اسلام مخالف کارروائیاں کسی صورت قبول نہیں، او آئی سی اجلاس کیلئے رابطہ کیا جائے، عمران خان کی وزارت خارجہ کو ہدایت، ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں، ناروے میں توہین قرآن پر پابندی عائد 

      اسلام مخالف کارروائیاں کسی صورت قبول نہیں، او آئی سی اجلاس کیلئے رابطہ ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے ناروے میں توہین قرآن کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام مخالف کارروائیاں کسی صورت قبول نہیں کی جائیں گی۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے ناروے میں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کے واقعے کی شدید مذمت کی اور وزارت خارجہ کو  اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی۔ وزارت خارجہ ناروے واقعے پر اوآئی سی کو ہنگامی اجلاس بلانے کیلئے خط بھی لکھے گی۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ناروے واقعہ اسلامو فوبیا کی ایک تازہ مثال ہے لیکن اسلام مخالف کارروائیاں کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔دوسری طرف  پاکستان میں تعینا ت ناروے کے سفیر نے کہا ہے کہ ناروے کی حکومت  قرآن مجید کی بے حرمتی کے واقعہ کی شدید مذمت کرتی ہے ، پولیس نے سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے مظاہرے کو روکا، سفیر کاکہناتھاکہ ناروے میں ہرشخص کواپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت ہے تاہم حکومت ایسی حرکات کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔ ناروے کی  حکومت نے پولیس کو قرآن پاک کی بے حرمتی روکنے کو لازمی قراردیدیا اور پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسے قبیح فعل کو ہر صورت  روکے۔ ناروے کی حکومت نے قرآن مجید کی بے حرمتی کے  واقعات روکنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ناروے کے پولیس چیف نے کہا کہ اگر قرآن پاک کی بیحرمتی دوبارہ ہوئی تو پولیس اسے روکے گی۔انہوں نے کہا کہ ہر کسی کواتنا ہی بولنا چاہے کہ قوانین کی خلاف ورزی نہ ہو ورنہ پولیس مداخلت کرے گی۔پولیس ڈائریکٹر نے کہا قرآن کی بیحرمتی نفرت انگیزتقریرسے متعلق کرمنل کوڈ کی خلاف ورزی ہے۔اجبکہ نارویجن پولیس کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دیں گے، دوبارہ ایسی مذموم کوشش کی گئی تو قانون حرکت میں آئے گا۔نارویجن حکام کی جانب سے جاری سخت ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ہر کوئی اپنے خیالات کا آزادی سے اظہار کر سکتا ہے، جب تک قواعد وضوابط کی خلاف ورزی نہ ہو، تاہم قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے پر قانون حرکت میں آئے گاجبکہ ناروے کے صوبہ ویسٹ اگدر کے شہر کرستیان ساند میں مسلمانوں کی تنظیم مسلم یونین آف آگدر نے قرآن کی بے حرمتی کرنے والے متعصب شخص لارش تھورسن کو سخت سزا دلوانے کے لیے ایک ماہر قانون داں کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔ پولیس نے اس واقعے کے حوالے سے لارش تھورسن پر چارجز لگا دیئے ہیں اور اسی بنا پر اس پر مقدمہ چلایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہماری تنظیم مسلم یونین آف آگدر نے بھی اس مقصد کے لیے ایک وکیل کی خدمات حاصل کی ہیں تاکہ اس فسادی شخص کو اس مذموم حرکت پر زیادہ سے زیادہ سزا مل سکیدوسری طرف نار وے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف  پاکستان مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہا تیمرگرہ میں جماعت اسلامی نے محافظ قرآن ریلی نکالی  شرکاء سے جماعت اسلامی لوئر دیر کے امیر اعزازلملک افکاری، جے ائی یوتھ لوئر دیر کے صدر فارق حمید اللہ، عبیداللہ خاکسار و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے نار وے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی ناپاک جسارت پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس اقدام سے کروڑوں مسلمانو ں کی دل ازاری ہوئی ہیں انھوں نے کہا کہ دنیا میں ایک ارب 80کروڑ مسلمان ہیں لیکن وہ بے حسی کی تصویر بن چکے ہیں انھوں نے کہا کہ یورپ میں اسلام تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے جس کی وجہ سے مغرب پر لرز ہ طاری ہے ا۔ قرآن مجید کی بے حرمتی کے خلاف جہانیاں ٹھٹھہ اور صادق آباد میں مذہبی سیاسی سماجی صحا  تاجر کسان ،تنظیموں کی طرف سے ریلیاں نکالی گئیں۔ شرکاء کی جانب سے قرآن مجید کی توہین کیے جانے پر ناروے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی،ریلی جو کہ بائی پاس سے شروع ہو کر کمیٹی تک جا کر ختم ہو گئی، قرآن پاک کی بیحرمتی کے خلاف جماعت اسلامی ٹنڈوآدم کی جانب سے جماعت اسلامی سندھ کے ڈپٹی سیکریٹری و سابق ممبر صوبائی اسمبلی عبدالوحید قریشی کی قیادت میں پریس کلب ٹنڈوآدم کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اس موقع پر ضلعی امیر محمد رفیق منصوری، چیئرمین سیاسی کمیٹی جماعت اسلامی ضلع سانگھڑ عبدالعزیز غوری، مشتاق احمد عادل، عبدالغفور انصاری نے بھی خطاب کیا.۔سندھ حکومت نے  مطالبہ کیا ہے کہ اگر ناروے کی حکومت نے قرآن کریم کی بیحرمتی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی نہ کی تو اس ملک کا تجارتی بائیکاٹ کیا جائے اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی منقطع کیے جائیں۔ وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا کہ ترقی یافتہ ملکوں میں اظہار رائے کی آزادی کے نام پر ذہنی مریضوں کی جانب سے اس طرح کی اشتعال انگیزیاں ناقابل برداشت ہیں۔ تمام اسلامی ملکوں کو حکومتی سطح پر اس کے خلاف متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے

عمران ہدایت

 ملتا ن (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی حکام کے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں سے متعلق تحفظات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا مجموعی قرضہ 74 ارب ڈالر ہے جبکہ اس میں سی پیک کا اثر 40 لاکھ 90 ہزار ڈالر ہے۔ملتان میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ’یہ کہہ دینا  کہ سی پیک کی وجہ سے ہمارے قرض میں بے پناہ اضافہ ہوگا یہ درست نہیں ہے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سی پیک کے منصوبے جاری رہیں گے بلکہ توسیعی منصوبے کے تحت اس کے فیز ٹو کا آغاز کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ہم  اسپیشل اکنامکس زون میں امریکا سمیت دیگر ممالک سے بھی چاہیں گے کہ وہ سرمایہ کاری کریں‘۔وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر سیل کے اگلے اجلاس کی صدارت وزیراعظم عمران خان سے کرنے کی گزارش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو مقبوضہ کشمیر سے متعلق تمام سفارشات پیش کی جائیں گی، جس میں سفارتی، سیاسی اور قانونی چارہ جوئی جیسے امور شامل ہوں گے۔علاوہ ازیں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکی کانگریس میں مسئلہ کشمیر پوری شدومد سے اٹھایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی کانگریس رکن راشدہ طلیب کی جانب سے ایک قرار داد پیش کی گئی جس میں وہ تمام تقاضے ہیں جو پاکستان کررہا ہے مثلاً انٹرنیٹ سروس کی بحالی، پبلک سفیٹی ایکٹ کا خاتمہ اور زیر تحویل کشمیری رہنماؤں کی رہائی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی مبصرین کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی دی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کچھ عرصہ قبل مسئلہ کشمیر پر سے داخلی سیاسی صورتحال کی وجہ سے میڈیا اور عالمی برادری کی توجہ ہٹ گئی تھی۔وزیر خارجہ نے میڈیا سے گزارش کی کہ وہ کشمیر پر خصوصی توجہ دیں۔ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ گزشتہ روز پاکستان میں ناروے کے سفارتکار کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے اوسلو میں قرآن کی بے حرمتی کے واقعہ پر اپنی تشویش اور اصطراب کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اوسلو میں اپنے سفیر کو ہدایت دی ہے کہ وہ ناروے کے دفتر خارجہ کو باور کرائیں کہ اس واقعے سے ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور فوری طور پر قرآن کی بے حرمتی کرنے والے شخص کو گرفتار کرکے اسے قرار واقعی سزا دی جائے‘۔شاہ محمود قریشی نے مطالبہ کیا کہ ’قرآن کی بے حرمتی روکنے کے لیے  جس نوجوان نے قدم اٹھایا اس کو فوراً رہا کیا جائے‘۔پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا مقدمہ راولپنڈی منتقل کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لیے کچھ بھی کہنا مناسب نہیں تاہم ان کی رائے ہے کہ سندھ کی حکومت سابق صدر کے تابع ہے وہ عدالت اور نیب کے ساتھ تعاون نہیں کررہی تھی۔انہوں نے کہا کہ سندھ انتظامیہ احتساب کے عمل میں رکاوٹ اور ڈھال بنی ہوئی تھی، میری رائے میں اس ڈھال سے نجات کے لیے مقدمہ راولپنڈی منتقل کیا گیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر سندھ کی حکومت، گورنمنٹ اور افسران شفاف عمل جاری رکھنے کی یقین دہانی دلاتے ہیں تو شاید عدالت کو اعتراض نہ ہوتا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کہ ہمارے ملک میں کوئی بھی احتسابی عمل سے نہیں گزرنا چاہتا اور سب کی بیرون ملک جانے کی خواہشات ہیں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ناروے میں قرآن کی بیحرمتی کو روکنے والے مجاہد کو رہا کیا جائے اور قرآن کی بیحرمتی کرنے والے شخص کو سزا دی جائے

شاہ محمود قریشی

مزید : صفحہ اول