراعلیٰ پنجاب نے منظوری دے دی ہے اور اب یہ کیبنٹ کمیٹی میں پیش کردیا گیا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت 14 سے 18 سال کے لڑکوں کی کارپٹ ویونگ انڈسٹری، سیمنٹ مینوفیکچرنگ، سوپ مینو فیکچرنگ، چمڑے کی ٹینریز، بلڈنگ اینڈ کنسٹرکشن، پنسل بنانے والے کارخانے سمیت دیگر خطرناک شعبوں میں ملازمت کو ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔

نئے قانون کے مطابق ایسے لڑکوں کو ملازمت دینے والے فیکٹری مالکان کو 10 سے 50 ہزار تک جرمانہ اور 5 سال تک قید بامشقت کی سزا ہوسکتی ہے، اس کے علاوہ 14 یا اس سے کم عمر کے بچوں کو کسی بھی جگہ ملازمت دینے پر پابندی عائد ہوگئی ہے اور 14 سال سے کم عمر بچوں کو نوکری دینے پر کارخانہ، فیکٹری مالکان کو 3 سے 6 ماہ کی قید کی سزا ہوگی۔ اخبار کے مطابق بیورو آف سٹی ٹیٹکس کے تعاون سے صوبائی چائلڈ لیبر سروے شروع کردیا گیا ہے۔ منصوبے کے لئے وزیراعلیٰ نے 50 ملین روپے کی منظوری دی ہے۔ اخبار نے بتایا کہ بانڈڈ لیبر اور بھٹہ خشت پر بچوں کی لیبر اور نادار خاندانوں کی کفالت کے لئے وزیراعلیٰ نے 5.2 ارب روپے کی منظوری دی ہے۔

مزید : لاہور