انتہا پسند اور شدت پسند عناصر کسی مذہب کے نمائندے نہیں:قائدین مذہب و مسالک

انتہا پسند اور شدت پسند عناصر کسی مذہب کے نمائندے نہیں:قائدین مذہب و مسالک

  



 لاہور (آن لائن)پاکستان میں تمام مذاہب و مسالک کی قیادت نے ناروے میں قرآن کریم جلانے کی جسارت کی مذمت کرتے ہوئے عالمی سطح پر آسمانی مذاہب اور مقدسات کے احترام کی قانون سازی کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے، انتہا پسند اور شدت پسند عناصر کسی مذہب کے نمائندے نہیں،ناروے حکومت اور یورپی یونین اسلامک فوبیا کے نام پر مسلمانوں کے خلاف ہونے والے اقدامات پر فوری کاروائی کرے، 25 نومبر کو اسلام آباد میں تمام مذاہب و مسالک کے قائدین اہم پریس کانفرنس کریں گے، قرآن کریم کو جلانے کی جسارت روکنے و الی کوشش کرنے والے نوجوان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، یہ بات پاکستان علماء کونسل لاہور کے زیر اہتمام تمام مذاہب و مسالک کے قائدین کے اجلاس کے بعد مشترکہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا پروفیسر عبد الرحمن لدھیانوی، علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا مفتی محمد علی نقشبندی، مولانا محمد شفیع قاسمی، پادری عمائنول کھوکھر، پادری شاہد معراج،بشپ ڈاکٹر آزاد مارشل، فادر جیمز چنن، پادری سلیم، سردار بشن سنگھ، مولانا غلام مصطفیٰ حیدری اور دیگر نے کہا کہ ناروے میں قرآن کریم کو جلانے کی جسارت افسوسناک اور قابل مذمت ہے اور تمام مذاہب و مسالک کی قیادت اس کی بھرپور مذمت کرتی ہے،انہوں نے کہا کہ تمام آسمانی مذاہب کے مقدسات کے احترام کیلئے عالمی سطح پر قانون سازی کی ضرورت ہے اس سلسلہ میں حکومت پاکستان اسلامی تعاون تنظیم، یورپی یونین اور دیگر ممالک کو فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں، انتہا اور شدت پسند عناصر کسی مذہب و مسلک کے نمائندہ نہیں ہیں، بین المذاہب مکالمہ اور بین المسالک ہم آہنگی کیلئے ہر سطح پر اقدامات اٹھانے اور موثر جدوجہد کی ضرورت ہے، رہنماؤں نے کہا کہ ناروے کی حکومت اور یورپی یونین کو اس قسم کے ناپاک اقدامات کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات اٹھانے چاہئیں،آزادی اظہار کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے مذاہب کے مقدسات کی توہین کی جائے۔

قائدین مذاہب و مسالک

مزید : صفحہ آخر