جعلی اکاؤنٹس کیس کے دو ملزمان نے پلی بار گین کر لی، 29کروڑ واپس کرنے پر تیار 

      جعلی اکاؤنٹس کیس کے دو ملزمان نے پلی بار گین کر لی، 29کروڑ واپس کرنے پر ...

  



اسلام آباد(آئی این پی) قومی احتساب بیورو   (نیب)نے  جعلی اکا ونٹس کیس میں  کارروائی  کرتے ہوئے  کرپشن کے مزید 29 کروڑ روپے برآمد کرلئے،روشن  سندھ پروگرام کے 4 ملزمان اور 2 کمپنیوں نے پلی بارگین  کرتے ہوئے  بتا یا ہے  کہ سب شرجیل میمن کے کہنے پرکیا۔ تفصیلات کے مطابق جعلی اکا ونٹس کیس میں ریکوریاں جاری ہیں۔ نیب راولپنڈی نے29 کروڑ روپے مزید برآمد کرلئے ہیں۔ روشن سندھ پروگرام کے 4ملزمان اور2کمپنیوں نے پلی بارگین کر لی ہے۔نیب کے مطابق ملزم عبدالستار قریشی،عبدالرشید چنہ،اسلم پرویز میمن اور بلدیو نے پلی بارگین کی جبکہ دو کنٹریکٹر کمپنیوں نے بھی رقم واپس کردی۔ملزمان نے سب کچھ شرجیل میمن کی ایما پر کرنے کا انکشاف بھی کردیا ہے۔نیب کے مطابق ملزمان کو جلد احتساب عدالت میں پیش کرکے بیان ریکارڈ کرایا جائے گا۔سندھ روشن پروگرام میں ملزم ندیم یونس نے پہلے ہی6 کروڑروپے واپس کردیئے جبکہ ملزم عبدالشکور بھی عبدالغنی مجید اور دیگر کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن کررہا ہوچکے ہیں۔جعلی اکا ونٹس کیس میں سابق ایم ڈی پی آئی اے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا، سابق ایم ڈی اعجاز ھارون کو گزشتہ روز نیب راولپنڈی نے کراچی سے گرفتار کیا تھا۔ اعجاز ھارون کو اج احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اعجاز ھارون پر بطور سیکرٹری کڈنی ہلز ھاوسنگ سکیم سے متعدد پلاٹ دینے کا الزام ہے۔اعجاز ھارون نے اومنی گروپ کو 12پلاٹ فرضی ناموں پر جاری کیے۔ پلاٹوں کی الاٹ منٹ بھی غیر قانونی طریقے سے کی گئی۔ اعجاز ھارون آصف زرداری کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔

پلی بارگین

مزید : صفحہ اول