ناروے میں قرآن سوزی کے بعد

ناروے میں قرآن سوزی کے بعد

  



ناروے میں قرآن سوزی کی ہولناک واردات پر پورے عالم ِ اسلام میں اضطراب کی شدید لہر اُٹھی ہے۔پاکستان میں بھی اس کے خلاف جذبات کا شدت سے اظہار ہو رہاہے،اور مختلف مقامات پر مظاہروں اور احتجاجی اجتماعات کا سلسلہ جاری ہے۔پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ناروے کے سفیر کو طلب کر کے اہل ِ پاکستان کے جذبات سے انہیں آگاہ کیا ہے،اس کے ساتھ ہی وہ نوجوان بھی داد و تحسین کے مستحق ٹھہرے ہیں،جنہوں نے آگے بڑھ کر قرآن سوزی کرنے والے پر حملہ کیا،اور اُسے اس حرکت کا مزہ چکھایا۔پاکستان کے ممتاز عالم دین شیخ الاسلام مفتی محمد نقی عثمانی نے اپنے ایک ٹویٹ میں اپنے(اور پوری ملت اسلامیہ) کے دِل کو یوں زبان دی ہے:تحمل، بُرد باری اور حکمت اچھی صفات ہیں بشرطیکہ وہ مداہنت تک نہ پہنچیں۔نیز دُنیا کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ دو چیزیں ایسی ہیں جن کی حرمت کے بارے میں ہر مسلمان کا جذباتی ہونا لازم ہے۔ ایک قرآن کریم اور ایک رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس، اللہ تعالیٰ اس نوجوان پر اپنی رحمتوں کا سایہ فرمائے،جس نے دُنیا کو یہ بتا کر فرض کفایہ ادا کیا۔کاش اس کے ساتھ مَیں بھی ہوتا اور اپنا بڑھاپا اس نوجوان پر قربان کر دیتا۔

پاکستان کے ایک انتہائی سنجیدہ اور متین عالم ِ دین کے یہ الفاظ: ”کاش اس کے ساتھ مَیں بھی ہوتا اور اپنا بڑھاپا اس نوجوان پر قربان کر دیتا“علامہ اقبالؒ کے ان الفاظ کی یاد دِلا گئے ہیں جو غازی علم دین شہید کے اقدام کی خبر سن کر بے ساختہ ان کی زبان پر جاری ہو گئے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں شدید ترین گستاخیوں کے مرتکب راج پال کو غازی شہید نے جہنم رسید کر دیا تھا۔ علامہ اقبالؒ کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمانے لگے: اوئے ترکھاناں دا منڈا ساڈے تو بازی لے گیا (ایک ترکھان کا بیٹا ہم سے کہیں آگے بڑھ گیا ہے۔اس نے عشق کی بازی جیت لی ہے)…… ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی اپنی اسلامی حمیت کا ثبوت دیتے ہوئے قرآن کریم کو آتشزدگی سے بچانے کے لیے آگے بڑھنے والے نوجوان کو سلام پیش کیا،اوربتایا کہ افواجِ پاکستان اہل ِ پاکستان،بلکہ ملت اسلامیہ کے ساتھ ہم آواز ہیں۔

مغرب میں اسلام دشمن عناصر اس طرح کی کسی واردات کا جب بھی ارتکاب کرتے ہیں پورے عالم ِ اسلام میں شدید ردعمل پیدا ہوتا ہے۔مغربی معاشروں میں مقیم مسلمان بھی اپنے جذبات کو قابو میں نہیں رکھ سکتے۔وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران بھی اقوام عالم کی توجہ اس طرف مبذول کرائی تھی، ترکی کے صدر طیب اردگان نے بھی عالمی فورمز پر بآوازِ بلند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلامی شعائر سے مسلمانوں کے تعلق سے آگاہی دینے کی کوشش کی ہے،لیکن آزادیئ اظہار کے نام پر ہر حد سے گذر جانے والے کہیں نہ کہیں سر اٹھا لیتے اور مسلمانوں کی حمیت کے لئے چیلنج بن جاتے ہیں۔ ناروے کے واقعے نے بھی جذبات کو آگ لگائی ہے،لیکن یہ بات بھی نظر انداز نہیں ہونی چاہیے کہ ہر غیر مسلم معاشرے کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکا جا سکتا۔کئی ممالک میں انتہا پسند بہت کم ہیں،اور وہ کسی نہ کسی طور مسلمانوں کو مشتعل کر کے مقامی آبادیوں کے خلاف غصہ دلانا چاہتے ہیں۔ناروے ہی سے تعلق رکھنے والے ایک دردمند مسلمان نے اپنے ایک واٹس ایپ پیغام کے ذریعے اسی حقیقت کی نشاندہی کی ہے،وہ پس منظر اور محرکات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

