نااہل لائافسر عدالتی وقت ضائع کرتے ہیں،سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کو طلب کرلیا

نااہل لائافسر عدالتی وقت ضائع کرتے ہیں،سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کو طلب ...
نااہل لائافسر عدالتی وقت ضائع کرتے ہیں،سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کو طلب کرلیا

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل آفس کے لائافسروں کی کارکردگی ناقص قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ نااہل لائافسروں کی وجہ سے مقدمات کے فیصلے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، عدالت نے لائافسروں کی ناقص کارکردگی کی وضاحت کیلئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نوید رسول مرزا کو تیس نومبر کیلئے طلب کر لیا۔سپریم کورٹ رجسٹری میں مسٹرجسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے محکمہ مال کے تین افسروں محمد جمیل، لیاقت علی اور محمد اعظم کی بطور تحصیلدار ترقی کی درخواستوں پر سماعت شروع کی تو عدالت نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقار چودھری کو عدالت کا سابق حکم پڑنے کی ہدایت کی، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کچھ دیر فائل سے عدالتی حکم تلاش کرتے رہے تاہم عدالتی حکم فائل سے نہ ملنے پر انہوں نے بنچ کو آگاہ کیا کہ وہ دو دن چھٹی پر تھے، انہیں آج ہی کیس کی فائل ملی ہے جس پر جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو اس موقف سے کوئی سروکار نہیں کہ آپکو فائل ملی یا نہیں، پتہ نہیں کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس میں کیسے لائافسر رکھے ہوئے ہیں، اکثر دیکھا ہے کہ لائافسر مقدمات کی بغیر تیاری کے ہی عدالتوں میں پیش ہو جاتے ہیں، لائافسروں کی نااہلی کی وجہ سے سے عدالتوں کا وقت ضائع ہوتا ہے اور عدالتوں کو فیصلے کرنے میں تاخیر ہوتی ہے، سپریم کورٹ ایڈووکیٹ جنرل آفس کے لائافسروں کی اس بے حسی کو برداشت نہیں کرے گی، عدالت نے لائافسروں کی ناقص کارکردگی کی وضاحت کیلئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نوید رسول مرزا کو وضاحت کے لئے طلب کرتے ہوئے مزید سماعت 30 نومبر پر ملتوی کردی۔

مزید : لاہور