بنوں‘ سی پلان کے تحت متحدہ اپوزیشن کی احتجاجی ریلی

بنوں‘ سی پلان کے تحت متحدہ اپوزیشن کی احتجاجی ریلی

  



بنوں (تحصیل رپورٹر)جنوبی وزیرستان کے ضلعی ہیڈکواٹر وانا میں سی پلان کے تحت متحدہ اپوزیشن کا احتجاجی ریلی و مظاہرہ،مظاہرین ایک ٹکے کے دو نیازی،گونیازی گونیازی،سلیکٹڈ وزیر اعظم اور مسلط شدہ وزیر اعظم نامنظور نامنظورکے نعرے لگارہے تھے،سیکھوں کو انڈیا بارڈر کو کراس کرکے ملک کے اندر آنے کی اجازت ہے تو ہمارے بارڈر پار غیور قبائل کو کیوں نہیں،حکومت پاک افغان بارڈرانگور اڈہ کواس پاررہائش پذیروزیر قبائل کی آمدورفت کیلئے کھول دے۔یہ مظاہرہ و ریلی جس کی قیادت جمعیت علماء اسلام(ف) کررہی تھی اور اپوزیشن کی تمام جماعتیں اس مظاہرے میں شریک تھیں مظاہرہ وانا بازار شرقی سرے سے ریلی کی شکل میں ہوتاہوا آمن پوسٹ کے قریب جلسے کی شکل اختیار کرلی۔جلسے سے متحدہ اپوزیشن اور وانا سیاسی اتحاد،قبائلی عمائدین کے علاوہ جمعیت کے مقامی رہنماؤں نے خطاب کیا۔جلسے سے جے یو آئی (ف) کے ضلعی امیر مولانا میرزاجان وزیر،جی ایس مولانا رفیع الدین وزیر،پریس سیکرٹری مولانا جان محمد وزیر،مولانا عبدالمنان وزیر،مولانا عبداللہ وزیر،مولانا صابر اللہ وزیر،وانا سیاسی اتحاد صدر و اے این پی رہنماء آیاز وزیر،پختونخواہ میپ رہنماء و سیاسی اتحاد جنرل سیکرٹری خیال محمد وزیر اور قبائلی عمائدین ملک علاؤ الدین وزیر،ملک گلاب وزیر ودیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت ایک منتخب جمہوری اور آئینی حکومت نہیں بلکہ یہ ایک سلیکٹڈ اور عوام پر مسلط شدہ حکومت ہے جس کو عوامی سمندرکے ذریعے خس وخاشاک کی طرح بہا کر لے جائیں گے بہتر یہ ہے کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم خود جلد ازجلد مستفی ہو عوام کو مجبور نہ کیا جائے کہ وہ غیر قانونی حکومت کو زبردستی تخت اقتدار سے گرادیں۔انہوں نے صوبائی اسمبلی سے پاس ہونے والے بل جس میں قبائلی اضلاع کے معدنیات کو سرکاری ملکیت قرار دیا گیا ہے سخت تنقید کی اور کہا کہ قبائل پچھلے 18سال سے حالت جنگ میں ہے اور انتہائی مشکل حالات کا سامنا کررہے ہیں ایسے وقت میں کے پی کے اسمبلی میں ایسے بل پاس کروانا قبائل کے خلاف ایک منظم سازش اور انکے وسائل پر قبضہ ہے لہذا اس بل کو فوری طور پر واپس لیکر منسوخ کیا جائے۔مقررین نے کہا کہ کشمیر کیلئے قبائل کی بڑی قربانیاں ہیں موجودہ سلیکٹڈ وزیر اعظم نے کشمیر کا سودا کرکے پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکادئیے ہیں۔مقررین نے کہاکہ پاک افغان بارڈر انگور اڈہ کو ٹرانزٹ کیلئے کھول دیا جائے اور اس پار رہائش پذیر وزیر قبائل کی آمدورفت کو سہل و آسان بنایا جائے۔مقررین نے مزید کہا کہ جب تک موجودہ سلیکٹڈ وزیر اعظم تخت پر براجمان ہے تب تک ہماری یہ تحریک و احتجاج جاری رہیگا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر