پرویز الٰہی کا آپریشن ٹاور

پرویز الٰہی کا آپریشن ٹاور
پرویز الٰہی کا آپریشن ٹاور

  



نومبر کے مہینے کا آغاز ہی ہمارے لئے کچھ بہتر نہیں تھا۔ مولانا کے دھرنے نے پاکستان کی سیاست کے کئی نہاں، لیکن عیاں گوشے ایک بار پھر عیاں کر دیئے۔ پنجاب اسمبلی کے سپیکر چودھری پرویز الٰہی نے ایک چینل کے معروف صحافی سے طویل گفتگو میں کچھ ایسی باتیں کہہ دیں جو اس سے قبل ان کے مزاج کے برعکس تصور کی جاتی تھیں۔ چودھری پرویز الٰہی پنجاب کے ایک معروف سیاسی خاندان سے تعلق کے علاوہ اپنی ذات میں بھی باکمال ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ پنجاب کی تاریخ کے سب سے کامیاب وزیراعلیٰ ہیں۔ ایک ایسا وزیراعلیٰ جو سیاسی فہم و فراست اور انتظامی تدبر دونوں میں ہنر مند ہے۔ پرویز الٰہی ایسے وزیراعلیٰ نہیں تھے کہ ایم پی اے، ایم این اے تو دور کی بات،اپنی کابینہ کے ارکان سے بھی دور ہی رہنے میں بڑائی تصور کرتے۔

ہمارے خادمِ اعلیٰ ایک ایسے خادم تھے کہ انہیں خدمت کے جذبے نے ایسا مسحور کر لیا تھا کہ وہ اپنی کابینہ کے ارکان کے لئے بھی وقت نہیں نکال سکتے تھے، البتہ انہیں ٹی وی چینلوں پر جالب کی نظمیں اور گیت گاتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا، لیکن ان کے پاس اپنی پارٹی کے لوگوں سے ملنے کا وقت نہیں ہوتا تھا۔ البتہ نوکرشاہی ہر وقت ان کے گرد رکھوالوں کی طرح گھیرا ڈالے رکھتی تھی۔ موصوف نے بھی اپنے دبدبہ کو ہی اعلیٰ منتظم ہے“کا گُر سمجھ لیا تھا۔ نوکر شاہی کی عیاشی کے لئے کمپنیاں بنائی گئیں اور ان کی سرکاری تنخواہوں کے مقابل انہیں ملٹی نیشنل کے سی اوز کی تنخواہیں اور مراعات دی گئیں۔ ان کمپنیوں کی کارکردگی صرف صاف پانی کمپنی کی کارکردگی میں دیکھی جا سکتی ہے اور آج یہ سب نیب کا شکار ہیں۔ موصوف اخبار نویسوں کے ساتھ کبھی کبھار ملاقات کرتے تو دوسرا سوال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔

اول تو اخبار نویسوں کی ایک فہرست خود مسلم لیگ (ن) نے بنا رکھی تھی، لہٰذا سوال وہ کئے جاتے تھے جو خادم اعلیٰ کو پسند ہوتے تھے، لیکن چودھری پرویز الٰہی دور میں نہیں تھا۔ ان سے گفتگو انتہائی کھلے، خوشگوار اور بے تکلف ماحول میں ہوتی تھی۔ ایک محفل کی یاد کبھی نہ محو ہونے والی ہے، اس کا انتظام چودھری صاحب کے سیکرٹری انفارمیشن شعیب عزیز نے کیا تھا۔ ہم سب کی محترم ہستی آپی افضل توصیف نے چودھری صاحب سے پنجابی میں گفتگو کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں دوپہر کے کھانے پر ملاقات تھی۔گفتگو ایسی چلی کہ سہ پہر ہو گئی۔ پنجابی میں گفتگو نے ماحول کو گھریلو سا بنا دیا۔ چودھری پرویز الٰہی نے انہی دنوں Pilak قائم کی تھی۔ جو پنجابی زبان و ادب اور ثقافت کے فروغ کے لئے تھی۔

اس حوالے سے محترمہ بہت خوش تھیں کہ کسی وزیراعلیٰ کو اپنے پنجاب کی اصل اور زبان کا خیال آیا ہے۔ چودھری پرویز الٰہی سے 1122اور لاہور میں میٹروٹرین پر بھی خوب بات ہوئی۔وزیراعلیٰ کو احساس ہوا کہ وقت بہت گزر گیا۔ انہوں نے معذرت کرنا چاہی تو افضل توصیف صاحبہ نے کہا: ”اپنی مادری زبان کا کمال دیکھا، آج پنجاب کے وزیراعلیٰ کو پتہ چل گیا ہو گا جمہوریت اپنی تہذیب کو کیسے بڑھاتی اور اپنی زبان اور ثقافت میں ہی جمہوریت ہوتی ہے“…… اس کے برعکس وہ وقت بھی ہم نے دیکھا جب پنجابی میں بات کرنا ہی نامناسب خیال کیا جاتا تھا۔

پڑھا لکھا پنجاب ایک ایسا پروگرام تھا، جس نے پنجاب میں پرائمری تعلیم میں اضافہ کیا،پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ حکومت پنجاب نے ہزاروں سکولوں کی عمارتیں نجی ہاتھوں میں دینے کا فیصلہ کیا اور ایسے دانش سکول قائم کئے،جن کی افادیت آج تک سمجھ میں نہیں آ سکی، لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ آج کی صورت حال میں جب عمران خان پر سلیکٹڈ کی پھبتی کسی جا رہی ہے، چودھری پرویز الٰہی نے اپنے ٹی وی انٹرویو میں ایک سابق جرنیل پر سیاسی اتھل پتھل کا کھل کر الزام عائد کیا۔ نہ صرف یہ، بلکہ مولانا فضل الرحمن کے بارے میں انتہائی محتاط اور محبت آمیز گفتگو کی۔ اپنے پورے انٹرویو میں انہوں نے کسی کے لئے کوئی غیر مناسب لفظ استعمال نہیں کیا۔ سوائے ایک سی وی کے جو ہمارے خادم اعلیٰ ہر وقت جیب میں رکھے پھرتے ہیں۔

میاں صاحب کی طویل حکمرانی پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ انہوں نے تین دہائیوں میں بار بار حکمرانی حاصل کرنے کے باوجود کوئی ایسا ہسپتال قائم نہیں کیا، جس میں وہ خود علاج کروا سکتے۔ اس حوالے سے چودھری پرویز الٰہی نے میوہسپتال میں کثیر المنزلہ آپریشن ٹاور کا بھی ذکر آیا، جس کی چھت پر ہیلی کاپٹر ایمبولینس اتر سکتی تھی اور جس آپریشن ٹاور میں بیک وقت ہر طرح کے آپریشن کی سہولت اور بیماریوں کے ٹیسٹ کا انتظام شامل تھا۔ اگر مسلم لیگ (ن) اس منصوبے کے ساتھ انتقامی کارروائی نہ کرتی تو شاید آج وہ منصوبہ میاں نوازشریف کے کسی کام آجاتا۔ وزیرآباد کے دل کے ہسپتال کے ساتھ بھی برسوں تک ایسے ہی انتقامی رویے کا مظاہرہ کیا گیا۔

مزید : رائے /کالم