وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف کی خدمت میں

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف کی خدمت میں
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف کی خدمت میں

  



اللہ کی خاص کرم نوازی اور عنایت ہے کہ 2016ء میں پہلے عمرہ اور پھر حج کی سعادت حاصل ہوئی۔ حج کے دوران جوبھی قلبی کیفیت رہی۔ زیارت مدینہ اور مکہ کے حوالے سے بھی اپنے احساسات، جذبات لکھنے کا ارادہ ہے اور انشاء اللہ چند دنوں میں تفصیلی بات ہوگی۔ لیکن آج ہم حج 2016ء کے والے سے اپنی چند گزارشات وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس احساس کے ساتھ کہ آنے والے دنوں میں حج انتظامات میں مزید بہتری لائی جائے گی۔

(1)۔سب سے پہلے تو ہم وفاقی وزیر سردار یوسف اور ان کی پوری ٹیم کو حج کے بہتر انتظامات کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ساتھ ہی بقول شاعر:

خوگر حمد سے تھوڑا سا گلا بھی سن لے

(2)۔مدینہ میں رہائش کا انتظام بلاشبہ بہت اعلیٰ تھا لیکن کھانے کی تقسیم مناسب انداز میں نہ تھی یعنی لمبی لمبی قطاروں میں لگ کر فقیروں کی طرح کھانا دیا جاتا تھا۔ ہم نے خیر اس کا حل نکال لیا تھا یعنی یا ہم سب سے پہلے کھانے کے لے پہنچ جاتے یا پھر آخر میں۔ تو یوں اس ذلت سے اپنے آپ کو بچا لیا۔

(3)ہوٹل ضرور اچھے تھے لیکن انتظامیہ کا رویہ انتہائی نا مناسب اور تضحیک آمیز تھا۔ یوں دکھائی دیتا تھا جیسے حاجیوں نے یہ کمرے مفت میں لے رکھے ہیں کبھی کمروں سے چائے بنانے والی کیٹل اٹھا لینا اور کبھی ٹیبل لیمپ اٹھا لینا۔ اس کی واضح مثالیں ہیں:

(4)حاجیوں کے قیام کا دورانیہ چالیس سے پنتالیس دن رکھنا بہت مناسب ہے لوگ اس پر خوش تھے۔ لیکن مدینہ کا قیام صرف آٹھ یا نو دن تھا جو انتہائی کم تھا۔ جس سے لوگ نا خوش تھے۔ یہ دورانیہ کم از کم پندرہ دن کا ہونا چاہیے تھا۔

(5)۔کھانے کی تقسیم کے نظام میں بد نظمی تھی جس پر متعلقہ نمائندوں کو توجہ دلائی لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی۔

(6)کھانے کا معیار اور Menue مناسب تھا لیکن گوشت کے ساتھ ساتھ دالوں کا بھی اہتمام ہونا چاہیے تھا۔ لوگ دال کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے ۔ اسی طرح جو سیب اور مسمی دیئے گئے وہ بعض اوقات سائز میں بہت چھوٹے ہوتے تھے۔

(7)۔مکہ میں بھی رہائش گاہیں مناسب تھیں اور ٹرانسپورٹ کا نظام بھی مناسب تھا لیکن اگر حرم سے ایک دو کلو میٹر کے فاصلے پر رہائش ہوتی تو لوگوں کو حرم میں اور زیادہ وقت گزارنے کا موقع میسر آتا کیونکہ مکہ میں اصل مزہ حرم کے ساتھ ہی ہے اور بار بار کھانے وغیرہ کے لئے ہوٹل واپس آنا اور پھر نمازوں کی ادائیگی کے لئے واپس حرم جانا ایک مشکل مرحلہ ہے کیونکہ اگر آپ ہوٹل میں ہی یا اس کے پاس نماز ادا کریں تو حج کا مزہ نہیں رہتا۔

(8)موبائل سم کے حصول کے لئے لوگوں کو سارا سارا دن دفتروں کے باہر قطار میں لگنا پڑا یا پھر 30ریال والی سم بلیک میں 100ریال میں حاصل کرنا پڑی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آئندہ سال پلان بناتے وقت ہر حاجی کو ایک سم بھی لازمی دی جائے جو کہ صرف حج کے 43/40دن کے لئے کار آمد ہو۔

(9)۔عام دنوں کے لئے تو ٹرانسپورٹ موجود تھی لیکن حج کے دنوں میں یہ سہولت بند کر دی گئی۔ جس کی وجہ یا تو حاجی اپنے ہوٹلوں میں بند ہو کے رہ گئے یا پھر انہیں سویا دو سوریال خرچ کر کے حرم میں نماز کی ادائیگی کے لئے جانا پڑا۔ ٹیکسی والوں کی اس لوٹ مار کے خلاف بھی سعودی حکومت سے بات کرنی چاہیے اور کوئی متبادل انتظام یا ٹیکسی والوں کو ان ایام میں حاجیوں سے طے شدہ کرایہ وصول کرنے کا پابند بنانا چاہیے عام دنوں میں جو ٹیکسی 20/15ریال میں دستیاب ہوتی ہے وہ 200سے 300ریال تک وصول کرتی رہی ہے۔ جس سے نہ صرف حاجیوں پر اضافی بوجھ پڑا بلکہ سعودی حکومت کا امیج بھی خراب ہوا۔اب آئیں ذرا حج کے پانچ دنوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

(10)۔منی میں رہائش کا انتظام مناسب تھا اور گزشتہ سال پیش آنے والے واقعہ کی وجہ سے مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کر نے کی وجہ سے کنکریاں مارنے کے حوالے سے کوئی خاص تکلیف نہیں ہوئی۔البتہ راستہ بھول جانے والوں کے لئے عربی زبان نہ جاننے کی وجہ سے اور سعودی پولیس اور انتظامیہ کے افراد کا اردو یا انگریزی نہ سمجھنے کی وجہ سے مشکلات رہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اس مقصد کے لئے مزید خدام حجاج کی تعیناتی کی ضرورت ہے۔

(11)حج کا آغاز8ذوالحج کو نماز ظہر سے منیٰ میں ہوتا ہے جبکہ 7ذوالحج کی رات کو ہی حجاج کو منیٰ میں پہنچا دیا گیا۔ حاجیوں نے 7ذوالحج کی رات کو کھانا کھایا اور اگلے دن 8ذوالحج رات کو کھانا دیا گیا یعنی ٹھیک 24گھنٹے کے بعد حالات انہیں توجہ بھی دلائی گئی کہ بھلے ایک ہی وقت کھانا دیں لیکن دوپہر کو دے دیں۔لیکن کسی نے توجہ نہ دی۔ اسی طرح کھانے کی تقسیم کے دوران بھی بد نظمی دیکھنے میں آئی جس کے ذمہ دار بھی صرف کھانا تقسیم کرنے والے تھے یعنی کبھی لوگوں سے کہا جاتا کہ آپ خیمے میں چلیں وہیں کھانا آئے گا اور کبھی کچن کے باہر ہی تقسیم کرنا شروع کردیتے۔

(12)۔اسی طرح منیٰ سے عرفات روانگی کے لئے بھی ٹرانسپورٹ کے انتظام میں بد نظمی دیکھنے میں آئی یعنی اگر گاڑیاں دو آئی ہیں تو اندر جا کر سب لوگوں کو بلا لینا۔خصوصاً معذور افراد یعنی وہیل چیئر والے افراد کا کوئی پر سان حال نہ تھا۔ میری والدہ خود وہیل چیئر پر میرے ساتھ تھیں اس لئے بہت اذیت اور کرب سے گزرنا پڑا حالانکہ ان کا حل بہت سادہ اور آسان تھا کہ پہلے وہیل چیئرز والوں کو سوار کرنے کا انتظام کیا جاتا اور جتنی گاڑیاں آئیں اتنے ہی لوگوں کو خیموں سے بلوایا جاتا۔

(13)۔عرفات سے مزدلفہ کے لئے تو ٹرانسپورٹ کا انتظام انتہائی ناقص تھا یعنی ایک تو خیموں سے دور اتار دیا گیا اور پھر مزدلفہ جانے کے لئے بھی سڑک پر گھنٹوں دھکے کھانے پڑے اور پھر بھی ٹرانسپورٹ نہ ملی۔ حالات کچھ یوں تھے کہ ایک گاڑی آئی اور سینکڑو ں لوگ اس کی طرف لپکتے تھے۔ ایسے میں وہیل چیئر والوں کو کون راستہ دیتا یا کون پوچھتا؟بالآخر پرائیویٹ بندوبست کر کے یعنی کرایہ ادا کرکے مزدلفہ پہنچے اور وہ بھی رات تقریباً 2:30بجے۔

(14)۔ایک بات جو کہ اکثر حاجیوں سے کی جاتی ہے وہ ہے کہ حج مشقت کا دوسرا نام ہے بھلے یہ بات درست ہے لیکن اپنی نا اہلی، نالائقی اور اپنی کوتاہیوں کو یہ کہہ کر (Cover)نہیں کرنا چاہیے۔

(15)۔آخری دن یعنی واپسی کے دن کی ذلت اور رسوائی تو ہم کبھی نہیں بھول سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جتنی دعائیں لوگوں نے دی تھیں وہ سب آخری دن بد دعاؤں میں بد ل گئیں۔ یعنی ہماری فلائیٹ رات 9:00 بجے روانہ ہونا تھی۔ پہلے بتایا گیا کہ آپ کو بعد از نماز ظہر کھانا کھلا کر لیجایا جائے گا اور بعد میں ناشتے کے بعد یعنی تقریباً 9:00بجے صبح ائیرپورٹ کیلئے روانہ کردیا گیا اور پھر وہاں کھلے آسامان تلے حج ٹرمینل پر ڈال دیا گیا۔ بھوک، گرمی سے نڈھال لوگ بد دعائیں دے رہے تھے اور تو اور شاہین ائیر لائن کا ٹکٹ کاؤنٹر بھی باہر ہی لگایا گیا تھا۔ تقریباً 7:00بجے رات کہیں اندر داخل کیا گیا حالانکہ حاجی اللہ کے مہمان ہوتے ہیں۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں جب بالکل بلڈنگ کے ساتھ جہاز لگا دیئے جاتے ہیں وہی پرانا اور دقیانوسی طریقہ یعنی بسوں پر لاد کر طیارے تک پہنچا یا گیا۔ اس کا ایک آسان اور جان چھڑانے والا جواب یقیناًیہ ہو سکتا ہے کہ یہ سعودی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بھئی آپ ان سے کہیں ان کو توجہ دلائیں کہ حاجیوں کو یوں رسوا نہ کریں۔

(16)واپسی پر شاہین ائیر کی طرف سے 30کلو وزن کی اجازت ہے جو کہ انتہائی کم ہے اور جس کی وجہ سے زائد سامان پر 30ریال فی کلو کے حساب سے جرمانہ وصول کیا جاتا ہے اور اہم بات یہ ہے کہ یہ جرمانہ وہاں پرموجود عملہ کی جیب میں جاتا دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہ جس سے جتنا چاہیں وصول کرلیں اور جتنا چاہیں معاف کردیں یہ ان کی صوابدید پر ہے اور نہ ہی وصول شدہ رقم کی کوئی رسید دی جاتی ہے جو کہ سراسر ظلم اور زیادتی ہے۔

(17)آخر میں ایک بات ہم ضرور واضح کرنا چاہیں گے کہ مجموعی طور پر اس مرتبہ)یہ حج بہتر تھا یہ چند تو جہات ہیں جو کہ صرف وہاں موجود عملے کی وجہ سے بد نظمی وغیرہ کی صورت میں دکھائی دی ہیں جن پر توجہ دیکر سرکاری حج کو بہتر سے بہتر ین بنایا جاسکتا ہے۔ جہاں تک معاملہ ہے پرائیویٹ اور سرکاری حج کے موازنے کا تو یہ بنتا ہی نہیں ہے اور نہ کرنا چاہیے۔ حکومت جہاں سرکاری حج کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے وہیں پرائیویٹ حج والوں کے ریٹس اور سہولیات پر چیک اینڈ بیلنس بھی رکھنا چاہیے۔ہمارے پرائیویٹ حج آپریٹرز دوستوں کوبھی اس خدمت کو اپنی آخرت سنوارنے کا ذریعہ بنانا چاہیے نہ کہ صرف دولت اور دنیا کمانے کا۔

مزید : کالم