علاج میں تاخیر……!

علاج میں تاخیر……!
علاج میں تاخیر……!

  



میاں نواز شریف کا لندن کے بڑے سرکاری ہسپتال میں علاج شروع ہو چکا ہے۔برطانیہ کے علاوہ سوئٹزرلینڈ کے ڈاکٹر ان کا معائنہ کر رہے ہیں۔ ان کے لندن پہنچنے سے پہلے یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا کہ شائد وہ اپنے کسی ہسپتال میں اپنی ”مرضی“ کے ڈاکٹروں سے علاج کروائیں گے، لیکن میاں نوازشریف کی علالت کے بارے میں منفی پراپیگنڈے بار بار غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی مخالفین کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں کہ ایک انتہائی بیمار اور جاں بلب مریض کو بھی نہیں بخش رہے اور لگاتار قوم کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ایسا ہی انہوں نے گذشتہ سال بیگم کلثوم نوازکی بیماری کے دوران کیا تھا اور یہ پروپیگنڈا اس وقت تک ہوتا رہا تھا جب تک بیگم صاحبہ انتقال نہیں کر گئیں۔ یہ مخالفین انسان، مسلمان اورپاکستانی کہلائے جانے کے ہرگز لائق نہیں،ان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ لوگ راہ راست سے اتنے بھٹکے ہوئے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی طاقت انہیں سیدھی راہ نہیں دکھا سکتی۔

گائز اینڈ سینٹ تھامس ہسپتال لندن کے وسط میں واقع ایک سرکاری ہسپتال ہے اور ڈیڑھ سال بعد اسے قائم ہوئے 300 سال پورے ہو جائیں گے۔ سرکاری ہونے کی وجہ سے امیر، غریب، بے وسیلہ اور با وسیلہ سب ہی لوگ یہاں علاج کے لئے آتے ہیں۔ ابتدائی طور پر تشخیص کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تشخیص ہو گئی تو فیصلہ ہو گا کہ کیا علاج ہو گا اور کہاں ہو گا؟ کیا مطلوبہ علاج لندن میں ہی ممکن ہو گا یا اس کے لئے امریکہ یا کہیں اور جانا ہو گا؟ یہ سب باتیں ابھی بہت قبل از وقت ہیں۔ البتہ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا سیل لگاتار گمراہی پھیلانے میں لگا ہوا ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ بون میرو ٹرانسپلانٹ کے لئے مریم نواز شریف بھی لندن جائیں گی۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ٹیسٹ اور تشخیصی مراحل کا ابھی صرف آغاز ہوا ہے،

لیکن سوشل میڈیا پر طرح طرح کے شوشے چھوڑے جا رہے ہیں۔ جن لوگوں میں خوف خدا ہے وہ یقینا میاں نوازشریف کی صحت کے لئے دعا گو بھی ہیں اور ان کی بیماری کے بارے میں تشویش بھی رکھتے ہیں۔ ہمیں صبر سے دیکھنا ہو گا کہ بیماری کی تشخیص کیا ہوتی ہے اور اس کے لئے علاج کیا تجویز ہو تا ہے؟ اسی طرح علاج کے دورانیہ کے بارے میں بھی کچھ کہنا محض قیاس آرائی ہو گی۔ وزیر اعظم عمران خان نے میانوالی میں میاں نواز شریف کی بیماری کا جس طرح مذاق اڑایا ہے، اس پر پوری قوم کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔ اس تقریر میں عدالتوں پر تنقید کرکے عمران خان ایک بار پھر توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے تو وزیر اعظم کی اپنی صحت (ذہنی) پر سوالیہ نشان لگا دئیے ہیں۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق گائز اینڈ سینٹ تھامس ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کا علاج شروع ہونے میں دو ہفتوں کی تاخیر ہوئی ہے۔ جس وقت ان کی بیماری کا پتہ چلا تھا، اسی وقت علاج شروع ہو جاتا تو مریض کے لئے بہت بہتر ہوتا۔اس ہسپتال کا شمار نہ صرف برطانیہ، بلکہ یورپ کے بہترین ہسپتالوں میں کیا جاتا ہے۔ برطانوی میڈیا نے بھی ڈاکٹروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ دو انتہائی قیمتی ہفتے ضائع ہوئے، لیکن اب تشخیصی مراحل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ میاں نوازشریف کی بیماری اور علاج کے حوالے سے یونہی طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جاتی رہیں گی، کیونکہ کچھ لوگوں کی اسائنٹمنٹ ہی تضحیک کرنا ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ برطانیہ کے میڈیکل سسٹم میں سیکریسی کے قوانین اتنے سخت ہیں کہ کوئی مستند بات افشا نہیں ہو سکتی اور جو باتیں میڈیا میں پھیلائی جاتی ہیں، ان میں سے اکثر غیر مستند ہوتی ہیں۔ وہاں کے سسٹم میں صحت کے متعلق کوئی بھی پیش رفت میڈیا کو صرف ہسپتال کی طرف سے پریس ریلیز کی صورت میں بتائی جاتی ہے۔

خیر، جو ہونا تھا ہو گیا۔ میاں نوازشریف کو جس وقت ہائی کورٹ سے ضمانت ملی تھی تو ان کی تشویش ناک صحت کی وجہ سے وزیر اعظم عمران خان کو خود سہولت کاری کرکے انسان دوستی کا ثبوت دینا چاہئے تھا، لیکن ان کی پارٹی اس مسئلے پر اپنی سیاست چمکاتی رہی اور غیر قانونی شرائط رکھتی رہی۔ سیاست ایک طرف، انسانیت زیادہ اہم چیز ہوتی ہے۔ یہ اس لئے بھی ضروری تھا کہ خود وزیر اعظم عمران خان کہہ چکے تھے کہ انہوں نے اپنے ذرائع سے تصدیق کی ہے کہ میاں نوازشریف واقعی شدید علیل ہیں اور وہ انسانی ہمدردی کے تحت ان کے علاج میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ افسوس کہ عمران خان اپنے الفاظ کا پاس نہ رکھ سکے اور غیر قانونی شرائط کی وجہ سے میاں شہباز شریف کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا جس پر عدالت نے ان شرائط، یعنی ضمانتی بانڈ کے بغیر میاں نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لئے جانے کی اجازت دے دی۔ یہ دیکھ کر انتہائی دکھ ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا ابھی تک میاں نواز شریف کی بیماری کا مذاق اڑا رہا ہے اورہر وقت تضحیک میں مصروف رہتا ہے۔

پاکستان میں اپنی سیاست کے لئے محسنوں کی صحت سے کھیلنا کوئی نئی بات نہیں۔ برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کے سب سے بڑے محسن قائد اعظم محمد علی جناحؒ،جنہوں نے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن لے کر دیا، ان کے ساتھ بھی سیاست اور بیوروکریسی کے کرتا دھرتا افراد اور ان کے چمچوں نے ایسا ہی سلوک کیا تھا اور جب انتہائی تشویش ناک حالت میں انہیں کراچی منتقل کیا گیا تو اس بات کو یقینی بنایا گیا تھا کہ قائد اعظمؒ کی ایمبولینس اتنی تاخیر سے ہسپتال پہنچے کہ وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ اسی طرح ان کی ہمشیر ہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا انتقال بھی اس وقت کے حکمرانوں کی وجہ سے مشکوک انداز میں ہوا تھا۔ جس قوم کے حکمران بابائے قوم اور مادر ملت کے ساتھ یہ سلوک کر سکتے ہیں کہ انہیں دنیا سے ہی رخصت کر دیا جائے۔

وہ کسی کی بھی زندگی سے کھیل سکتے ہیں۔ بانیان پاکستان سے زیادہ اس ملک کے لئے کون محترم ہو سکتا ہے، لیکن انہیں بھی نہیں بخشا گیا۔ اسی طرح ایک اور محسن پاکستان حسین شہید سہروردی کی زندگی اور صحت سے وقت کے حکمرانوں نے کھلواڑ کیا جس کے نتیجے میں وہ بھی زندہ نہ رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور میاں نواز شریف کی وجہ سے پاکستان آج ایٹمی طاقت ہے اور ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے دنیا کا کوئی ملک اس کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔

ان دونوں عظیم رہنماؤں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت تو بنا دیا، لیکن اس کا بدلہ اس طرح لیا گیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ میاں نواز شریف ایک پاپولر لیڈر ہیں اور وہ تین بار بھاری اکثریت سے وزیر اعظم بنے لیکن انہیں ہر بار سازشوں کے ذریعے حکومت سے باہر نکالا گیا، انہیں آٹھ سال کی جلا وطنی بھی بھگتنا پڑی۔ وہ نہ اپنے والد کا جنازہ دیکھ سکے کہ جبری جلا وطنی کی وجہ سے آنے کی اجازت نہ ملی اور نہ ہی اپنی اہلیہ کے آخری وقت میں ان سے مل سکے کہ انہیں قید کر دیا گیا تھا۔ میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کو حکومت گرفتار کرکے نہیں لائی تھی، دونوں باپ بیٹی نے بیگم کلثوم نواز کو جان کنی کی حالت میں چھوڑ کر خود واپس آ کر گرفتاری دی تھی۔ ہمارے پاس مصر کی تاریخ کے سب سے مقبول صدر محمد مرسی کی مثال بھی موجود ہے، جنہیں حالت قید میں اذیتیں دے دے کر اس حالت میں پہنچایا گیا کہ وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

ہم فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کے بارے میں بھی جانتے ہیں کہ انہیں پولونیم نامی عنصر کے ذریعے سلو پوائزن کیا گیا اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔ اتنی زیادہ مثالوں کے ہوتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا ہونا ایک یقینی امر ہے۔ قید کے دوران میاں نوازشریف کی طبیعت کا اتنا تشویش ناک حد تک خراب ہو جانا کہ پلیٹ لیٹس کی تعداد صرف دو ہزار رہ جائے، اس بات کی متقاضی ہے کہ میاں نوازشریف کی صحت کے حوالے سے عالمی سطح کے ماہرین پر مشتمل ایک کمیشن بنایا جائے جو تمام باتوں کی تحقیقات کرے۔ اگر یہ باتیں نہ بھی ہوں، تب بھی جس طرح میاں نواز شریف کے علاج میں دو ہفتوں کی تاخیر کی گئی، اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے کہ ایسا کیوں ہوا؟گائز اینڈ سینٹ تھامس ہسپتال کے عالمی طور پر مستند ڈاکٹروں کی اس بات کے بعد کہ ان کا علاج کم از کم دو ہفتے پہلے شروع ہو جانا چاہئے تھا، تحقیقات کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی سیاسی صورت حال بہت پیچیدہ مراحل سے گذر رہی ہے۔

فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع ہونے جا رہی ہے اور ممکن ہے پانچ دسمبر کو چیف الیکشن کمشنر کی ریٹائرمنٹ کے دن تک اس کا فیصلہ آ جائے۔ پرویز مشرف غداری کیس کا فیصلہ بھی آنے والے ہفتے میں متوقع ہے۔ چیئرمین نیب نے بھی ہواؤں کا رخ بدلنے کی نوید دی ہے، جبکہ چیف جسٹس بھی حکومت کو میاں نواز شریف کی صحت کے حوالے سے غلط بیانی پر آڑے ہاتھوں لے چکے ہیں۔ اُدھر عسکری قیادت کے تقرر کے حتمی فیصلے ہو جانے کے بعد آنے والے چند ہفتے انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا دھرنا بہت سارے حوالوں سے کامیاب رہا ہے اور مطلوبہ نتائج میں تاخیر کی صورت میں اس سے بڑے دھرنے اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کی آپشنز اپنی جگہ موجود ہیں، جو سیاسی طور پر حکومت کو کسی بھی وقت کلین بولڈ کر سکتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ سیاسی معرکے چلتے رہیں گے، جن کی وجہ سے حکومت کی رخصتی کے امکانات بتدریج بڑھتے جائیں گے، لیکن اس وقت اہم ترین مسئلہ میاں نواز شریف کی صحت کا ہے، جس میں پہلے ہی وزیر اعظم عمران خان کی ضد اور انا کی وجہ سے دو قیمتی ہفتوں کی تاخیر ہوئی ہے۔ اللہ کرے میاں نواز شریف محمد مرسی یا یاسر عرفات نہ بنیں اور صحت مند ہو کر وطن واپس آئیں۔

مزید : رائے /کالم