مسلمانوں میں انتہا پسندی کا آغاز اور اُس کی تباہ کاریاں

مسلمانوں میں انتہا پسندی کا آغاز اور اُس کی تباہ کاریاں
مسلمانوں میں انتہا پسندی کا آغاز اور اُس کی تباہ کاریاں

  


اِس سے قبل کہ میَں پاکستان میں ہونے والی حالیہ مذہبی جنونیت اور اُس کی تباہ کاری پر کچھ لکھوں، میَں آپ کے علم میں لانا چاہوں گا کہ مذہبی جنون پرستی، شدت پسندی اور خون خرابہ ، دنیا کے ہر بڑے مذہب میں موجود رہے ہیں اور اَب بھی موجود ہیں۔ ہر مذہب اِبتداً اِنسانوں کی روحانیت اور اخلاقیات کی ضرورت کو پو را کرنے کے لئے ہوتا ہے۔

تمام زندہ مذاہب کی اِخلاقی تعلیمات یکساں ہی ہوتی ہیں۔ دھوکا دہی، بددیانتی، حق تلفی، انسانوں اور جانوروں کو ایذا رسانی،ریاکاری، غیبت، سرقہ ، جھوٹ، اور بہتان، جھگڑا ، فساد اور ایسے ہی منفی رویّوں کو ہر مذہب گُنا ہ اور پاپ سمجھتا ہے۔ اِن مذاہب میں خواہ ادیانِ ابراہیمی ہوں، زرتشت کے پیروکار ہوں، ہندو، بدُھ، سکھ یا تاؤ (Tao) اور شنتو ہوں اِن میں سے کسی مذہب میں ابتداً سیاست گری بالکل نہیں ہوتی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہر مذہب میں سیاست کار فرما ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ سیاست کا محور ہمیشہ کوئی نہ کوئی issue ہوتا ہے۔

مذاہب میں ایشو (issue) عموماً کِسی مذہبی نکتے کے گِرد شروع ہوتا ہے۔ اُس مذہب کے ماننے والے کچھ افراد ایشو کے حق میں ہوتے ہیں اور کچھ خلاف۔ یہ ہی ایشو بڑھتے بڑھتے سیاست اور پھر فرقوں اور بالاخر شدّت پسندی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

دینِ اسلام کے ماننے والوں میں تو سیاسی اختلاف نبی کریمؐ کے وصال کے فوراًبعد ہی شروع ہو گیا تھا۔ خلیفۃ الرسول کے چناؤ میں کچھ صحابہ نے حضرت علیؓ کی حمائت کی اور کچھ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی۔

یہ سیاسی اِختلاف بعد میں مسلمانوں کے درمیان خون ریز جنگوں کا باعث بنا۔ جنگِ جمل ، جنگِ صفین اور خلفائے ر اشدین کی شہادتیں بشمول سانحہ کربلا دراصل پہلے خلیفہ کے چناؤ سے پیدا شدہ اختلافات ہی کا نتیجہ تھے۔

دراصل اِختلاف کرنا انسانی جبلّت کا حصہ ہے، جبکہ اختلاف کو برداشت کرنا اور اُس کو ناچاقی اور نفرت میں تبدیل نہ ہونے دینا انسان کی اِخلاقی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ جبلت پیدائشی ہوتی ہے۔ یہ انسانوں کے DNA میں شامل ہوتی ہے، لیکن اِخلاقیات (Ethics) جس میں رواداری اور قوتِ برداشت بھی آتی ہے، خارجی عوامِل سے پیدا ہوتی ہے، یعنی Acquired ہوتی ہے۔ تمام مذاہب کی کتابیں، کتھائیں، گرنتھ اور علمِ فلسفہ اِنسانوں کو نیکی ،خدمت ،رواداری اور برداشت کا سبق دیتے ہیں، لیکن حیرت کی بات ہے کہ اِنسانی ریکارڈ شدہ تاریخ میں زیادہ ترخون خرابہ مذہب کے نام ہی پرہوا ہے۔ اہلِ مغرب اور دیگر ترقی یافتہ قوموں نے صنعتی اِنقلاب کے ساتھ ساتھ سماجی اصلاحات بھی شروع کر دیں۔

مذہب کو اِنسانوں کا اِنفرادی عمل قرار دے دیا گیا۔ ریاستی کاموں میں مذہب کا کوئی دخل نہ رہا، چونکہ انسان سوچ بچار کرنے والا حیوانِ ناطق ہے، اس لئے ہر دھرم کے ماننے والوں میں فرقہ بندی ہو گئی۔ فرقہ بندی نے شدّت پسندی کی شکل اِختیارکی۔ مسلمانوں میں سیاسی فرقہ بندی اور اُس کے نتیجے میں خون خرابہ رسولؐ اللہ کے وصال کے بعد ہی شروع ہو چکا تھا، لیکن عقیدے کی فر قہ بندی کا آغاز 8 ویں صدی سے ہوا جب مسلمانوں کے دو بڑے فرقے باقاعدہ فقہی بنیاد پر عالمِ وجود میں آگئے ۔ یعنی اہلِ تشیع اور اہلِ سُنت ۔ اہلِ تشیع اگلے200 برسوں میں مزید فرقوں میں تقسیم ہو گئے، یعنی ادریسی ،علوی، فاطمی اور زیدی، لیکن اہلِ تشیع کا بڑا فرقہ اثنا عشری ہی ہے، جو پاکستان اور ایران میں آباد ہے، اُن کی تشریحِ فقہہ سنیوں کے عقیدے سے مختلف ہے۔

یہ دونوں بڑے فرقے برصغیر میں تقسیمِ ہند سے پہلے عموماً باہمی رواداری سے رہے سوائے اورنگ زیب بادشاہ کے زمانے کے۔ برصغیر میں اہلِ تشیع کی بڑی طاقتور ریاستیں رہی ہیں مثلاً حیدر آباد دکن، بیجاپور، بھوپال، جودھ پور، جونا گڑھ اور ٹراونکور۔ حیرت اور سوچنے کی بات ہے کہ انگریز کے زمانے ہی میں ہندوستان کے سنیوں کے مختلف فرقے برصغیر کے مسلم مدرسوں میں کیوں پیدا ہوئے۔ اُن فرقوں میں بریلوی مسلک بھی ہے، جس کے بانی اعلیٰ حضرت احمد رضا خاں تھے، جنہوں نے صوفی اسلام کے تحفظ میں حنفی فقہہ سے منسلک رہتے ہوئے اہل سُنت کے نام سے اپنے مسلک کی بنیاد رکھی۔بانیِ اہلِ سنت بڑے پائے کے عالم تھے اور اُن کا مقصد کبھی یہ نہ تھاکہ مزار پرستی اور پیر پرستی اُن کے مسلک کا حصہ بن جائے۔ اوّلاً تو بریلوی مسلک صرف شمالی ہندوستان ہی میں پھیل سکا ۔

خاص طور پر اُس علاقے میں جسے ہم اَب پاکستان کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں مزاروں کی کچھ زیادہ ہی کثرت ہے اور اُسی تناسب سے مجاوروں، گدی نشینوں، مخدوموں اور پیروں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے۔

مزاروں سے عوام کی عقیدت اُن کی جہالت کی وجہ سے آہستہ آہستہ مزار پرستی بن گئی،مزاروں کے سجادہ نشینوں کو اِن جاہل اور اِسلام کی رُ وح سے نابلد مسلمانوں سے نذرانوں کی وصولی شروع ہو گئی سادہ لوح عقیدت مندوں نے ہزاروں ایکڑ زمینیں نذرانوں میں اپنے پیروں کو دے دیں۔ اُن زمینوں پر کاشت کرنے والے نسل در نسل اِن مخدوموں کے پالتو ہو گئے۔1992ء میں مجھے موقع ملا کہ میں پاکستانی مزاروں پر ایک ڈاکومینٹری برائے BBC بناؤں۔ میری 10 گھنٹے کی ویڈیو ریکارڈنگ میں لاہور اور ملتان کے تمام مزارات شامل تھے۔

اُس دوران مجھے پتہ چلا تھاکہ حضرت داتا دربار کے دروازوں پر رکھی ہوئی 40 صندوقچیوں سے ہر جمعرات کو8،9 لاکھ روپے کے کرنسی نوٹ اورسونے چاندی کے زیور ات برآمد کئے جاتے ہیں۔

یہ رقم زائرین کے نذرانوں کی ہوتی ہے۔ نوٹوں کی بوسیدگی اور اُن کے میلے پن ہی سے پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ کرنسی نوٹ اور زیورات غریب زائرین ہی کے ہو سکتے ہیں۔ اِن نوٹوں کی گنتی کا اور اوقاف کے اکاؤنٹ میں ڈپازٹ کرنے کا اِنتظام نیشنل بینک کے پاس تھا، جو مزار محکمہ اوقاف کی تحویل میں نہیں آئے تھے اُن کے گدی نشینوں کو آج ہم سیاست میں بھی دیکھتے ہیں اوراُن کی شرک کو چھوتی ہوئی تکریم غریب اور پسے ہوئے طبقے میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ یہی عوام اِن کے ووٹر ہوتے ہیں اوریوں پاکستان کی جمہوریت ہمیشہ Captive رہتی ہے،چونکہ برصغیر میں مسلمانوں کی تعداد مقابلتاً سب سے زیادہ ہے اسی لئے یہاں سُنیّوں کے فرقوں کی نشوو نما بھی زیادہ ہوئی۔

دیو بندی، اہلِ حدیث، بریلوی، قادیانی (جو بعد میں آئینی طور پر بھی غیر مسلم قرار دے دئیے گئے) اور چکڑالوی(یہ فرقہ اب معدوم ہو گیا ہے)یہ تمام فرقے،پچھلے 150 برسوں میں انگریز کے راج ہی میں پیدا ہوئے (مدرسہ دیو بند ضلع سہارنپور میں مولانا قاسم کی سربراہی میں 1848ء میں تعمیر ہو چکا تھا، لیکن اس مدرسے کے طالبِ علموں کا پھیلاؤ برطانوی حکومت کے زمانے میں ہوا)۔ زیادہ مقبولیت بہرحال بریلوی فرقے کو ملی، کیونکہ اس کی تعلیمات ہندی مسلمانوں کے صوفیانہ مزاج کے مطابق تھیں اِسی لئے اِن کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ بریلوی فرقہ تاریخی طور پر ہمیشہ پُرامن رہا ہے۔ اِن میں شدّت پسندی کبھی نہ تھی۔

یہاں تک کہ اَفغان جہاد اور کشمیر کی جنگوں میں بھی بریلویوں نے بطور فرقہ کبھی حصہ نہیں لیا۔ اِن کے ہاں خون خرابہ، جلاؤ گھیراؤ اور فساد پھیلانے کی ہمت افزائی کبھی نہیں کی گئی۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ بریلویوں نے پچھلے چند برسوں میں سیاسی جماعت بھی بنالی، دھرنے بازی شروع کر دی اور اِن دھرنوں میں شدید تخریب کاری کا مظاہرہ بھی ہوا جو عموماً بریلوی مزاج کے خلاف ہے؟

