ملک 2دہائیوں سے دہشتگردی کا شکار،عدالت کے سامنے سوال صرف حراستی مراکز کی قانونی حیثیت کا ہے،سپریم کورٹ کے فاٹا اورپاٹا ایکٹ سے متعلق کیس میں ریمارکس

ملک 2دہائیوں سے دہشتگردی کا شکار،عدالت کے سامنے سوال صرف حراستی مراکز کی ...
ملک 2دہائیوں سے دہشتگردی کا شکار،عدالت کے سامنے سوال صرف حراستی مراکز کی قانونی حیثیت کا ہے،سپریم کورٹ کے فاٹا اورپاٹا ایکٹ سے متعلق کیس میں ریمارکس

  



اسلا م آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں فاٹااورپاٹا ایکٹ سے متعلق اپیل پرسماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک 2دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے،عدالت کے سامنے سوال صرف حراستی مراکز کی قانونی حیثیت کا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں فاٹااورپاٹا ایکٹ سے متعلق اپیل پرسماعت ہوئی ،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،دوران سماعت اٹارنی نے کہا کہ حراستی مراکز کیوں قائم کیے گئے عدالت کو ویڈیو دکھانا چاہتا ہوں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیا آپ دکھانا چاہتے ہیں زیرحراست لوگ بہت خطرناک ہیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک 2دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے،عدالت کے سامنے سوال صرف حراستی مراکز کی قانونی حیثیت کا ہے۔

جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیا کہ کیا یہ وہی ویڈیو ہے جو 2015 میں بھی عدالت کو دکھائی گئی تھی؟،اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ جو ویڈیو دکھانا چاہتا ہوں وہ حراستی مراکز کی ہے،21ویں ترمیم کے بعد اس کے متعلقہ کوئی قانون سازی نہیں ہوئی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ نے 21ویں ترمیم جلدبازی میں منظور کی،فاٹا پاٹا میں دہشت گرد، کالعدم تنظیمیں اور نان اسٹیٹ ایکٹرز موجودرہے،جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کےساتھ حراستی مراکز بھی موجود تھے،کیا 2008 سے آج تک حراستی مراکزکی قانونی حیثیت چیلنج ہوئی؟۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ حراستی مراکز کی قانونی حیثیت سے متعلق یہ پہلا کیس ہے، حراستی مراکزسمیت دیگرنقاط پرنیا قانون بنایاجارہاہے،تین سے چار ماہ میں نیا قانون بن کر نافذ ہو جائے گا،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت 4 ماہ کیلئے آئین معطل کردے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سے صرف نئے قانون کی نفاذ تک کی مہلت مانگ رہا ہوں۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ 25ویں ترمیم میں پہلے سے رائج قوانین کوتحفظ دیناضروری تھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ دہشتگردی کے وجہ سے خیبرپختونخوا کے عوام متاثر ہورہے تھے،عوام کے تحفظ اور امن وامان کی بحالی کیلئے فوج طلب کی گئی۔

جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ امن و امان کی بحالی کیلئے 1960 کا قانون موجود ہے، اسکا استعمال کیوں نہیں کیا گیا؟ ،کیا وفاق صوبے کیلئے قانون سازی کرسکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اِنکم ٹیکس سمیت کئی وفاقی قوانین صوبوں میں رائج ہیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیاکہ اس وقت کے پی میں بحالی امن کیلئے کون سا قانون نافذ ہے؟ اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ کے پی میں اس وقت 2011 کا ایکٹ نافذ ہے،2011 کا قانون وفاقی ہے جو صدر نے نافذ کیا تھا،

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صدر نے قانون فاٹا میں رائج کیا تھا جو اب ختم ہوچکا ہے، فاٹا ختم ہوچکا تو اس میں رائج قانون کیسے برقرار ہے؟اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ فاٹا میں رائج قانون اب صوبائی قوانین بن چکے، جو نیا قانون ڈرافٹ کر رہا ہوں اس میں سب کچھ شامل کیا گیا ہے، جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسارکیا کہ اٹارنی جنرل کا کام قانون بنانا کب سے ہوگیا؟ قانون بنانے کیلئے وزارت قانون موجود ہے،نیا قانون جب عدالت کے سامنے آئے گا تب دیکھیں گے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ حراستی مراکز میں کسی کو 3 ماہ تک رکھا جا سکتا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک کےخلاف سرگرمیوں پر غیرمعینہ مدت کیلئے حراست میں رکھا جاسکتا ہے،جسٹس فائز عیسیٰ نے کہاکہ ایسے توملک مخالف سرگرمیوں کا کہہ کرکسی کوبھی غیرمعینہ مدت تک قید رکھا جائیگا،نئے قانون میں کسی کو حراست میں رکھنے پر نظرثانی کا نقطہ نکال دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیاکہ کیا صوبائی اسمبلی قانون بناکر وفاقی قانون کو ختم کرسکتی ہے؟ عدالت نے آئین کے مطابق چلنا ہے، اگر2011 کا قانون موجود ہے تو بات صرف حراست کا جائزے لینے کی رہ جاتی ہے،جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیاکہ حراستی مراکز میں کتنے لوگ زیرحراست ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ حراستی مراکز میں اس وقت ایک ہزار کے قریب لوگ ہیں، کئی افراد آبادکاری اور ذہنی بحالی کے بعد رہا ہوچکے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایک طرف شہری کے وقار دوسری کی ریاست کی بقا کا سوال ہے،آپ نے ہمیں کوئی ویڈیو دکھانی تھی، وڈیو کس متعلق ہے؟ جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے ساتھ حراستی مراکز بھی موجود تھے، چیف جسٹس پاکستاننے کہا کہ اکیسویں ترمیم کے مقدمات میں سانحہ اے پی ایس کی ویڈیو دکھائی گئی تھی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو وڈیو دکھانا چاہتا ہوں وہ حراستی مراکز کی ہے، سپریم کورٹ میں فاٹااورپاٹا ایکٹ سے متعلق اپیل پرسماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد