ابرار احمد کی نظمیں: گمشدہ ورثے کی بازیافت

ابرار احمد کی نظمیں: گمشدہ ورثے کی بازیافت
ابرار احمد کی نظمیں: گمشدہ ورثے کی بازیافت

  



ادبی حلقے حیران ہیں کہ اپنے کالموں میں کسی کی تعریف نہ کرنے والے ظفر اقبال لاہور میں مقیم نظم کے شاعر ابرار احمد کی نظموں کو اپنے کالموں میں مسلسل جگہ کیوں دے رہے ہیں۔ اسی سوال نے مجھے بھی اپنے حصار میں لیا اور مَیں نے ابرار احمد کی نظموں کے تازہ مجموعے ”موہوم کی مہک“ تک رسائی حاصل کی، تاکہ دیکھ سکوں کہ جس جہانِ حیرت کی نشاندہی ظفر اقبال اپنے کالموں میں کر رہے ہیں، وہ آخر ہے کتنا حیران کن تخلیقی تجربہ،پھر موہوم کی مہک میں شامل نظمیں پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں ظفر اقبال کا یہ جملہ گونجتا رہا: ”مَیں اکثر حیران ہوتا کہ ابرار احمد ایسی زبردست نظمیں کیسے لکھ لیتا ہے؟ اس کی نظم اپنے سارے حسن کے ساتھ آپ پر حملہ آور ہوتی ہے اور آپ بچ کر کہیں نہیں جا سکتے“…… حقیقت یہ کہ مَیں اس کی نظموں کے سحر میں مبتلا ہوں،

اس سحر میں خوشی اور حیرت کے تاثرات بھی شامل ہیں، خوشی اِس لئے کہ اس کی نظمیں پڑھ کر اپنے کھوئے ہوئے ورثے کی بازیافت محسوس ہوتی ہے اور حیرت اس لئے کہ وہ اس جدید زمانے میں بھی اپنے اس اصل سے جڑا ہوا ہے، جسے زندگی کے منہ زور تھپیڑے پوری شدت سے مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔یہ ابرار احمد کی نظموں کا دوسرا مجموعہ ہے۔ پہلا مجموعہ تقریباً 22 برس پہلے ”آخری دن سے پہلے“ کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ اس 22 برس کے عرصے میں ابرار احمد نے فکر و خیال کے کتنے در وا کئے، کتنے نئے روزن کھولے، اس کی کہانی الگ ہے، تاہم نظموں کی صورت میں انہوں نے اس صف کے دامن کو اس قدر متنوع اور کشادہ کر دیا ہے کہ اب کوتاہ دامنی قصہئ پارینہ نظر آتی ہے۔ نظمیں کیا ہیں معاشرے کے کینوس پر بکھرے ہوئے مناظر ہیں۔امیجری کی تکنیک نے ان مناظر کو صفحہئ قرطاس پر اس خوبصورتی سے اتارا ہے کہ سب کچھ سامنے چلتی پھرتی تصویر کی طرح رقصاں دکھائی دیتا ہے، ذرا ”کیا کچھ ایسا ہی تھا“ کے اس منظر کو دیکھئے:

وہاں ناشتے سے سجی میز تھی

اور کافی سے

جیسے۔ ولوں کی تپش

بھاپ بن کر

ہر ایک سمت بہتی چلی جا رہی تھی

کوئی سر خوشی تھی

جدائی کی دلدوز چپ سے بھری

اور ہم……

اپنی اپنی زمینوں کے قصے سناتے ہوئے

پیاسی آنکھوں سے

اک دوسرے کو تکے جا رہے تھے

کہ جیسے۔ یہ منظر رہے گا نہیں

اس طویل نظم کو آگے چل کر ابرار احمد نے جس طرح ایک نا سٹلجائی انداز میں انسانی خواہشات کی بے بسی سے عبارت کیا ہے، وہ اس نظم کو شاہکار نظم کے دائرے میں داخل کر دیتی ہے۔ طویل نظم میں ایک خاص موقع اور کیفیت کو پوری جزئیات اور شدت کے ساتھ برقرار رکھنا بہت تخلیقی کاملیت مانگتا ہے۔ یہ تخلیقی کاملیت ابرار احمد کے ہاں اپنے اوجِ کمال پر نظر آتی ہے۔ یہ میری اپنی رائے ہے، کوئی اس سے اتفاق کرے یا نہ کرے۔ ابرار احمد کی نظمیں پڑھتے ہوئے غزل جیسی رومانویت اور چاشنی کا احساس ہوتاہے۔ وہ اکہرا شاعر نہیں، اس نے غزل کے میدان میں بھی اپنے تخلیقی جوہر دکھائے اور آج سے بارہ برس پہلے ”غفلت کے برابر“ غزلوں پر مشتمل ان کا مجموعہئ کلام شائع ہو چکا ہے۔

