”دین و دُنیا میں اعتدال اور امت وسط“(2)

”دین و دُنیا میں اعتدال اور امت وسط“(2)
”دین و دُنیا میں اعتدال اور امت وسط“(2)

  



اقتصادی اور مالی اعتدال کے حوالے سے ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا کی ہر قوم و ملت میں سب سے اہم مسئلہ معاشیات اور اقتصادیات کا ہے۔ اس میں بھی دوسری قوموں میں طرح طرح کی بے اعتدالیاں نظر آئیں گی۔ ایک طرف نظامِ سرمایہ داری ہے،جس میں حلال و حرام کی قیود اور دوسرے لوگوں کی خوشحالی یا بدحالی سے آنکھیں بند کر کے، زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنا، سب سے بڑی انسانی فضیلت سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف شخصی اور انفرادی ملکیت کو ہی سرے سے جرم قرار دے دیا جاتا ہے۔ غور کرنے سے دونوں اقتصادی نظاموں کا حاصل مال و دولت کی پرستش اور اس کو ”مقصدِ زندگی“ سمجھنا اور اس کے لئے دوڑ دھوپ ہے۔ امتِ محمدیہؐ اور اس کی شریعت نے اس میں اعتدال کی صورت پیدا کی کہ ایک طرف تو دولت کو مقصد زندگی بنانے سے منع فرمایا اور انسانی عزت و شرافت یا کسی منصب یا عہدے کا مدار اس پر نہیں رکھا، اور تقسیم ِ دولت کے ایسے پاکیزہ اصول مقرر کئے جن سے کوئی انسان ضروریاتِ زندگی سے محروم نہ رہے اور کوئی فرد ساری دولت کو سمیٹ نہ لے۔

قابل اشتراک چیزوں کو مشترک اور وقفِ عام رکھا۔ مخصوص چیزوں میں انفرادی ملکیت کا مکمل احترام کیا۔ حلال مال کی فضیلت، اس کے رکھنے اور استعمال کرنے کے صحیح طریقے بھی بتائے۔ غرضیکہ امتِ محمدیہؐ کو ایک معتدل اور بہترین امت بنایا گیا ہے۔ مزید برآں! امت محمدیہؐ کو وسط اور عدل و ثقہ اس لئے بنایا گیا ہے کہ یہ شہادت دینے کے قابل ہو جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص عادل نہیں وہ قابل شہادت نہیں، عدل کا ترجمہ ”ثقہ“ بھی قابل اعتماد کیا جاتا ہے۔ ”اجماع“ کا حجت ہونے کے بارے، قرطبیؒ نے فرمایا، یہ آیت اجماعِ امت کے حجت ہونے پر ایک دلیل ہے۔ کیونکہ جب اس امت کو اللہ تعالیٰ نے شہداء قرار دے کر دوسری امتوں کے بالمقابل، ان کی بات کو حجت بنا دیا تو ثابت ہوا کہ اس امت کا ”اجماع“ حجت ہے اور عمل اس پر واجب ہے اس طرح صحابہ کرامؓ کا اجماع، تابعین اور تابعین کا اجماع تبع تابعین پر حجت ہے۔

تفسیر مظہری، میں ہے کہ اس امت کے جو افضال و اعمال، متفق علیہ ہیں، وہ سب محمود و مقبول ہیں، کیونکہ اگر سب کا اتفاق کسی خطاء پر تسلیم کیا جائے تو پھر یہ کہنے کے کوئی معنی نہیں رہتے کہ یہ امتِ وسط اور عدل ہے۔ امام حصاص کے مطابق ہر مسلمانوں کا اجماع معتبر ہے۔ اجماع کا حجت ہونا صرف قرن اول یا کسی خاص زمانے کے ساتھ مخصوص نہیں، کیونکہ اس آیت میں پوری امت سے خطاب ہے اور امتِ رسولؐ صرف وہ نہ تھے جو اس زمانے موجود تھے بلکہ قیامت تک آنے والی نسلیں جو مسلمان ہیں، وہ سب آپؐ کی امت ہیں تو ہر زمانے کے مسلمان شہداء اللہ ہو گئے جن کا قول حجت ہے۔ وہ سب کسی خطا اور غلط پر متفق نہیں ہو سکتے۔یہ اقتباس، تغیر معارف القرآن حضرت مولانا مفتی محمد شفیع ؒ مفتی اعظم پاکستان سے لیا گیا ہے۔ (جلد اول ص 365 تا 373)

