کس کھانے میں مردانہ طاقت کا راز پوشیدہ ہے؟ سائنسدانوں نے دریافت کرلیا

کس کھانے میں مردانہ طاقت کا راز پوشیدہ ہے؟ سائنسدانوں نے دریافت کرلیا
کس کھانے میں مردانہ طاقت کا راز پوشیدہ ہے؟ سائنسدانوں نے دریافت کرلیا

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) یہ ایک طویل بحث ہے کہ سبزی خوری انسانی صحت کے لیے اچھی ہے یا گوشت خوری۔ دونوں غذائی عادات کے حامی اس کے حق میں دلائل دیتے رہتے ہیں تاہم اب پہلی بار سائنسدانوں نے سبزی خوری کا ایک ایسا فائدہ بتا دیا ہے کہ مردوں کی نظر میں گوشت خوری کے حق میں دیئے جانے والے تمام دلائل کمزور پڑ جائیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق نیٹ فلیکس کی ایک ڈاکومنٹری میں ماہرین نے بتایا ہے کہ سبزی خوری مردوں کی جنسی صحت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے اور ان کی جنسی کارکردگی گوشت خور مردوں کی نسبت کئی گنا بہتر ہوتی ہے۔

امریکی یورالوجسٹ ڈاکٹر ایرن سپٹز (Aaron Spitz)کی سربراہی میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے اس معاملے پر ایک تحقیق کی ہے اور اس کے نتائج اس ڈاکومنٹری میں بیان کیے ہیں۔ ڈاکٹر ایرن نے ڈاکومنٹری میں بتایا کہ سبزی خوری مردوں کی جنسی صحت کے لیے اس قدر فائدہ مند ہے کہ صرف ایک وقت کے کھانے میں گوشت سے پرہیز کرنے اور صرف سبزیاں کھانے سے ہی ان کی جنسی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر ایرن کا کہنا تھا کہ ”جب ہم مرد کی خصوصیات کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے ذہن میں طاقت، قوت برداشت، جنسی قوت اور افزائش نسل کی صلاحیت وغیرہ کا خیال آتا ہے۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو مرد کو مردانگی بخشتی ہیں لیکن جو مرد گوشت خور ہوتے ہیں ان میں یہ صلاحیت سبزی خوروں کی نسبت کم ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اپنی تحقیق اور اسی موضوع پر کی گئی دیگر درجنوں تحقیقات کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ جو لوگ جتنے زیادہ سبزی خور ہوتے ہیں ان میں اتنی ہی زیادہ مردانگی ہوتی ہے۔“

ڈاکٹر ایرن نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ”سبزی خوری سے انسان کا نظام دوران خون بہتر ہوتا ہے اور یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ مردوں کے جسم میں خون کا بہاﺅ جتنا زیادہ بہتر ہو گا ان کی جنسی صحت بھی اتنی ہی اچھی ہو گی۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ سبزی خوری براہ راست مردوں کی جنسی صحت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ جو مرد عضو مخصوصہ کی ایستادگی کے مسئلے کا شکار ہیں انہیں اپنی خوراک پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ انہیں اپنے مجموعی طرز زندگی پر بھی غور کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر ان کا وزن کتنا ہے، وہ سگریٹ پیتے ہیں یا نہیں، ورزش کرتے ہیں یا نہیں، ان میں کوئی ایسی بیماری تو نہیں جو ایستادگی میں مانع ہو رہی ہوں وغیرہ وغیرہ۔ اس عارضے کے شکار مردوں کو فوری طور پر گوشت خوری اور سگریٹ نوشی ترک کر دینی چاہیے۔ باقاعدگی سے ورزش کرنی چاہیے اور خود کو ذہنی تناﺅ سے بچانے کی سعی کرنی چاہیے۔ یہ کام کرنے سے مردوں کا عضو مخصوصہ کی ایستادگی کا مسئلہ خودبخود ختم ہو جائے گا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس