’جو بھی اپنے بچے کا یہ نام رکھے اُسے پوری عمر مفت کھانا کھلائیں گے‘ سعودی ریسٹورنٹ نے بچوں کا ایسا نام رکھنے کی شرط رکھ دی کہ ملک میں ہنگامہ برپاہوگیا، لوگ آگ بگولا کیونکہ۔۔۔

’جو بھی اپنے بچے کا یہ نام رکھے اُسے پوری عمر مفت کھانا کھلائیں گے‘ سعودی ...
’جو بھی اپنے بچے کا یہ نام رکھے اُسے پوری عمر مفت کھانا کھلائیں گے‘ سعودی ریسٹورنٹ نے بچوں کا ایسا نام رکھنے کی شرط رکھ دی کہ ملک میں ہنگامہ برپاہوگیا، لوگ آگ بگولا کیونکہ۔۔۔

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) جدید دور کے کاروباری ادارے مارکیٹنگ کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک اچھوتا حربہ استعمال کرتے ہیں لیکن سعودی عرب کا ایک ریسٹورنٹ اس کوشش میں کچھ زیادہ ہی آگے نکل گیا اور ایک ایسی پیشکش کردی کہ دنیا حیران رہ گئی ہے۔

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق ”شاورمر“یسٹورنٹ ، جس کی مملکت میں 7شاخیں ہیں، کی جانب سے اپنے ٹویٹر اکاﺅنٹ پر پیشکش کی گئی ہے کہ جو بھی شخص اپنے بیٹے یا بیٹی کا نام ”شوارما“ رکھے گا اسے عمر بھر کے لئے مفت کھانا کھلایا جائے گا۔ شاید اس ریسٹورنٹ کی انتظامیہ کا خیال تھا کہ یہ اقدام ان کی مشہوری کے لئے مددگار ثابت ہوگا لیکن اس کا نتیجہ سعودی عوام کے سخت غم و غصے کی صورت میں دیکھنے کو ملا ہے۔

’غیر ملکیوں کو نکال کر سعودیوں کو نوکری دوگے تو یہ انعام ملے گا‘ سعودی حکومت نے ایسا اعلان کردیا کہ اب غیر ملکیوں کا بچنا مشکل ہوگیا

سعودی انٹرنیٹ صارفین نے اس حرکت کو بدترین مذاق اور توہین آمیز قرار دیا ہے۔ ماہر قانون خالد السعد نے سعودی روزنامہ اوکاز سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ”کسی بچے کو برا نام دینے کا مطلب ہے کہ آپ اس کی زندگی کو منفی طور پر متاثر کررہے ہیں اور اسے ہمیشہ کے لئے کمتر محسوس کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔ اسلام انسانیت کی عزت وتکریم کا درس دیتا ہے اور سعودی قوانین بھی اس کی اجازت نہیں دیتے کیونکہ قانون کے مطابق کوئی ایسا نام نہیں رکھا جا سکتا جو تضحیک یا توہین پر مبنی ہو۔ کسی بچے کا نام ’شوارما‘ رکھنا انتہائی توہین آمیز ہے اور اس کی کسی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی۔“ اسی طرح ایک شہری عبداللہ بن دوحان کا کہنا تھا ”مجھے یہ دیکھ کر شدید صدمہ پہنچا کہ کچھ لوگ اپنی شہرت کے لئے اس حد تک بھی گرسکتے ہیں۔ آپ کو اپنی مشہوری کے لئے لوگوں کی توہین نہیں کرنی چاہیے۔ “ریسٹورنٹ کی افسوسناک حرکت پر تنقید کرنے والوں کے علاوہ ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو اس کی انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کررہی ہے تاکہ آئندہ کسی کو ایسی حرکت کرنے کی جرا¿ت نہ ہو۔

مزید :

عرب دنیا -