من کہ ایک لکھا پڑھا جاہل ہوں!

من کہ ایک لکھا پڑھا جاہل ہوں!
من کہ ایک لکھا پڑھا جاہل ہوں!

  



ایک عزیز کچھ روز سے میرے مہمان ہیں۔ آج ناشتے پر انہوں نے یہ خبر ”بریک“ کی کہ: ”جب ہم سکول کے طالب علم تھے تو ایک جاپانی ین سات پیسے کا ہوتا تھا اور آج ایک روپیہ چالیس پیسے کا ہے“…… میں نے سن کر کہا: ”یاد کیجئے اس وقت آپ کے والد صاحب کی ماہانہ آمدن کیا تھی اور آج کیا ہے۔ کرنسی کی شرحِ تبادلہ تو ایک معروضی مسئلہ ہے۔ آج اگر کم ہے تو آنے والے کل میں زیادہ ہونے کے سو فیصد امکانات ہیں۔ زمانہ کبھی ایک جیسا نہیں رہا۔ ہم تغیرات کی دنیا میں سانس لے رہے ہیں۔ میں چونکہ آپ سے عمر میں بڑا ہوں اس لئے میرے بچپن یا لڑکپن میں بین الاقوامی کرنسی کی شرح تبادلہ، آج کی شرح کی نسبت بہت مختلف تھی“۔…… یہ ایک اچھا اور معلوماتی موضوع تھا اور ہم دیر تک اس پر گفتگو کرتے رہے۔ ناشتہ ختم ہو گیا لیکن بحث جاری رہی۔ ہم پاکستانی ویسے بھی دن بدن بحث و مباحثے کے زیادہ عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمیں یہ نعمت بفیض ِ میڈیا عطا ہوئی ہے۔ بات میں سے بات نکالنے اور بال کی کھال ادھیڑنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ’ناشتہ‘ جلد ختم ہو جاتا ہے۔ ویسے بھی کھاتے ہوئے منہ چلتا رہتا ہے، اسے مزید چلتا رکھنے کے لئے الیکٹرانک میڈیا سے ’کیو‘ (Cue) لینے میں کیا ہرج ہے؟ کوئی سا چینل آن کریں۔ ایسے ایسے موضوعات زیرِ بحث ہوں گے کہ سن کر آپ پر چودہ سے زیادہ طبق روشن ہو جائیں گے…… ہمارے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ بات کرنسی کی شرح تبادلہ سے شروع ہوئی تو پھیلتی چلی گئی۔

اب زیرِ بحث مسئلہ یہ تھا کہ پاکستان کی معیشت ڈانوں ڈول کیوں ہے۔ ہمارے گردشی قرضے اور خسارے کیوں بڑھتے جا رہے ہیں۔جو لوگ ماضیء قریب میں ان دکھوں کا مداوا کرنے آئے تھے وہ ناکام کیوں ہو گئے، کیا ہم اتنے ہی اجڈ، کودن اور جاہل قوم ہیں کہ گزشتہ سات عشروں میں اپنی اقتصادیات کے روگوں کی نشان دہی بھی نہیں کر سکے…… بات ٹیکٹیکل لیول سے شروع ہوئی۔ میرے دوست نے کہا: ”دیکھئے ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کا ہر چوتھا مرد یا عورت شوگر، بلڈ پریشر، دمہ اور موٹاپے وغیرہ کا مریض ہے۔ ہمارا میڈیا کئی برسوں سے ہمیں خبردار کر رہا ہے کہ کوک کی ایک بوتل میں 6چمچ چینی ہوتی ہے، میکڈونلڈ اور کے ایف سی جو کچھ مل رہا ہے، وہ جنک فوڈ ہے، سیگریٹ کی ہر ڈبیا پر اردو اور انگریزی میں یہ انتباہ درج ہوتا ہے کہ تمباکو نوشی زہرِ قاتل ہے لیکن کیا ہمارے ریستوران فیشن ایبل اور پڑھے لکھے لوگوں سے ہمہماتے نظر نہیں آتے؟…… رات دن رش لگا رہتا ہے، ٹیک ہوم کے لئے قطار بنانی پڑتی ہے، خالی ٹیبلیں نظر نہیں آتیں، بعض پارٹیاں چپ چاپ پِزے پہ پِزا نگلتی نظر آتی ہیں اور بعض قہقہے لگا لگا کر وہ ساری اشیائے خوردونوش حلق سے نیچے اتار رہی ہوتی ہیں جن کو میڈیا Tabooبلکہ زہر قرار دیتا ہے۔ لہٰذا میڈیا کا تو قصور نہیں کہ اس نے تو آپ کو خبردار کرنے کا حق ادا کر دیا ہے۔ آپ کا لباس، وضع قطع، گفتگو، طریقہ سلیقہ وغیرہ اگر سب کچھ پڑھے لکھوں والا ہے تو سوال یہ ہے کہ آپ اس سراپا کے ساتھ کوک، پِزا، میکڈونلڈ وغیرہ کا زہر کیوں کھاتے پیتے ہیں اور جب عین عنفوانِ شباب میں ہسپتال جا پہنچتے ہیں تو قسمت کو کیوں کوستے ہیں؟……ذرا سوچ کر بتایئے کہ کیا ہم لکھے پڑھے جاہل نہیں؟

میں نے ان کی بات کو آگے بڑھایا اور کہا کہ ہماری کرنسی کی شرح دن بدن اس لئے کم ہو رہی ہے کہ ہماری درآمدات زیادہ اور برآمدات کم ہیں۔ کیا میڈیا نے کبھی اس موضوع پر کوئی ٹاک شو منعقد کیا کہ ہماری درآمدات کی انواع و اقسام کیا ہیں، ہم ان کی درآمد پر ہر سال کتنا زرِمبادلہ باہر بھیج دیتے ہیں، ان درآمدات کی کبھی کسی چینل نے یہ کلاسی فیکیشن بھی کی ہے کہ کون کون سی کاسمیٹکس ہم باہر سے منگوا رہے ہیں،ان کو اندرون ملک کیوں نہیں بنایا جا سکتا، کن کن ممالک سے یہ سامانِ آرائش منگوایا جاتا ہے اور کیا اس کا حجم کم کیا جا سکتا ہے؟ ایک ایک لپ اسٹک کی قیمت سینکڑوں ہزاروں میں کیوں ہے کہ اور جِلد کو نکھارنے والی اشیائے تعیش کون کون سی ہیں اور ان کو پاکستان میں مینوفیکچر کرنے میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں؟

پھر بات اور آگے نکلی توکاروں کی درآمد تک آ گئی۔ میں نے کہا کہ کیا ہمارے صاحبانِ کار، پڑھے لکھے نہیں؟ کیا ان کے ذہن میں کبھی یہ سوال اٹھا کہ یہ قیمتی گاڑیاں جو ہم باہر سے منگواتے ہیں ان کو اندرونِ ملک اسمبل کرتے وقت ان کے کون کون سے پرزے باہر سے آتے ہیں؟ آپ کو حیرانی ہو گی کہ ہم کار کی باڈی تو بنا لیتے ہیں لیکن اس پر پینٹ کرنے کی محتاجی کے دائمی اسیر ہیں۔ ہم ایسے ٹائر کیوں نہیں بنا سکتے جو باہر سے منگواتے ہیں؟…… یہ سن کر میرے مہمان نے ایک اور بحث چھیڑ دی!

وہ بحث یہ تھی کہ ہم اگر اپنے موٹرسائیکل کا انجن خود بنا لیتے ہیں تو کار کا انجن کیوں نہیں بنا سکتے؟ وہ کیا رکاوٹ ہے جو ہمیں کار وغیرہ کے انجن بنانے سے روکتی ہے؟ہماری یونیورسٹیوں سے آئے روز درجنوں انجینئرز اعلیٰ ڈگریاں لے کر نکلتے ہیں۔ کیا ان کو یہ خبر نہیں کہ کار کا انجن کس دھات سے بنتا ہے؟کیا دھات سازی (Metallergy) کا مضمون ہماری کسی ٹیکنیکل یونیورسٹی میں نہیں پڑھایا جاتا؟ کیا سبب ہے کہ ہم جاپان، یوکرائن اور چین سے گاڑیوں کے انجن درآمد کرکے اپنا بیش قیمت زرِ مبادلہ ان ملکوں کی جیبوں میں ڈال رہے ہیں؟ کیا ہماری گاڑی کے بونٹ کے نیچے جو پرزے لگے ہیں، ان میں سے بیشتر کو پاکستان میں اسمبل نہیں کیا جا سکتا؟ ذرا اور آگے بڑھیں تو ہمارے دفاعی پیداوار کے کارخانے کیا کر رہے ہیں؟…… کیاہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں ٹینک انجن بھی بنائے جاتے ہیں؟ کیا پی اے سی کامرہ میں جہازوں کے انجنوں کو تو چھوڑیں ان کے لینڈنگ گیئرز (ٹائر وغیرہ) کو پاکستان میں کیوں نہیں بنایا جا سکتا؟

پاکستان آرڈننس فیکٹریز واہ میں گزشتہ سات عشروں سے سٹیٹ آف دی آرٹ اسلحہ سازی کا ڈول کیوں نہیں ڈالا گیا اور ہم یہ اسلحہ جات بیرونی ممالک سے خریدنے پر کیوں مجبور ہیں؟…… امریکہ، روس، چین اور جاپان وغیرہ تو ہوائی جہازوں سے آگے نکل کر خلائی شٹل بنا چکے اور چاند پر اتر چکے اور اِدھر ہم ہیں کہ مسلح ڈرون تک کی صرف ابتدائی اقسام (Generations) ہی پر اکتفا کئے بیٹھے ہیں۔ اس سے آگے کب نکلیں گے؟ کون ہو گا جو ہمیں یہ سبق دے گا کہ پہلے کسی ایجاد کا دماغ بناؤ، جسم بعد میں بنانا…… ہم دھڑ تو کسی نہ کسی سکیل کا تشکیل کرکے مجسم کر رہے ہیں لیکن دماغ کی طرف نہیں آتے اور جب تک دماغ نہیں بنتا، جسم بنانے کا کیا فائدہ؟ ہم…… 72برسوں میں ”ٹوٹا پھوٹا“ جسم بنانے ہی تک پہنچے ہیں، دماغ بنانے کی کوئی فکر نہیں …… لکھ پڑھ کر جاہل بننے کا ثبوت اور کیا ہو گا؟

ہم باہر سے سرمایہ کاری کے منتظر رہتے ہیں۔ ریلوے کے ایم ایل ون (مین لائن۔ ون) منصوبے کی تمنا ہمارے وزیر ریلوے کے سینے میں ایک پھانس بنی ہوئی ہے۔ وہ فرمایا کرتے ہیں کہ راولپنڈی میں نالہ لئی کا پل اور ایم۔ ایل ون تکمیل پا جائیں تو وہ ہمیشہ کے لئے سیاسیات سے مستعفی ہو جائیں گے…… شائد ایسا ہی ہو…… شائد وہ سنجیدگی سے ایسا سوچ رہے ہوں …… شائد ان کو معلوم ہو کہ نہ ہو کہ یہ دونوں منصوبے آنے والے کئی برسوں میں ہم پاکستانیوں سے نہ مکمل ہوں گے اور نہ شیخ صاحب سیاست ترک کریں گے……نہ نو من تیل ہو گا، نہ رادھا ناچے گی!…… اور جب رادھا ناچے گی تو نومن تیل جل چکا ہو گا اور صبح ہو چکی ہو گی۔(بلراج ساہنی کا وہ مشہور ڈائیلاگ یاد کیجئے:”دِیا نہیں دیئے کا تیل جلتا ہے اور جب تیل جل چکتا ہے، صبح ہو جاتی ہے“

ہم ہر سال انہی ایام میں سموگ کا شکار ہوتے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ انڈیا کے مشرقی پنجاب میں کپاس کی جو چھڑیاں جلائی جاتی ہیں ان کا دھواں اور دونوں ممالک کے کارخانوں کی چمنیوں سے نکلنے والا دھواں اس سموگ کا سبب ہے۔لیکن ہم اس کی روک تھام کے لئے کیا کرتے ہیں؟کئی برسوں سے دہلی اور لاہور اس آزار کا شکار ہیں اور اس بار تو لاہور کے علاوہ گوجرانوالہ اور فیصل آباد کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا حکم دے دیا گیا۔آئے روز کسی نہ کسی بہانے سکولوں میں چھٹیاں کر دی جاتی ہیں۔ہم موسم گرما کی تین ماہ کی روایتی تعطیلات کو کم کر کے دو ماہ کا کیوں نہیں کرتے؟اور اس طرح ادھورے سلیبس کی تکمیل کی تلافی کیوں نہیں کرتے؟۔

ہر روز موٹر سائیکل کے ہزاروں حادثات ہوتے ہیں،ان کی روک تھام کے لئے کیا کوئی ایسا ٹریفک نظام وضع نہیں کیا جا سکتا،جو ان حادثات کی تعداد کم کر دے۔

؟ کیا جن سڑکوں پرایک سے زیادہ تعلیمی ادارے واقع ہوں ان کے کھلنے اور بند کرنے کے اوقات میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی؟ مثال کے طور پر لاہور شہر میں جیل روڈ پر کنیرڈ کالج اور لاہور کالج فار وومن واقع ہیں۔کہنے کو تو یہ سڑک سگنل فری ہے،لیکن ان دونوں کالجوں کے سامنے سڑک پار کرنے کے پل موجود ہونے کے باوجود ان پلوں کو استعمال کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کالج لگنے اور چھٹی ہونے کے اوقات میں ان کے سامنے والے حصہ ئ سڑک پر ٹریفک جوں کی طرح رینگتی ہے۔ ہم نے اس مشکل کا حل کیا نکالا ہے؟ ٹریفک پولیس یہاں کیوں ناکام ہے؟ ان کالجوں کی پڑھی لکھی طالبات اوور ہیڈ برج استعمال کیوں نہیں کرتیں، ان کو لینے کے لئے جو گاڑیاں آتی ہیں وہ سڑک پر کیوں کھڑی کی جاتی ہیں اور سروس روڈ کا استعمال کیوں نہیں کیا جاتا؟ بظاہر یہ بہت معمولی باتیں ہیں لیکن قوم کو سکھانے کے لئے اس عمر میں اگر کوشش نہیں کی جائے گی تو بڑی ہو کر یہی طالبات جب الیکشنوں میں ووٹ کا استعمال کریں گی تو ان میں عقل ِ سلیم (کامن سینس) کا استعمال کیسے کر سکیں گی؟…… بس یہی حال ہماری پوری قوم کا ہے۔ ہم معمولی باتوں کو پس ِ پشت ڈال کر غیر معمولی باتوں کے ساتھ یہی سلوک کرنے کا ارتکاب کرتے ہیں۔

خشتِ اول جو نہد معمار کج

تا ثریا می رود دیوار کج

(جب معمار کسی دیوار کی تعمیر میں پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھے گا تو آسمان تک جاتے جاتے بھی یہ دیوار ٹیڑھی ہی رہے گی)

من حیث القوم ہم نے جمہوری طرزِ حکومت سے دور رہنے کی ابتدا کر کے پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دی تھی۔اس لئے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ٹیڑھے پن کو سیدھا کرنے کی فکر کریں۔ اور اس ٹیڑھی دیوار کو گرا کر ازسرِ نو تعمیر کرنے کا کوئی پروگرام بنائیں۔اور اگر ایسا نہ کر سکیں، ساری دیوار نہ گرا سکیں تو اس ”کج ادائی“ کا کوئی دوسرا علاج ہی تلاش کریں۔…… افسوس ہم ایسا بھی نہیں کر رہے۔…… دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی، جاپان اور اٹلی شکست خوردہ اقوام تھیں۔ان کی ہر گلی اور ہر کوچہ منہدم ہو گیا تھا لیکن صرف دو عشروں کے بعد ان تینوں اقوام نے اپنی تعمیرِ نو پر توجہ دی اور آج دیکھئے ان کی اکانومی کہاں کھڑی ہے،ان کا دفاع کتنا مضبوط ہے اور ان کا بین الاقوامی قد کتنا بلند ہے۔……کیا ہم72 برسوں کے بعد بھی یہ نہیں سوچتے کہ 1945ء میں ان تباہ حال ممالک نے کون سا طریقہ اپنایا کہ آج74 برسوں کے بعد وہ ہر شعبے میں ہم سے کوسوں آگے نکل چکے ہیں؟

مزید : رائے /کالم