قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 110

25 نومبر 2017 (21:10)

رفیق غزنوی کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ ہم لوگ زندگی کے سفر میں چند قدم ساتھ چلے اور مجھے رفیق غزنوی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ رفیق غزنوی کا آبائی طور پر تعلق غزنی سے تھا۔ ان کا محمود غزنوی سے کوئی تعلق نہیں تھا صرف یہ کہ ان کے والد غزنی سے آئے تھے اور یہ لوگ آکر پنڈی میں آباد ہوئے تھے۔ ان کی ماں بھی پٹھان تھی اور والد بھی ۔ اس زمانے میں ان کی بڑی متمول فیملی تھی۔ اصل میں ان کا کباڑ کا کام تھا اور راجہ بازار راولپنڈی میں یہ ۰۶۹۱ء سے یہ کام کر رہے تھے۔ رفیق اکلوتی اولاد تھے اور بڑے نازونعم سے پلے تھے۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 109

یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمانوں میں عام طور پر بچے ان پڑھ رہتے تھے اور اگر سو میں سے کوئی ایک بچہ میٹرک کر لیتا تھا تو وہ پڑھا لکھا کہلاتا تھا اور بڑے فخر سے اس کا ذکر کرتا تھا۔ باپ نے اس زمانے میں رفیق غزنوی کو گریجویشن کروائی۔ اگیا ہے۔ لیکن رفیق شاید پیدائشی طور پر فنکار تھے۔

وہ ایک تو خوبصورت تھا اور دوسرا اس کا گلا بہت اچھا تھا۔ چنانچہ جب گاتا تھا تو ایک سماں باندھ دیتا تھا۔ چونکہ گھر سے بھی ٹھیک ٹھاک اور کوئی مالی پریشانیاں نہیں تھیں۔ اس لیے اس زمانے کے استادز ماں عاشق علی خان کی شاگردی اختیار کی۔ اور باقاعدہ گانا سیکھا اور اس حد تک سیکھا کہ لوگوں کو خود اصلاحیں دینے لگے۔ ظاہر ہے کہ راولپنڈی میں رہ کر اس شوق کی تکمیل نہیں ہوسکتی تھی۔ فلم انڈسٹری اس وقت خاموش فلموں سے ٹاکی کی فلموں کی طرف سفر کر رہی تھی۔ اور پہلی متکلم فلم انڈین سکرین پر ”عالم آرائ“ کے نام سے آچکی تھی چنانچہ اس زمانے میں ان لوگوں کی مانگ بڑھی جو گا بھی سکتے تھے۔ رفیق غزنوی تو چونکہ خوبصورت تھے۔ اس زمانے میں اشرف خان، بھائی دیسا ، اور ماسٹر نثار وغیرہ ہیرو ہوا کرتے تھے۔ ماسٹر نثار کو تو وہ شہرت ملی جو آج کے زمانے میں دلیپ کمار کو بھی حاصل نہیں ہے۔ لیکن اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ گاتے بھی تھے کیونکہ وہ پلے بیک کا زمانہ نہیں تھا۔ اور فلموں میں گانوں کی بھرمار ہوتی تھی۔ ہر فلم میں بیس پچیس گانے ہوتے تھے۔ فلم ”اندر سبھا “ تو پوری کی پوری منظوم تھی۔ اس کے ڈائیلاگ بھی گا کر ادا کئے جاتے تھے۔ لیکن عام فلموں میں بھی دس بیس گانے زیادہ نہیں سمجھے جاتے تھے۔ چنانچہ وہ لوگ ہیرو لیے جاتے تھے جو گا بھی سکتے تھے اور کچھ شکل و صورت بھی ہوتی تھی۔ لیکن رفیق غزنوی کا معاملہ دوسرا تھا۔ وہ انتہائی خوبصورت تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں حسن اور خوبصورتی سے پوری طرح نوازا ہوا تھا اور ”ہیروارث شاہ “ میں جو رانجھے کا سراپا ہے یہ بالکل اسی کی تصویر تھے۔

یہ لاہور پہنچے تو کاردار نے جو پہلی فلم ”ہیر رانجھا “ بنائی اس میں انہوں نے رانجھے کا کردار ادا کیا۔ ساتھ ہی ہز ماسٹر وائس کمپنی میں ان کے ریکارڈ بنے ۔ پھر چونکہ پڑھے لکھے تھے اور شعرو ادب سے بھی دلچسپی تھی اس لیے اس زمانے میں جبکہ علامہ اقبال شہرت کی معراج پر پہنچے ہوئے تھے اور ان کی نظم ”شکوہ “ پڑھے لکھے مسلمانوں میں ازبر تھی۔ رفیق غزنوی نے یہ نظم اپنی آواز میں ریکارڈ کروائی تھی۔ چنانچہ انہوں نے لاہور سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا اور اس کے بعد وہ ممبئی چلے گئے۔

شروع میں انہیں لاہور میں ایک فلم ” پرواز “ ملی اور لاہور میں مال روڈ کے ایک ہوٹل میں ان کا قیام ہوا اور وہاںان سے محفلیں جمیں۔ دوستی کا پس منظر یہ بھی تھا کہ یہ بھی راولپنڈی کے مکین رہے تھے اور میرے ایک کزن ان کے بچپن کے دوست تھے ۔ محلہ بھی تقریباً ایک ہی تھا جہاں ہم رہتے تھے ۔ پھر انہیں شعرو ادب سے بھی شوق تھا اور میری شاعری کو پسند کرتے تھے اس لیے ان سے ملاقاتیں بڑھیں ۔ ان کی بڑائیوں کا تو ذکر ہی نہیں۔ ان کے قریب بیٹھ کر فخر محسوس ہوتا تھا۔ اس لیے ان سے مراسم ہو گئے۔ اس کے بعد جب یہ کراچی منتقل ہو گئے تو جب کبھی میرا وہاں آنا جانا ہوتا تو ان سے ملاقات ہوتی تھی اور کراچی میں قیام کے دوران ایک شام میری ان کے گھر میں بھی ہوتی تھی۔ ان کی باقی کی شامیں تو ہم لے لیتے تھے لیکن چونکہ خود بھی بہت اچھا کھانا پکاتے تھے اور کھانے کا بھی اعلیٰ ذوق تھا اس لیے وہاں جا کر خوشی ہوتی تھی۔(جاری ہے)

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 111 پڑھنے کیلئے یہاں  کلک کریں

مزیدخبریں