تشدد‘ بے حرمتی کی ویڈیو وائرل ہونے پر اساتذہ میں تشویش کی لہر 

تشدد‘ بے حرمتی کی ویڈیو وائرل ہونے پر اساتذہ میں تشویش کی لہر 

  



ملتان (سٹاف رپورٹر) یونیورسٹی‘کالج و سکول کے اساتذہ و ماہرین تعلیم نے نجی کالج کے استاد پر مسلح افراد کے تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمان کو نشان عبرت بنانے کا مطالبہ کر دیا(بقیہ نمبر12صفحہ12پر)

 ہے۔“روزنامہ پاکستان ٹیلیفونک فورم“ میں بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر مقرب اکبر نے کہا ہے کہ استاد پر تشدد اور بے حرمتی کی ویڈیو وائرل ہونے پر ملک بھر کے اساتذہ میں تشویش اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے‘اس سے یوں ثابت ہوتا ہے کہ استاد کمزور ہے جس کی بنا پر اس کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور بے حرمتی کی گئی ہے‘ اس ویڈیو کو دیکھ کرمعلوم ہوتا ہے کہ بھارت جیسا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔وہاں پر بھی ہندو انتہا پسند بے گناہ مسلمانوں پر اسی طرح لاٹھیوں اور دیگر ہتھیاروں سے تشدد کرتے ہیں‘ اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے‘ کم ہے‘حکومت اس کیس کا سخت نوٹس لے‘ ریاست خود مدعی بنے اور ملزمان کو نشان عبرت بنائے۔مسلم گروپ آف سکولز اینڈ کالجز کے ڈائریکٹر‘ سینئر استاد و ماہر تعلیم محمد سلیم تونسوی نہ کہا ہے کہ استاد کو روحانی باپ کا درجہ حاصل ہے‘ ان طلباو اوباشوں نے اپنے باپ پر تشدد کیاہے اور بے حرمتی کی ہے‘ انہوں نے کہا کہ مسلم گروپ آف سکولز اینڈ کالجز میں ڈسپلن کی پابندی کرائی جاتی ہے‘ اساتذہ تمام طلبہ کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتے ہیں جبکہ طلبہ کو باور کرایا جاتا ہے کہ اساتذہ ان کے والدین کا درجہ رکھتے ہیں‘ا س لئے ان کی عزت و احترام کو مقدم رکھیں‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو نشان عبرت بنا دیاجائے۔ گورنمنٹ ایمرسن کالج کے پروفیسر عثمان جان نے کہا ہے کہ ایک استاد پر تشدد اور بے حرمتی کے واقعہ پر ملک بھر میں اساتذہ کمیونٹی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے‘ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارا معاشرہ کس طرف جار ہا ہے‘ یہ ویڈیوتو اب سامنے آئی ہے‘ اس سے پہلے یہ ملزمان نجانے کس کس کے ساتھ کیا کیا سلوک کر چکے ہوں گے۔پنجاب ٹیچرز یونین کے صوبائی سینئر نائب صدر رانا الطاف حسین نے کہا ہے کہ یہ نہایت شرمناک واقعہ ہے‘ جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے‘کم ہے‘ ملزمان کو نشان عبرت بنانا چاہئیے تاکہ آئندہ پھر کوئی استاد پر اس قدر ظلم کرنے کی جرات نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ استاد کا معاشرے میں اہم کردار ہے‘ استاد بچوں کی تعلیم و تربیت کرتا ہے‘ ملزمان کو سرعام سزا دی جائے اور ریاست اس کیس میں مدعی بنے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر