معاشرہ کو منشیات سے پاک کرنا وقت کی ضرورت ہے، گورنرسندھ

معاشرہ کو منشیات سے پاک کرنا وقت کی ضرورت ہے، گورنرسندھ

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ منشیات ہماری نوجوان نسل کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے، معاشرہ کو منشیات جیسی موذی لعنت سے پاک کرنا اور نوجوان نسل کو اس سے محفوظ بنانا وقت کی اشد ضرورت ہے، والدین گھروں کے ماحول پر نظر رکھ کر اپنی نسل کو اس مرض سے محفوظ بناسکتے ہیں جبکہ منشیات سے بچاؤ اور عوام کو آگاہی فراہم کرنے کے لئے میڈیا کو بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسکولوں میں منشیات کی روک تھام میں کردار ادا کرنے کی خواہش مند رضاکار خواتین کے وفد سے گورنر ہاؤس میں ملاقات کے دوران کیا۔ واضح رہے کہ گورنر سندھ اور بیگم گورنر سندھ کی جانب سے اٹھائے گئے اس اقدام کے تحت بیگم گورنر سندھ کی سربراہی میں یہ رضاکار خواتین اسکولوں میں منشیات کی روک تھام کے لئے آگاہی مہم چلائیں گی۔ اس موقع پر پرنسپل سکریٹری ٹو گورنر سندھ خاقان مرتضیٰ، سکریٹری ٹو گورنرناصر اقبال ملک، چیف سی پی ایل سی زبیر حبیب، میڈیسن اسپیشلسٹ ڈاکٹر مہ جبیں اسلام اور دیگر بھی موجود تھے۔ ملاقات میں منشیات جیسی موذی مرض سے بچاؤ اور اس کے مکمل خاتمہ کیلئے کئے گئے اقدامات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں گورنر سندھ نے کہا کہ اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث عناصر کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے، اس ضمن میں انسداد منشیات فورس (ANF)، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ گورنر سندھ نے مزید کہا کہ منشیات فروشوں کا اصل ہدف اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز کے طلبہ ہوتے ہیں اس لئے تعلیمی اداروں کے اطراف بھی ان منشیات فروشوں پر سخت نظر رکھنا ہوگی اور ان منشیات فروشوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی بھی ضرورت ہے، اس ضمن میں حکومت متعلقہ اداروں کو ہر ممکن تعاون و مدد فراہم کررہی ہے۔ گورنرسندھ نے کہا کہ کراچی میں 6 ہزار سے زائد پرائیویٹ اسکولز ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پہلے مرحلے میں اسکولز مالکان کو اس پروگرام کے بارے میں آگاہی فراہم کریں جبکہ دوسرے مرحلے میں رینجرز کے بحالی سینٹرز میں موجود بچوں کو معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے لئے تربیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مہم کے لئے فنڈ ریزنگ کا اہتمام بھی کیا جائے۔ اس موقع پر ڈاکٹر مہ جبیں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مختلف این جی اوز کے تحت شہر میں قائم منشیات سے متاثرہ افراد کی بحالی کے سینٹرز کو بھی اس مہم میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ منشیات سے متاثرہ افراد کی بحالی میں دواؤں کے علاوہ مشترکہ اور انفرادی طور پر ان کے ساتھ بات چیت کرنا اہمیت کا حامل ہے۔ اس موقع پر چیف سی پی ایل سی زبیر حبیب نے بتایا کہ انسداد منشیات کے لئے سی پی ایل سی میں سیل قائم کیا گیا ہے جسے اے این ایف اور رینجرز کی معاونت حاصل ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر