چیف الیکشن کمشنر کا تقرر؟

چیف الیکشن کمشنر کا تقرر؟

  



چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) سردار رضا خان نے وفاقی سیکرٹری پارلیمانی امور کو خط لکھ کر آگاہ کر دیا ہے کہ ان کی مدت تعیناتی7دسمبر کو پوری ہو جائے گی اور اس سے پہلے نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا عمل پورا کر لیا جائے۔دوسری صورت میں الیکشن کمشنر غیر فعال ہو جائے گا۔موجودہ چیف الیکشن کی تقرری سابقہ حکومت کے دور میں ہوئی تھی۔ جہاں تک الیکشن کمیشن کی ہیئت کا تعلق ہے تو چیئرمین سمیت اس کے پانچ ارکان ہوتے ہیں۔ چار کا تعلق چاروں صوبوں سے ہوتا ہے،تعیناتی کا طریق کار یہ ہے کہ قائد حزبِ اقتدار اور قائد حزبِ اختلاف باہمی مشاورت سے تین نام چن کر پارلیمانی کمیٹی کو بھیجتے ہیں،اس سے قبل قائد حزبِ اقتدار اور قائد حزبِ اختلاف کی طرف سے تین تین نام تجویز کئے جاتے اور پھر باہمی مشاورت ہوتی ہے اس کے نتیجے میں تین نام پارلیمانی کمیٹی کے پاس آئیں تو اس میں غور کے بعد بالترتیب نام وزیراعظم اور قائد حزبِ اختلاف کو بھجوائے جاتے ہیں، جس نام پر یہ دونوں متفق ہو جائیں اس کا تقرر ہو جاتا ہے۔اس وقت سندھ اور بلوچستان کے دو ارکان ریٹائر ہو چکے ہوئے ہیں۔ان کی تعیناتی کے حوالے سے باہمی مشاورت نہ ہو سکی اور بالآخر حکومت نے ازخود نامزدگی کر دی۔اسے عدالت میں چیلنج کیا گیا جہاں سے یہ تعیناتی کالعدم قرار دے دی گئی کہ مشاورت نہیں کی گئی، عدلیہ نے یہ ذمہ داری سینیٹ کے چیئرمین اور سپیکر قومی اسمبلی کے سپرد کی کہ وہ اتفاق رائے سے نام تجویز کرائیں، چنانچہ ہر دو حضرات کی طرف سے وزیراعظم اور قائد حزبِ اختلاف سے تین تین نام طلب کئے ہیں،جن پر مشاورت ہو سکے،ابھی یہ نام موصول نہیں ہوئے۔کمیشن میں دو ارکان کی نشستیں خالی ہیں،اور اس وقت چیئرمین سمیت تین ارکان فعال ہیں اور سادہ اکثریت کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کام کر رہا ہے۔اگر چیئرمین کی تقرری نہ ہو سکی،جو بظاہر مشکل نظر آتی ہے تو الیکشن کمیشن غیر فعال ہو جائے گا، نہ تو بلدیاتی انتخابات کرا سکے گا اور نہ ہی رائے دہندگان کی تصحیح اور نئے ووٹروں کے اندراج کا سلسلہ شروع ہو سکے گا۔ اس وقت الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات اور آنے والے وقت کے لئے انتخابی فہرستوں کی درستگی کا کام شروع کر چکا ہوا ہے جو چیئرمین کی جگہ خالی ہونے سے رُک جائے گا کہ موجودہ حالات میں اتفاق رائے ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اب یہ گیند قائد حزبِ اقتدار وزیراعظم محمد عمران خان اور قائد حزبِ اختلاف محمد شہباز شریف کی کورٹ میں ہے۔ قائد حزبِ اختلاف لندن میں ہیں اور محاذ آرائی کی موجودہ صورتِ حال میں یہ کام مشکل دکھائی دے رہا ہے،اس صورتِ حال کے تدارک کے لئے فریقین کو تعاون کے جذبے سے کام لینا چاہئے تاکہ الیکشن کمیشن غیر فعال نہ ہو۔

مزید : رائے /اداریہ