”کرسٹینڈ سفینڈ کی آبادی80ہزار کے قریب ہے۔اس میں 11ہزار کے قریب مسلمان ہیں۔ ایک جامع مسجد کے علاوہ شہر کے اطراف میں نماز ادا کرنے کے لیے بعض مخصوص مقامات (مصلًے) بھی موجود ہیں۔مسلمانوں میں تیس سے زائد قومیتوں کے افراد شامل ہیں۔زیادہ تر کا تعلق صومالیہ، شام، فلسطین اور عراق سے ہے۔قانون کے مطابق یہاں ہر ایک کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔یہاں مسلمان تبلیغی جماعتوں کی آمدورفت بھی جاری رہتی ہے۔شہر کی انتظامیہ، سیاسی رہنما، پولیس اور دوسرے ادارے مسلمانوں سے بہت تعاون کرتے ہیں۔ہمیں کبھی ان سے کسی معاملے میں شکایت نہیں ہوئی،جب بھی کہیں مسلمانوں کو نئی مسجد کی تعمیر کی ضرورت محسوس ہوئی، انہیں اجازت ملتی رہی ہے“۔ یہ تفصیل بیان کرنے کے بعد وہ بتاتے ہیں: یورپ کے بعض ممالک کی دیکھا دیکھی آرنے تھومیر ایک سن رسیدہ ملحد نے یہاں اسلام کے خلاف ایک تنظیم ”سٹاپ اسلامائزیشن ان ناروے“ کے نام سے بنا رکھی ہے۔ جسے ”سیان“ کے مخفف سے پہچانا جاتا ہے۔ اس تنظیم کے تحت مختلف پروگرام جاری رہتے ہیں،لیکن ان کے شرکا کی تعداد قابل ِ ذکر نہیں ہوتی، میڈیا کوریج کی وجہ سے ان کا وجود البتہ باقی ہے۔گذشتہ دنوں آرنے تھومیر نے ایک مظاہرے کے دوران قرآن مجید جلانے کا اعلان کر کے توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی،لیکن انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے بتا دیا گیا کہ اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ایک مسلمان مخالف جماعت ڈیمو کریٹک پارٹی نے بھی اعلان کر دیا کہ وہ اس طرح کے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔پولیس کمشنر نے واضح کر دیا کہ مظاہرے پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی،لیکن قرآن جلانے کی ہر گز اجازت نہیں ہو گی“۔

اس دردمند مسلمان کا مقصود یہ ہے کہ ناروے کے معاشرے اور انتظامیہ کو اس واردات کا ذمہ دار نہ سمجھا جائے،یہ چند شر پسند عناصر کا فعل ہے، جس کی ناروے کا قانون بھی اجازت نہیں دیتا، اس لیے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے یہ حقیقت نگاہ سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے۔قرآن سوزی کرنے والے ملعون پر حملہ کرنے والے نوجوان نے بھی فیس بُک پر اپنی تحریر کے ذریعے واضح کیا ہے کہ پولیس اگر بروقت اقدام کر لیتی تو ہم اس پر حملہ نہ کرتے۔چند سیکنڈ کی تاخیر ہماری پیش قدمی کا سبب بنی……اس تحریر کا مقصد ناروے میں پیدا کیے جانے والے اس تاثرکو ختم کرنا ہے کہ مسلمان نوجوان متشدد ہیں یا یہ کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لینے پر یقین رکھتے ہیں۔واقعے کی ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے ثابت کیا گیا ہے کہ پولیس چند سیکنڈ تک خاموش کھڑی رہی، اور یوں مشتعل نوجوانوں کے اقدام کا جواز فراہم کر دیا۔

ہم نے مذکورہ بالا تفصیل اس لیے بیان کی ہے کہ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ہدف کو سامنے رکھا جائے۔ہمیں دُنیا بھر میں آگہی کی مہم چلانے کی طرف توجہ دینی چاہیے،ہمارے علماء، اہل ِ دانش، سفارت کار، اور حکومتی ذمہ دار اگر دلیل کے ذریعے اپنی بات سمجھانے کی کوشش تیز تر کر دیں گے تو یقینا مغربی معاشروں کے ذمہ دار عناصر کو بھی اس سے تقویت ملے گی،اور جنونیوں کا گھیرا تنگ کرنا آسان ہوتا جائے گا۔

مزید : رائے /اداریہ