نبی اکرمؐ کی امت کو امت وسط یا امت معتدل یا امت عدل یا امت اعتدل قرار دیا گیا ہے جو افراط و تفریط سے پاک ہوتی ہے۔ ہر اعتبار سے، یعنی عبادات، معاملات، معیشت، سیاست غرضیکہ ہر شعبہ زندگی کے بارے میں یہ امت شہداء علی الناس، یعنی لوگوں پر گواہ بنائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیغمبر آخرؐ الزماں کی اس امت کو پہلی تمام امتوں پر گواہ کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ یاد رہے! امت محمدیہ ؐؐ گود سے لے کر لحد تک یا پنگھوڑے سے لے کر قبر تک تمام زندگی دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق اختیار کرنا ہے۔ اعتدال کے ساتھ۔ یہی مفہوم ہمیں صراط مستقیم سے ملتا ہے۔ صراط مستقیم سے ہٹنے والا افراط و تفریط کا شکار ہوگا۔ جیسا کہ پہلی امتیں ہوئیں۔ امت محمدیہؐ تو امت معتدل ہے جس میں نہ افراط ہے نہ تفریط۔ عیسائیوں نے تفریط اختیار کی کہ حضرت عیسیٰؑ کو (نعوذ باللہ من ذالک) خدا کا بیٹا بنا دیا اور یہودیوں نے افراط کی ان کی پیغمبری کو بھی نہ مانا امۃ معتدل نے نہ ان کو حد سے زیادہ بڑھایا نہ گھٹایا، بلکہ ان کے درجے پر رکھا۔

یاد رہے!”صراط مستقیم“ یا امۃ وسط یا امت اعتدال یا امت عدل کو من و عن اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ہدایت کی گئی ہے کہ دین پر من و عن نہ چلنے سے بدعات جنم لیں گے۔ امت میں انتشار پیدا ہوگا۔ اور امت واحد کا تصور پاش پاش ہوگا۔ گویا عبادات مذہبی مراسم میں اعتدال اختیار کرنا، معاشی معاملات میں اعتدال) اور معاشرتی زندگی کے معاملات میں اعتدال اختیار کرنا عین قرآنی تعلیمات کی روح ہے۔ مومن تو چوبیس گھنٹے ہی عبادت یا بندگی میں مصروف رہتا ہے۔ اس کا کھانا پینا، کمانا، سونا جاگنا، بچوں کی تربیت کرنا، خاندانی نظامِ زندگی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کو عزت دینا…… یہ سب کچھ دین اسلام کی تعلیمات کی روح ہے۔ اس پر چل کر ہی تمام امور کو نمٹاتے ہوئے ”عدل و قسط“ کو قائم کرنا، ممکن ہے جو افراط و تفریط سے محفوظ رکھے گا۔ہر کام کی سب سے بہترین صورت وہ ہے جو میانہ روی پر مشتمل ہو۔ حضرت علیؓ کا قول نقل کرنا بھی بے جا نا ہو گا۔ آپؓ سے کسی نے پوچھا کہ آپؓ کتنی دیر عبادت یا بندگی کرتے ہیں آپؓ نے فرمایا کہ ہم تو چوبیس گھنٹے عبادت یا بندگی میں مصروف رہتے ہیں۔ پوچھنے پر بتلایا گیا کہ ہمارا ہر کام، ہر لمحہ ہر گھڑی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہئ زندگی یعنی سنت کے مطابق ہوتا ہے۔ گویا ہمارا سونا، جاگنا کھانا، کمانا، غمی، خوشی حتی کہ شادی بیاہ وغیرہ سب کچھ آپؐ کی زندگی کے مطابق عمل کرتے ہیں تو اس طرح ہماری تمام زندگی عبادت، بندگی میں شمار ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر وما خلقت ریجن ولا نس الا لبعبدون، بھی تمام جن و انس کو صرف عبادت (بندگی) کے لئے بھی پیدا کیا گیا ہے۔ گویا ہر مومن ایمان عبادت اور بندگی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ گویا ہر مومن اس کا ہی مکلف ہے۔ عبادت یا بندگی سے کیا مراد ہے؟ اس سے مراد سراپا اطاعت (Total Submission) ہے، اسے افراط اور تفریط سے پاک رکھنا ہے۔ آپؐ نے فرمایا نبی الاسلام علی خس یعنی اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے کلمہ شہادت، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ان فرائض کی ادائیگی مومن پر واجب ہے گویا نماز کا قائم کرنا…… ہر حال میں گر بیمار ہے اور کھڑے ہو کر، ادا نہیں کر سکتا ہے، تو بیٹھ کر کرے۔ اگر بیٹھ کر بھی ادا کرنے کے قابل نہیں تو لیٹ کر یا اشارے سے کرے۔ اس فرض کو ہر حال میں ادا کرنا ہے۔ روزے (صیام) سال بھر میں ایک بار (ایک ماہ) کے لئے فرض ہوتے ہیں، ان کا ادا کرنا بھی، اہم ترین بنیادی فرائض میں سے ہے۔ اسی طرح،اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اگر اتنا مال میسر ہو، ایک خاص مقدار سے زیادہ ملا ہو۔ مثلاً ساڑھے سات تولہ سونا چاندی، یا ان کے مساوی نقد رقم (رائج الوقت قیمت یعنی موجودہ) ہے اور وہ سال بھر آپ کے پاس رہے، تو پھر اس مال پر اللہ تعالیٰ نے زکٰوۃ ڈھائی فیصد مقرر کی ہے، جس سے مال کو پاک کیا جاتا ہے۔ گویا زکوٰۃ مال کی میل کچیل کو صاف کرتی ہے اور بقیہ مال (اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آ جاتا ہے)اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ مال ہمارے دل کے اندر جگہ نہ بنا پائے۔ آپؐ کا ارشاد ہے کہ ہر امت کا کوئی نہ کوئی فتنہ (آزمائش) ہوتا ہے میری امت کا فتنہ (آزمائش) مال وصدقات کے بارے تو یہاں تک اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ قل الغفور (البقرہ: 219) یعنی زائد از ضرورت مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ (جاری ہے)

اس کی تلاوت کرنا اس کی تعلیم اور حکمت کا جاننا اور تزکیہ نفس کرتا اس آیت سے واضح ہوتا ہے۔ (سورہ البقرہ: 129) ترجمہ: جو ان کو (یعنی آپؐ) آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرے اور کتاب اور دانائی سکھایا کرے اور ان (کے دلوں) کو پاک صاف کیا کرے (البقرۃ: 129) ایک حدیث میں آپؐ نے فرمایا: کہ میں اپنے باپ حضرت ابراہیمؑ کی دعا ہوں، حضرت عیسیؑ کی بشارت ہوں، اور اپنی والدہ محترمہ کا خواب ہوں۔ اس حدیث سے مولانا الطاف حسین حالی نے اس بیت کا مضمون اخذ کیا ہے:

ہوتی پہلو ئے آمنہ سے ہویدا

دعائے خلیل اور نوید مسیحا

اسی طرح سورۃ الجمعتہ: 2 میں یوں ذکر ہے۔ ترجمہ: جو ان کے سامنے (یعنی آپؐ) اس کی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ (سورۃ الجمعۃ-2) ان تمام امور کے اندر اعتدال سے کام لینا ہے۔ صراط مستقیم پر چلتے ہوئے افراط و تفریط سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح عبادت (مذہبی مراسم کی ادائیگی) میں اعتدال ضروری ہے، وگرنہ صراط مستقیم کی پٹڑی سے اترنے کا خطرہ منڈلاتا رہے گا، کیونکہ ہماری تو ساری کی ساری زندگی عبادت یا بندگی سے عبارت ہے۔ اس تصور کو امت مسلمہ کے اذہان میں اجاگر کرنا ہے۔ وگرنہ دین و دنیا دونوں پلڑوں کو غیر متوازن کر دیتا ہے۔ زندگی کے اس تصور کو پوری امت مسلمہ میں عام کرنا تاکہ کسی ایک طرف جھکاؤ نہ ہو بلکہ اعتدال اور توازن کے لئے ترازو کا سیدھا رکھنا، یعنی صراط مستقیم اختیار کرنا ہوگا تاکہ عبادات اور دیگر اعمال میں افراط و تفریط سے بچا جا سکے۔ دنیا کی طرف جھکاؤ ہوگا، تو قارون جیسا بننے کا خطرہ ہے، اور مذہب میں ہو تو رہبانیت کا خطرہ ہے، حالانکہ ارشاد نبویؐ ہے اسلام میں رہبانیت نہیں ہے۔ زندگی میں اعتدال ہونا لازم ہے خواہ عبادات ہوں، خواہ معاملات ہوں معاشی زندگی ہو یا معاشرتی زندگی، ان سب میں توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔

اور یہ کیسے قائم ہوگا؟ جب مومن اعتدال اور عدل سے کام لے گا اپنے رویوں میں بھی اعتدال اختیار کرے گا، معیشت میں بھی بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں عدل اختیار کرے گا، جس سے قرآن و سنت کی تعلیم پر عمل ہوگا، جو کہ اسلام کی روح ہے اس روح کا حصول ہی امت وسط امت معتدل ہی ممکن بنا سکے گی۔ نبیؐ کی امت شہادۃ علی الناس کا بھی فریضہ انجام دے سکے گی، بلکہ پہلی امتوں کے بارے بھی شہادت کا کام دے گی، کیونکہ اس امت محمدیہ کو تعلیم سے معلوم ہوا جیسا کہ قرآن حکیم میں اس کی گواہی موجود ہے اور اسی طرح ”کیا ہم نے تم کو امت معتدل نہیں کہا کہ ہو تم گواہ لوگوں پر اور ہو رسولؐ پر گواہی دینے والا۔“

اس تصور اسلام کو عوام تک پہنچانے کے لئے بہترین فورم، مساجد ہیں۔ جمعتہ المبارک کے خطبوں میں۔ اس تصور کو اجاگر کیا جائے تو نہایت ہی قلیل عرصہ میں اس تصور کو عوام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس امت وسط یا امتِ معتدل کو زندگی کے تمام شعبوں میں اعتدال لانا ہے، خواہ عبادات ہوں یا دنیوی معاملات، ہمارے لئے دین و دنیا دونوں برابر کی اہمیت رکھتے ہیں۔ کسی ایک کی طرف جھکاؤ ہوگا تو توازن کو قائم رکھنا نا ممکن ہوگا، جس کے لئے موثر تعلیم و تدریس کا ہونا لازم ہے۔ انہی تصورات کو نصابی کتب میں شامل کیا جائے تاکہ دین کا صحیح مفہوم اور امت معتدل کا صحیح تصور ابھر کر سامنے آ سکے۔ اسلام میں ہر دینی عمل کی ایک حد ہے، عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ نیک عمل جتنا بھی زیادہ ہو، وہ اچھا ہے، مگر یہ سوچ درست نہیں۔ شریعت نے ہمیں دینی معاملات میں بھی اعتدال کی تعلیم دی ہے، بلکہ اعتدال تو امت محمدؐیہ کی خاص صفت ہے، اسی لئے سورہ البقرہ کی آیت 143 کا ابتدائی حصہ ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ اسی طرح ہم نے تم کو معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول اکرمؐ پر گواہی دینے والا، یہ سمجھنا کہ نیکی کے کاموں میں اعتدال کی ضرورت نہیں اور نیک عمل جتنے بھی زیادہ سے زیادہ کرتے جاؤ درست ہی درست ہوگا، غلط سوچ ہے اور قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ قرآن حکیم نے اور قرآن حکیم کی تشریح کرتے ہوئے نبی اکرمؐ نے ہر عمل کی ایک حد بیان فرما دی ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)

مزید : رائے /کالم