اگردیکھا جائے تو بریلوی فرقے کی سیاست میں شدّت پسندی کبھی نہ تھی۔پاکستان بننے سے پہلے تو تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا تھا ایسی انتہا پسندی اور بے قابو بلوا گیری کا۔ لوگوں کا احتجاج وال چانگ، بسوں پر اور ریل گاڑیوں پر انگریز کی بندر نما پینٹنگ بنادینا۔ انڈے اور ٹماٹر پولیس پر پھینک دینا، ڈاکخانے کے لیٹر بکس میں گوند یا سریش اُنڈیل دینا اور ایسی ہی بے ضرر حرکتوں سے ہوتا تھا۔ بہت زیادہ شدّت پسندی کا اظہار چاقو اور خنجر زنی سے ہوتا تھا۔ انگریز کی اِنتظامیہ احتجاج کو جوں ہی حد سے بڑھتا دیکھتی تھی، اُسے فوراً سختی سے کچل دیا جاتا تھا۔ ایسی بات نہیں کہ وہ انگریزسامراج کا نمائندہ ہونے کی وجہ سے غلام ہندوستانیوں پر قابو پا لیتا تھا۔

اُس وقت کے حاکم مضبوط اعصاب کے مالک ہوتے تھے۔ ہماری دیسی ICS انتظامیہ بھی فیصلہ لینے سے پہلے کسی اَن پڑھ و زیر کے حکم کی منتظر نہیں ہوتی تھی۔ ہندوستان میں خونی فسادات 1946ء کے بعد ہوئے جب انگریز کے ہندوستان چھوڑ دینے کا فیصلہ ہو گیا۔مجلسِ احرار اسلام سے شروع ہو جائیں، جمعیتِ علماء پاکستان یا اہلِ سُنت و الجماعت کا ماضی دیکھ لیں۔

اِنہوں نے دوسرے فرِقوں کے خلاف کبھی دنگا فساد نہیں کیا۔ یہ توافغان وار اور اُس سے منسلک مذہبی شدّت پسندی تھی جو بریلویوں کے قتلِ عام کا باعث بنی۔

بعض ایسے ممالک جو بریلوی فرقے کے شدید مخالف ہیں اُنہوں نے بھی شدّت پسندوں کی مالی اِمداد اور ہلاّشیری کی۔آپ اہلِ حدیث اوردیو بندیوں کے سخت گیر ضابطوں سے بریلویوں کو مبرّا پائیں گے۔

بریلوی اسلام کو ہم Folk Islam بھی کہہ سکتے ہیں۔ بریلویوں نے بہت پڑھے لکھے اور جیّد علماء پیدا کئے ہیں۔ مولانا شاہ احمد نورانی، جناب عبدالستار نیازی، جناب کوکب نورانی، مولانا حامد بدایونی، ڈاکٹر طاہر القادری، مولانا ابوحسنات قادری، مولانا حنیف طیّب۔یہ برگزیدہ ہستیاں سیاسی ہونے کے باوجود شدت پسند اور دُشنام طراز نہیں تھیں۔

پھر کیا وجہ ہے کہ 2015ء میں یکایک بریلویوں کی ایک سیاسی تنظیم بنتی ہے، ممتاز قادری کی سزائے موت کو اپنی سٹریٹ پاور کی اِبتداء بناتی ہے اور بجلی کی سی تیزی سے عوام کے بالکل اَن پڑھ اور جذباتی طبقے میں اپنا ایک خصوصی مقام بنا لیتی ہے۔ بریلویوں کی اس نئی تنظیم کے لیڈرانِ کرام کا قد کاٹھ بھی وہ نہیں ہے جن اکابرین کا ذکر میَں نے اوپر کیا ہے۔

سیاسی مصلحتوں اور تبصرے میں اُلجھے بغیر میَں یہ بتانا چاہوں گا کہ برِصغیر کا کوئی بھی پڑھالکھا بریلوی مسلمان، دہشت گردی اور سڑکوں پر بلوہ کرنے کے لئے نہیں نکلے گا۔پچھلے چند ہفتے قبل ،تمام ملک کے بڑے شہروں میں جو تباہ کاری اور (Vandalism) کیا گیا وہ بیرونِ ملک دشمنوں کی کارستانی ہو سکتی ہے۔

میَںیقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مولانا عبدالغفور ہزاروی اور حضرت شاہ احمد نورانی کی بنائی ہوئی سُنّی جماعتیں ایسی شورہ پُشتی اور دُشنام طرازی کی ہمت اَفزائی کبھی نہ کرتیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...