مجھے یاد ہے اس مجموعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے مَیں نے ابرار احمد کی غزل کو نئی نسل کی صفات سے بہرہ مند قرار دیا تھا۔ اس کی ڈکشن، خیال اور طرز احساس سب نیا اور عہد جدید کے رنگوں سے ہم آہنگ تھا۔ اب نظموں کے اس مجموعے کو بھی مَیں اسی تناظر میں دیکھ رہا ہوں۔ اس کی نظموں میں کھردرے اور پتھریلے لفظوں سے اکھاڑ پچھاڑ نہیں کی گئی، بلکہ کومل اور سریلے لفظوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ نظموں کا مطالعہ کرتے کرتے میری نظر اس مجموعے کے صفحہ 156 پر موجود نظم ”بات تو ایک ہی ہے“ پر آکر ٹھہر گئی، بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ اس نظم نے مجھے جکڑ لیا۔ نسبتاً مختصر نظم ہونے کے باوجود اس کی خوبصورت بنت اور ٹیپ کے اس مصرے ”بات تو ایک ہی ہے“ نے اس کے تاثر اور معنویت کو دو آتشہ کر دیا ہے۔ اس نظم کا ایک بند ملاحظہ کریں:

آہستہ چلیں یا تیز

ایک بار ہی آنسو بہا دیں

یا انہیں اپنے اندر جمع رکھیں

ڈھیروں باتیں کریں

یا چپ کی دھول میں لپٹے رہیں

اُجلے لباس پہنیں

یا موسموں کی چادر اوڑھے رہیں

خاک کی طرح بیٹھ رہیں

یا اُونچی ہواؤں میں اڑتے پھریں

دیوار کے ساتھ لگے رہیں

یا درد کی ٹھوکریں کھائیں

بات تو ایک ہی ہے

رجائیت کی یہ کیفیت اس کی نظموں میں غالب نظر آتی ہے۔ قنوطیت سے وہ دور ہے۔ اس کی نظموں کا یہی پہلو اسے بڑا بناتا ہے۔ موضوعات کا تنوع اس کی نظموں کا ایک اور بڑا وصف ہے۔ محبت تو اس کی نظموں میں پرکار کا مرکزی نکتہ ہے، تاہم اس کی پرکار زندگی کے پر زاویئے کو چھوتی ہے۔ پھر اس کی اخلاقی نظموں کے عنوانات سے بھی جھلکتی ہے۔ متحرک عنوانات کے ذریعے اس نے اپنی نظموں کے متن کو چند لفظوں میں مرکوز کیا ہے۔ ابرار احمد کی نظمیں قاری کو اجنبیت کا احساس نہیں دلاتیں،نہ ہی خیالات کا بوجھل پن قاری کو ان سے لاتعلق ہونے دیتا ہے۔ شاید اسی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے ظفر اقبال نے یہ کہا کہ اس کی نظم اپنے سارے حسن کے ساتھ آپ پر حملہ آور ہوتی ہے اور آپ بچ کر کہیں نہیں جا سکتے۔ مجھے اقبال فہیم جوزی کی اس رائے سے اتفاق ہے کہ ابرار احمد کی شاعری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم نے سماجی حقیقت نگاری کا روپ اختیار کر کے اپنے دماغ کے خلیوں کو غیض و غضب کی لپٹوں سے تابناک تو کیا، لیکن اس کے دام یوں چکائے کہ بھگت کبیر کے گریہ، میر کی کوملتا اور بلھے شاہ کے جذب کو فراموش کر دیا۔ ابرار احمد کی نظم ”بہت یاد آتے ہیں“ سے ایک اقتباس:

بہت یاد آتے ہیں

بڑھے ہوئے بال

منکوں کی مالا

سرمنڈل کی تان

پرانی کتابیں

وقت بے وقت کئے ہوئے غلط فیصلے

پہلے سفر کی صعویت

کچھ مکان اور دروازے

اور جب یہ دروازے بند ہوئے

مزید : رائے /کالم