سنگین غداری کیس ، پرویز مشرف اور وزارت داخلہ کی درخواستیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

سنگین غداری کیس ، پرویز مشرف اور وزارت داخلہ کی درخواستیں اسلام آباد ...
سنگین غداری کیس ، پرویز مشرف اور وزارت داخلہ کی درخواستیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت اورپرویز مشرف کے وکیل کی جانب سے سنگین غداری کیس کا فیصلہ روکنے کے لیے متفرق  درخواستوں کو  سماعت کے لئے مقرر کرتے  ہوئے تین رکنی لارجر بینچ تشکیل دیدیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کا فیصلہ روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کےلیےلارجربنچ تشکیل دے  دیا ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں3رکنی بینچ درخواست پر کل(منگل کے روز)  سماعت کرے گا، جسٹس عامرفاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔یاد رہے کہ حکومت نے سابق صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کا فیصلہ روکنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے، وزارت داخلہ کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پرویز مشرف کو صفائی کا موقع ملنے تک خصوصی عدالت کو کارروائی سے روکا جائے اور خصوصی عدالت کا غداری کیس کا فیصلہ محفوظ کرنے کا حکم نامہ بھی معطل کیا جائے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ نئی پراسیکیوشن ٹیم تعینات کرنے تک خصوصی عدالت کو کارروائی سے روکا جائے۔واضح رہے کہ خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ 19 نومبر کو محفوظ کیا تھا جو 28 نومبر کو سنایا جائے گا۔دوسری طرف  سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے کہا تھا کہسابق صدر پرویز مشرف سخت علالت کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے، کیس میں مجھے پرویز مشرف کادفاع کرنے کے حق سے محروم کیاگیا،مشرف کو صفائی کا موقع ملنے تک سزا معطل کی جائے۔درخواست میں مزید کہا گیا کہ خصوصی عدالت کافیصلہ آئین کے آرٹیکل 4 اور 10 اے کی خلاف ورزی ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں