حالانکہ وہ میرے فیورٹ شاٹس ہیں لیکن مجھے ابھی کریز پر رکنا چاہیے تھا۔

 حالانکہ وہ میرے فیورٹ شاٹس ہیں لیکن مجھے ابھی کریز پر رکنا چاہیے تھا۔

  



بابر اعظم نے بتایا کہ میں نے دوسری اننگز میں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا، سوچا ہوا تھا کہ باہر جاتی گیندوں کو فوری طور پر نہیں کھیلنا بلکہ انہیں چھوڑنا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے ایسا ہی کیا اور لمبی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہو گیا تاہم مجھے سنچری کے فوری بعد آوٹ ہونے سے بھی مایوسی ہوئی، میرا مائنڈ سیٹ یہی تھا کہ میں لمبا کھیلوں جس سے ٹیم کو فائدہ ہو اور آسٹریلیا کو دوبارہ بیٹنگ کرنا پڑے لیکن ایسا نہیں ہوا جس کی وجہ سے مجھے افسوس ہے۔ بابرا عظم نے کہا کہ میں ہمیشہ 100 فیصد کھیل پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں، اس ٹیسٹ میچ میں بھی ایسا ہی کیا، برسبین میں سنچری اسکور کرنے سے اعتماد ملا اور اسی اعتماد کے ساتھ ایڈیلیڈ میں بیٹنگ کروں گا۔بابرا عظم نے بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی سے اپنا موازنہ کرنے کے حوالے سے کہا کہ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ ویرات کوہلی کے ساتھ میرا موازنہ نہیں بنتا، ویرات کوہلی مجھ سے بہت زیادہ میچز کھیل چکے ہیں۔برسبین ٹیسٹ میں سنچری بنانے والے کھلاڑی نے کہاکہ ویرات کوہلی کا تجربہ زیادہ ہے، جب میں تجربہ کار ہو جاؤں گا تو میرا مقابلہ بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ کیا جا سکتا ہے لیکن اس وقت میں مقابلہ اور موازنہ سوچ کر اپنے اوپر اضافی دباؤ نہیں لیتا بلکہ کرکٹ پر فوکس کرتا ہوں۔واضح رہے کہ بابر اعظم 22 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں، برسبین ٹیسٹ میں انہوں نے اپنے کیرئیر کی دوسری سنچری اسکور کی، ٹیسٹ کیرئیر میں بابرا عظم کو کئی نمبروں پر بیٹنگ کرنا پڑتی رہی ہے اور ان کا کوئی سیٹ بیٹنگ آرڈر میں نمبر نہیں رہا۔ اس حوالے سے بابرا عظم نے کہا کہ جب میں نے کیرئیر شروع کیا تو میرا کوئی ایک نمبر نہیں تھا، مصباح الحق اور یونس خان کھیل رہے ہوتے تھے، میرا نمبر اوپر نیچے ہوتا رہا تاہم میں ہمیشہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق کھیلتا رہا۔بابر اعظم نے بتایا کہ جہاں میری ضرورت ہوتی تھی مجھے بیٹنگ کے لیے بھیجا جاتا رہا، میں نے کبھی بیٹنگ کے لیے نمبر نہیں مانگا، میرے ذہن میں ہمیشہ ایک ی چیز ہوتی ہے کہ ٹیم کے لیے اچھا پرفارم  ہو۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی