امریکی سی پیک کے خلاف کھل کر سامنے آگئے،21نومبرکو ایلس ویلز کی تقریر پہلے سے طے شدہ تھی:مشاہد حسین سید

امریکی سی پیک کے خلاف کھل کر سامنے آگئے،21نومبرکو ایلس ویلز کی تقریر پہلے سے ...
امریکی سی پیک کے خلاف کھل کر سامنے آگئے،21نومبرکو ایلس ویلز کی تقریر پہلے سے طے شدہ تھی:مشاہد حسین سید

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف  مسلم لیگی رہنما سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ یہ پہلے سے طے شدہ تھا کہ 21 نومبر کو ایلس ویلز کی سی پیک پر تقریر آنی ہے،امریکی سی پیک کے خلاف کھل کر سامنے آگئے ہیں،اُنہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ کے مد مقابل ایک نیا ادار ہ بنایا ہے جوآئی ڈی ایف سی 60 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے،امریکہ کو خوف ہے کہ چین بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اِن کو چین کا مقابلہ کرنا ہے ،اِن کی نیشنل سیکیورٹی نے بھی فیصلہ کرلیا ہے کہ اِن کو سب سے بڑا خطرہ چین اور روس سے ہے جو القاعدہ اور داعش سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔

 نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ یہ پہلے سے طے شدہ تھا کہ 21 نومبر کو ایلس ویلز کی سی پیک پر تقریر آنی ہے،امریکی سی پیک کے خلاف کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ اُنہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ کے مد مقابل ایک نیا ادارہ بنایا ہے اور قانون سازی بھی کی ہے،جس کا ہمارے لوگوں کو علم ہی نہیں، بلڈ ایکٹ بیٹر یوٹیلائزیشن آف انوسمنٹلیڈنگ ٹو ڈویلپمنٹ 60 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے، اس کے لئے نیا ادارہ آئی ڈی ایف سی(انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن) بنایا ہے، امریکہ کو خوف ہے کہ چین بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کو چین کا مقابلہ کرنا ہے اور ان کے خلاف ایک نیا محاذ کھڑا کرنے کی ضرورت ہے،جس میں اُنہوں نے ہندوستان، جاپان، آسٹریلیا اور ویت نام کو شامل کیا ہے،اِن کی نیشنل سیکیورٹی نے بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ ان کو سب سے بڑا خطرہ چین اور روس سے ہے جو القاعدہ اور داعش سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکا کی سی پیک پر اس لئے بھی زیادہ نظر ہے کیونکہ یہ سب سے اہم اور تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس کا جغرافیہ بھی بہت اہم ہے،اگر کوئی سرد جنگ ہوئی تو وہ یہی ہو گی،امریکہ سمجھتا ہے کہ اس کا خطے میں اثر و رسوخ کم ہو گیا ہے اور چین آگے نکل گیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ امریکہ کا وہ اثرو رسوخ نہیں رہا کہ وہ یہ کہہ سکے کہ سی پیک بند کرو یا اس طرح کا کچھ اور لیکن وہ سی پیک کے خلاف سازش کر رہا ہے،امریکہ کو ہماری ضرورت ہے اور ہمارے بغیر افغانستان میں امن نہیں ہو سکتا اس لئے ٹرمپ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ایڈ اور لون کا تاثر غلط ہے، چین نے پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی امداد دی ہے،چین پاکستان کو ا مداد بھی دے رہا ہے ا ور یہاں انوسمنٹ بھی کر رہا ہے دفاعی مدد اِس کے علاوہ ہے۔ انہوں نےکہاکہ پہلے ایم ایل ون منصوبہ چین اورایشین ڈویلپمنٹ بینک بنا رہے تھے،اِس لئےاِن کی مالیت تقسیم تھی لیکن اب 1872 کلو میٹر کا ٹریک صرف چین ہی بنائے گا اس لئے اس کا تخمینہ لگاہے۔

مزید : قومی