حکومت اور پیپلز پارٹی کا یکساں احتساب کیا جائے،اس بار بھی الزامات لگانے والے پیر پکڑ کر معافی مانگیں گے:سعید غنی

حکومت اور پیپلز پارٹی کا یکساں احتساب کیا جائے،اس بار بھی الزامات لگانے والے ...
حکومت اور پیپلز پارٹی کا یکساں احتساب کیا جائے،اس بار بھی الزامات لگانے والے پیر پکڑ کر معافی مانگیں گے:سعید غنی

  



کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما  اور صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی  نے کہا ہے کہ ذاتی معالج تک رسائی کسی بھی قیدی کا بنیادی حق ہے،ہمارا احتساب بھی اُسی پیمانے سے کیا جائے جس سے حکومتی لوگوں کا ہوتا ہے،اس بار بھی الزامات لگانے والے پیر پکڑ کر معافی مانگیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کراچی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار مبینہ جرم کا ٹرائل کسی اور صوبے میں کیا جا رہا ہے، پیپلز پارٹی قیادت کو تنگ کرنے کی نئی روایات کے اچھے اثرات نہیں ہوں گے، پیپلز پارٹی کے خلاف کارروائیوں میں آئین اور قانون پر عمل نہیں ہوتا، آئین اور قانون کے بنیادی حقوق کا خیال نہیں کیا جاتا، کس آئین میں لکھا ہے کراچی میں جرم پر ٹرائل راولپنڈی میں ہوگا۔اُنھوں نے کہا آصف زرداری اور فریال تالپور پر الزامات کا تعلق سندھ سے ہے، جن اداروں کو ملوث کیا جا رہا ہے ان کا تعلق سندھ سے ہے، جب کہ ٹرائل دوسرے صوبے میں کیا جا رہا ہے، ہمیں ڈیل کرنی ہوتی تو اتنی مشکلات برداشت نہیں کرتے، آصف زرداری اور فریال تالپور جیل میں ہیں، ریمانڈ بھی ختم ہو گیا الزام ثابت نہ ہوا۔

صوبائی وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ملک سے باہر بھجوا دیں یا جیل سے آزاد کر دیں،سینکڑوں لوگوں کو کیسز کی بنیاد پر پنڈی کی جیلوں میں بند کر دیا گیا، ہم احسان نہیں بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں، سندھ کی جیلوں اور اداروں پر اعتماد نہ کرنا بہت غلط بات ہے، ہم صرف ملک میں آئین و قانون پر عمل درآمد کی بات کر رہے ہیں،کسی قسم کی مہربانی حکومت سے نہیں لیں گے، اس بار بھی الزامات لگانے والے پیر پکڑ کر معافی مانگیں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ ہم کئی دنوں سے میڈیکل بورڈ میں ذاتی معالج کو شامل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، یہ کسی ریلیف کے لیے نہیں، ذاتی معالج تک رسائی کسی بھی قیدی کا بنیادی حق ہے۔سعید غنی نے وفاقی کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کے اقدام پر کہا کہ جس چیز کا کریڈٹ وفاقی حکومت لینے جا رہی ہے وہ ہم پہلے سے کر رہے ہیں، ایسے قیدیوں کو سندھ سے رہا کیا گیا جو جرمانے ادا نہیں کر سکتے تھے، ایسے کئی لوگوں کو بھی رہا کیا گیا جو کوئی اور جرم کرنے کے قابل نہیں تھے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی