ووڈ لاٹ پالیسی کے تحت درختوں کی مافکنگ جنگلات کیلئے تباہ کن

ووڈ لاٹ پالیسی کے تحت درختوں کی مافکنگ جنگلات کیلئے تباہ کن

  



الپوری(رپورٹ:آفتاب حسین سے)شانگلہ میں ووڈ لاٹ پالیسی کے تحت درختان کی مارکنگ جنگلات کیلئے تباہ کن،پالیسی کے تحت ملکیتی رقبوں پراستادہ درختان کی کٹائی شروع ہوگئی،محکمہ جنگلات کی ڈیمارکیشن،محکمہ مال ڈھاکہ درختان کی نشاندہی کرکے جنگلات مالک کو مارکنگ کرکے ورک ارڈردیتا ہے۔جنگلات کی کٹائی پر پابندی لیکن ووڈ لاٹ پر نہیں،ووڈ لاٹ میں کھڑا درخت نہیں صرف کمپارٹمنٹ میں درخت کی کٹائی پر پابندی۔۔؟ ورکنگ پلان کے مطابق مارکنگ کی جائے تاکہ مقامی لوگوں کو روزگارفراہم ہو نے کے ساتھ ساتھ حکومت اور مقامی مکینوں کو فائیدہ پہنچے گا جبکہ ووڈ لاٹ درختان کٹائی میں صرف سیاسی اور بااثر لوگوں کو نوازا جارہا ہے جبکہ شانگلہ جیسے سرد علاقے میں غریبوں کیلئے جلانے کی لکڑی پر بھی پابندی عائدہے۔ اس پالیسی سے جنگلات کو سخت نقصان پہنچ رہاہے۔ریاست سوات پاکستان میں ضم ہونے کے وقت جنگلات کو بے دردی سے کاٹنا شروع ہواتو دوسرے طرف محکمہ مال نے کچھ بااثر شخصیات سے گھٹ جوڑکرکے قومی دولت جنگلات کے کچھ حصے کو اپنی ملکیت میں اندراج کیاہے بعد میں ایسے رقبہ جات کو ووڈلاٹ کا نام دیا گیا ہے،مقامی پٹواری اور ڈیمارکیشن تصدیق کے بعد باقاعدہ مارکنگ ہوتا ہے اور جو بھی ایسے رقبوں کا مالک ہے وہ خود کٹائی چرائی کا کام کرتا ہے اور اس کو ورک ارڈر دیا جاتا ہے درختوں کی کٹائی سے بہت زیادہ نقصان ہورہا ہے ایسے جنگلات کو نہ ہی ان لوگوں نے اگائے ہیں نہ لگائے ہیں یہ خالص قدرتی جنگلات ہیں بوقت بندوبست محکمہ مال نے ان لوگوں کے نام درج کردیا ہے۔گزشتہ کئی سالوں سے جنگلات کی کٹائی پر پابندی ہے تاہم پابندی لگاکر باہر سے مہنگے داموں لکڑی درامد کررہے ہیں تو دوسری طرف ووڈ لاٹ پالیسی کے تحت چند لوگوں کو نوازہ جارہا ہے ورکنگ پلان کے مطابق مارکنگ سے جنگلات محفوظ ہوتے ہیں اور مقامی لوگوں کو روزگا میسر آتا ہے 60فیصد رائیلٹی مقامی لوگوں کو ملتی ہے جبکہ محکمہ فارسٹ کا ریونیوبھی بڑھ رہا ہے ورکنگ پلان کے مطابق جنگلات پر سے پابندی اٹھائی جائے اور جنگلات کو محفوظ بنائے ووڈلاٹ پالیسی جنگلات کیلئے تباہ کن ہے کیونکہ بہت سے جنگلات کو لوگوں نے اپنی ملکیت میں درج کردیا ہے یہ ایک پرائیوٹ کام ہے اس کا نہ کوئی ریکارڈ مرتب ہوتا ہے اور نہ ہی مانیٹرنگ ہوجاتی ہے اورنہ ہی کوئی ولیڈیشن کمیٹی اس کی پیمائش کرتا ہے، مارکنگ لسٹ کے علاہ فیلڈبک،فارم اے،فارم 5،فارم6منٹین نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی پراگرس رپورٹ مرتب ہوتا ہے۔ مارکنگ کے مروجہ قواعد وضواط کو نظر انداز کیا جاتا ہے مارکنگ کے اصول کے مبابق ایک جگہ پر دس درختان سے صرف ایک درخت نکالا جاتا ہے۔22انچ قطر سے کم درخت مارک کرنا منع ہے جبکہ کمپارٹمنٹ کے نزدیک بھی مارکنگ نہیں کیا جاسکتا ہے  مقامی پٹواری،ڈیمارکیشن کے تصدیق کے بعد یہ مارکنگ ہوتا ہے۔اس میں حکومت کو صرف 38روپے فی مکعب فٹ ملتا ہے۔باقی سارا مالک ووڈ لاٹ کو کروڑوں کا فائیدہ ہوتا ہے سننے میں ایا ہے کہ اس کا ریکارڈ بھی مکمل نہیں ہے بعض افسران اس پالیسی سے متفق بھی نہیں ہے اور لوگوں کو مطمئن کرکے جان چھڑاتے ہیں۔کیونکہ بہت سارے درخواستیں محکمہ جنگلات کو موصول ہوچکے ہیں۔اگر اس کا اجازت دیا گیا تو شانگلہ سے بہت سے جنگلات کا صفایا ہوجائے گا۔اس پالیسی سے ٹمبر مافیا کیلئے راستے کھول جاتے ہیں۔اس قسم کی بے دریغ کٹائی سے ماحولیاتی الودگی،فضائی لودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔۔

مزید : پشاورصفحہ آخر