پنجاب پولیس امن قائم کرنے میں ناکام کیوں؟

پنجاب پولیس امن قائم کرنے میں ناکام کیوں؟
پنجاب پولیس امن قائم کرنے میں ناکام کیوں؟

  



پنجاب میں ڈکیتی،راہزنی، اغوا برائے تاوان،کرپشن اور کم سن بچوں کو اغواء،بدا خلاقی کے بعد قتل کی بڑھتی ہوئی وارداتیں اور پتنگ کی ڈور سے ہلاکتوں کے واقعات انتہائی افسوسناک ہیں جو کہ پی ٹی آئی حکومت کی مسلسل بدنامی اور اداروں کی ناکامی کاباعث بن رہے ہیں۔ اربوں روپے کی مراعات حاصل کرنیوالی پنجاب پولیس امن قائم کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔عوام کی جانب سے پنجاب پولیس کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔سا نحہ ساہیوال،ماڈل ٹاون،رحیم یارخان اور پولیس کی زیر حراست مبینہ ملزمان کی ہلاکتوں کے واقعات نے نہ صرف پولیس کے امیج کو خراب کیا، پولیس کا مورال بھی ڈاؤن ہوا۔ قصور کے نواحی علاقہ چونیاں میں چار بچوں کے اغوا،بد اخلاقی کے بعد انکے قتل اور اب کٹی پتنگ کی ڈور سے ہلاکتوں کے پے در پے ہونے والے واقعات نے بھی عوام اور پولیس کے درمیان نفرت کو جنم دیا ہے۔ اللہ اللہ کرکے پنجاب پولیس کو سانحہ قصور میں ملوث ملزم کی گرفتاری سے عزت مل گئی ورنہ سوشل میڈیا،اینکرز اور تجزیہ نگار پنجاب سے چوتھے آئی جی پولیس کی فراغت کی نوید سنا رہے تھے ابھی بھی یہ معاملہ رکا نہیں،پنجاب بھر میں اغوا برائے تاوان کی خوفناک وارداتیں، ڈاکوؤں کی لوٹ مار اور کرپشن کی شکایاتیں زبان زدعام ہیں۔ کئی ایک دل سوز واقعات کی بدولت پولیس کا عوام میں ایمج خراب ہوا ہے بلکہ کئی واقعات نے زخموں پر نمک بھی چھڑکا، جس فورس کو ہمیشہ افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا کرنے میں ہم نے کبھی کسر نہیں چھوڑی اسے بھی عوام کا اعتماد حاصل ہو نا اشد ضروری ہے۔ سنٹرل پولیس آفس میں ہو نیوالی ایک تقریب کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے بھی قرار دیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی جتنی اہمیت کی حامل ہے اتنی ہی اہمیت پولیس کی آزادی کی ہے اور جرائم کنٹرول کرنے کیلئے محکمہ پولیس کا آزاد ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ عدلیہ کی آزادی ضروری ہے ہم جتنی مرضی ایکسرسائز کرلیں 87 87 ہیلپ لائن،خدمت مراکز،ڈولفن پیرو فورس جیسی درجنوں فورسز متعارف کروا دیں جتنی دیر تک اداروں سے سیاسی مداخلت کا خاتمہ، ہماری نیت اور سسٹم ٹھیک نہیں ہوگا کام نہیں چلے گا۔حقیقت حال یہ ہے کہ گزشتہ سال پتنگ ساز، کارخانو ں، فروخت کرنے اور اڑانے والوں کے خلاف جو مقدمات درج ہوئے تھے اس سال لاہور پولیس ایسے ملزمان کے خلاف دو ہزار سے زائد زیادہ مقدمات درج کر چکی لیکن اس کے باوجود پولیس کی تمام محنت اور کاوشیں رائیگاں ثابت ہوئیں جب گزشتہ روز وحدت کالونی میں ایک اور بچہ ڈور پھرنے زخمی ہوگیا ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس سے زیادہ ہمیں اپنی زمہ داریوں کا احساس کر نا چاہیے۔ہم اپنی ذمہ داریاں بھی پولیس سے پوری کروانے میں متحرک ہیں۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ اگر وہ ادروں سے سو فیصد نتائج حاصل کر نا چاہتی ہے تو وسائل کے ساتھ انھیں مکمل طور پر فری ہینڈ دیا جائے۔ تاوان کی وارداتیں ا ور شہریوں کی لوٹ مار میں مصروف دو ایسے گینگ لاہور پولیس نے گرفتار کر لیے ہیں جن سے پنجاب بھر میں ان واقعات میں اب نمایاں کمی آئے گی گلبرک میں قتل ہونے والی لڑکی کے ملزم کو بھی پو لیس نے گرفتار کر لیا ہے ان تمام واقعات میں ملوث ملزمان کی گرفتار ی کے لیے وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر آئی جی پو لیس نے لا ہور پو لیس کو ٹاسک دے رکھا تھا ۔ ان ملزمان کی گرفتاری پر لا ہور پولیس کے سر براہ بی اے ناصر اور ان کی پوری ٹیم شاباش اور مبارکباد کی مستحق ہے جبکہ ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان کی جانب سے کرپشن میں ملوث ایس ایچ اوز سمیت دیگر اہلکاروں کو سخت سزائیں دینے کا سلسلہ پہلے دن سے ہی جاری ہے۔آخر میں بیان کرتے چلیں کہ لاہور کہ بہت سارے ایس ایچ اوز نے شکایت کی ہے کہ آئی جی پولیس نے پنجاب بھر میں داخلی و خارجی راستوں سمیت دیگر لگائے جانے والے تمام ناکوں کو فی الفور ختم کرنے کا حکم د ے رکھا ہے جبکہ لاہور میں مستقل بنیادوں پر ہر ایس ایچ او کو اپنی اپنی حدود میں سات گھنٹوں کے لئے دو سے تین ناکے لگانے کا حکم دیدیاگیا ہے۔ ایس ایچ او کی کارکردگی کو چیک کرنے کا جو طریقہ وضع کیا گیا ہے اسے متفرق کرائم کے روزانہ زیادہ سے زیادہ مقدمات درج کرنے ورنہ شو کاز نوٹس لینے کے لیے تیار رہنا پڑ تا ہے۔ مطلوبہ ہدف پورا کرنے والے ایس ایچ او کو سی سی سر ٹیفکیٹ ورنہ سزا کے طور پر شوکازتھما دیا جانا خوش آئند نہیں ہے۔ اس سے فورس میں بد دلی کا گمان اور کارکردگی متاثر ہو تی ہے افسران بالا کو ماتحتوں کی اس شکایات کا بھی فوری ازالہ کر نا چا ہیے۔

مزید : رائے /کالم