سپریم کورٹ:رشوت نہ دینے پر عدالتی اہلکار کے قاتل سابق کانسٹیبل کی اپیل خارج،سزا برقرار

سپریم کورٹ:رشوت نہ دینے پر عدالتی اہلکار کے قاتل سابق کانسٹیبل کی اپیل ...
سپریم کورٹ:رشوت نہ دینے پر عدالتی اہلکار کے قاتل سابق کانسٹیبل کی اپیل خارج،سزا برقرار

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)سپریم کورٹ نے پولیس ناکے پر عدالتی اہلکار کو رشوت نہ دینے کی وجہ سے گلا دبا کر قتل کرنے والے سابق کانسٹیبل کی عمر قید کے خلاف درخواست مسترد کر دی۔سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں مسٹرجسٹس اعجاز احمد چودھری کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سابق کانسٹیبل قیصر رفیق کی عمر قید کے خلاف درخواست پر سماعت کی، ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ملزم کے خلاف عدالتی اہلکار عزادار حسین کو قتل کرنے کے وقوعہ کا کوئی گواہ نہیں ہے، ملزم کے خلاف بلا جواز اس مقدمے میں ملوث کیا گیا، ٹرائل کورٹ نے میرٹ سے ہٹ کر عمر قید کی سزا سنائی ہے، ایڈیشنل پراسکیوٹر جنرل مظہر شیر عوان نے پولیس کی تفتیشی رپورٹ جمع کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملزم قیصر نے ساتھی اہلکاروں مبشر شہزاد اور اویس کے ساتھ مل کر عدالتی اہلکار کوقصور میں ناکے پر روک کر رشوت مانگی، عدالتی اہلکار نے جب رشوت مانگنے کی اپنے جج کوشکایت کرنے کا کہا تو قیصر رفیق نے عدالتی اہلکار کا گلادبا دیا جس سے وہ جاں بحق ہوا، فاضل بنچ نے دونوں طرف سے دلائل سننے کے بعد مجرم کی عمر قید کے خلاف درخواست مسترد کر دی۔

مزید : لاہور