"آرمی چیف جنرل باجوہ کو چین جاکر معاملات کنٹرول کرنا پڑے کیونکہ۔۔۔" مشاہد حسین نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

"آرمی چیف جنرل باجوہ کو چین جاکر معاملات کنٹرول کرنا پڑے کیونکہ۔۔۔" مشاہد ...

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی امور خارجہ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین نے کہا ہے کہ امریکا کا سی پیک کی کھل کر مخالفت کرنا افسوسناک ہے،پی ٹی آئی حکومت کے وزراءنے سی پیک پر بے بنیاد الزامات لگائے، آرمی چیف جنرل باجوہ کو چین جاکر معاملات کنٹرول کرنا پڑے سی پیک کے حوالے سے مراد سعید کے الزامات بالکل غلط بے بنیاد ہیں،احسن اقبال ان الزامات پر مراد سعید کو عدالت لے جائیں سی پیک منصوبوں میں ایک پیسے کی کرپشن ثابت نہیں ہوسکی ۔

جیونیوز کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہاکہ سی پیک کے دفاعی مقاصد نہیں لیکن اسٹریٹجک مقاصد ضرور ہیں، امریکا کی سی پیک سے علیحدہ ہونے کے لیے پاکستان پر دباﺅ ڈالنے کی جرا¿ت نہیں ہوگی، پاکستان کو امریکا کی اتنی ضرورت نہیں جتنی امریکا کو پاکستان کی ہے، افغانستان میں امن پاکستان کے بغیر قائم نہیں ہوسکتا اس لئے ٹرمپ کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے ہیں، پاکستان میں آزادی رائے کو مسخ کرنے کی کوششوں کا چین سے تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایم ایل ون شاید ڈالرز کے بجائے چینی کرنسی میں بنایا جائے، محکمہ ریلوے کی نااہلی کی وجہ سے ایم ایل ون تاخیر کا شکار ہوتا رہا ن لیگ کی حکومت نے سی پیک کی سیاسی ملکیت لی، پی ٹی آئی وزراءنے سی پیک پر بے بنیاد الزامات لگائے، آرمی چیف جنرل باجوہ کو چین جاکر معاملات کنٹرول کرنا پڑے، سی پیک پاک چین اسٹریٹجک تعلقات کا محور ہے، پی ٹی آئی حکومت کو چین اور سی پیک سے متعلق سمجھ بوجھ نہیں ہے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق مشاہد حسین سید نے مزید کہا کہ سی پیک نے صرف پانچ سال میں اچھے نتائج دیئے ہیں،امریکا نے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے مقابل نیا ادارہ بنایا اور نئی قانون سازی کی ہے جس کے لیے ساٹھ ار ب ڈالر رکھے گئے ہیں، چین پاکستان میں سرمایہ کاری کے ساتھ امداد بھی دے رہا ہے، چین نے پاکستان کو پی ٹی آئی حکومت میں ایک ارب ڈالر کی امداد دی ہے، ڈھائی سو ملین ڈالر کا گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی مکمل امداد ہے، امریکا چین کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت، جاپان، آسٹریلیا پر مشتمل نیا محاذ کھڑا کررہا ہے،اس محاذ میں ویت نام کو شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ  سب سے کامیاب اور وسیع کوریڈور سی پیک ہے، یہ کوریڈور ان علاقوں میں ہے جہاں امریکا کے تزویراتی مفادات ہیں، سی پیک کے دفاعی مقاصد نہیں لیکن اسٹریٹجک مقاصد ضرور ہیں، امریکا سمجھتا ہے کہ چین کا اثر و رسوخ اس خطے میں بہت بڑھ گیا ہے، امریکا اور مغربی ممالک کا زوال نظر آرہا ہے وہ چین جیسی ابھرتی قوت سے خوفزدہ ہیں امریکا کی سی پیک سے علیحدہ ہونے کے لیے پاکستان پر دباﺅ ڈالنے کی جرا¿ت نہیں ہوگی۔پاکستان کو امریکا کی اتنی ضرورت نہیں جتنی امریکا کو پاکستان کی ہے، چین 1980ءتک پاکستان کو بالکل مفت اسلحہ دیتا تھا، چین پاکستان کو بیس سال کے لیے سافٹ لون دے رہا ہے جس کی شرح سود بہت کم ہے۔

مشاہد حسین سید نے کہا کہ امریکا کی یہ بات غلط ہے کہ چینی کمپنیاں لیبر اور میٹریل ساتھ لارہی ہیں، پاکستان میں سی پیک منصوبوں پر 19ہزار 583 چائنیز کام کررہے ہیں، چینی لیبر 80ہزار روپے مہینہ لیتی ہے پاکستانی مزدور تو بیس ہزار میں کام کرلیتا ہے، سی پیک منصوبوں سے 75ہزار پاکستانیوں کو بلاواسطہ جبکہ 2 لاکھوں کو بالواسطہ روزگار ملا ہے، چین نے اگلے تین سال میں پاکستانی نوجوانوں کو چین میں تعلیم کیلئے بیس ہزار سکالرشپس آفر کی ہیں۔

اخبار کے مطابق مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ امریکا میں بھی بہت سنسرشپ ہوگئی ہے، سی این این صرف ٹرمپ کو گالی دیتا ہے اور فوکس نیوز اس کی تعریف کرتا ہے، پاکستان میں آزادی رائے کو مسخ کرنے کی کوششوں کا چین سے تعلق نہیں ہے، چین پاکستان میں لوگوں کو ٹیکنیکل تعلیم اور تربیت بھی دے رہا ہے، تھر میں ہندو خواتین بڑے بڑے ڈمپرز چلارہی ہیں، چین کی بجلی پیداکرنے والی کمپنیوں کو وہی ٹیرف دیا گیا جو 1994ءمیں آئی پی پیز کو آفر کیا گیا تھا، چین نے پاکستان میں اس وقت سرمایہ کاری کی جب دنیا کا کوئی ملک تیار نہیں تھا آئی ایم ایف نے بھی سی پیک کو بالکل ٹھیک قرار دیا ہے، بلوچستان، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر کو بھی سی پیک کی جے سی سی کا رکن ہونا چاہیے، پاکستان میں ہر چیز کا خود کریڈٹ لینے اور معاملات کو خفیہ رکھنے کی قباحت آگئی ہے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی /قومی /اسلام آباد