کیمرے کے سامنے، ننگے چہرے

کیمرے کے سامنے، ننگے چہرے
کیمرے کے سامنے، ننگے چہرے

  

صوبائی حکومت کے ترجمان کے مطابق کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسہ کے بعد بلوچستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں تین گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ کوئٹہ جلسہ سے قبل کورونا کیسز بڑھنے کی شرح دو اعشاریہ ایک فیصد تھی اب یہ شرح چھ اعشاریہ دو فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یاد رہے اپوزیشن جماعتوں کا یہ ایک دن کا جلسہ تھا۔ گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کے موقع پر حکومتی وزیروں کی فوج اور وزیراعظم عمران خان اور حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کے قائدین مسلم لیگ(ن) کی سینئر نائب صدر مریم نواز، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سمیت دیگر جماعتوں کے رہنماء آزاد امیدوار کئی روز دن رات جلسے کرتے رہے۔شدید سردی کے موسم میں گلگت بلتستان کے عوام دونوں گروپوں اور امیدواروں کی دھواں دھار تقاریر سنتے اور ووٹنگ کا مقررہ وقت گزر جانے کے بعد بھی رات گئے تک ووٹ ڈالتے رہے، وہاں تو کوروناوائرس کے کیسز میں اضافے کی کوئی خبر نظروں سے نہیں گزری، الیکشن کے نتائج پر اپوزیشن کی جانب سے دھاندلی کا الزام آتے ہی وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں جلسوں اور تمام آؤٹ ڈور اجتماعات پر پابندی کا اعلان کیا اور پابندی عائد کرنے کے بعد خود اس پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فیصل آباد میں بزنس مینوں کی ایک بڑی تقریب میں شرکت کی اور خطاب بھی کیا، اور تقریب میں شریک ہاتھوں میں ماسک پکڑے بیٹھے بزنس مینوں سے اپیل کی کہ وہ ماسک لگائیں۔دلچسپ بات یہ ہوئی کہ جب وزیراعظم ماسک پہننے کی اپیل کر رہے تھے اُس وقت وزیراعظم صاحب نے خود بھی ماسک نہیں پہنا تھا، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس وقت ٹی وی کیمرے ان کے خطاب کی عکس بندی کر رہے تھے اور ماسک لگانے سے آدھا چہرہ تو ماسک میں چھپ جاتا ہے اور فلم اچھی نہیں بنتی،اس صورتِ حال میں مسلم لیگ(ن) کے قائدین نے ایس او پیز اور جلوسوں پر حکومتی پابندی کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مانسہرہ میں جلسہ عام منعقد کر لیا تو کون سا جرم کر لیا ہے؟ اور اگر یہ جرم ہے تو پھر فیصل آباد کی بزنس کمیونٹی کے ارکان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔

فیصل آباد میں بزنس کمیونٹی کی تقریب سے وزیراعظم عمران خان پابندی عائد کرنے کے بعد خطاب کر چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے فیصل آباد میں ورکرز کنونشن کا انعقاد کرنا ہے، قائدین اس ورکرز کنونشن کا انعقاد ماہِ اگست میں کرنا چاہتے تھے، مگر لاک ڈاؤن اور کورونا کے خدشے کے باعث منعقد نہیں کر سکے،ان حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کو مسلم لیگ(ن) کو بھی ورکرز کنونشن منعقد کرنے کی اجازت دے دینی چاہئے یہی انصاف کا تقاضا ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ، محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ بھی وزیر ریلویز شیخ رشید احمد اور شبلی فراز کی طرح حکومتی زبان بول رہے یہ لوگ تو محدود مدت کے لئے ان عہدوں پر براجمان ہیں، وقت ختم ہوا تو یہ سب اپنے اپنے گھونسلوں میں واپس لوٹ جائیں گے۔ سٹیٹ بینک ایک مضبوط اور پائیدار ادارہ ہے اس کی رپورٹ کے مطابق ملک کی معاشی حالت دِگر گوں ہے، ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 44ہزار 801 ارب روپے ہو گیا ہے، موجودہ حکومت کے دو سال چار ماہ کے دور میں 14ہزار922 ارب روپے کے قرضے لئے گئے ہیں،مہنگائی سے لوگ بلبلا رہے ہیں۔حکومتی ترجمان بلند و بالا بنی گالہ کے مکیں کو ”سب اچھا“ کی رپورٹیں دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یکم جولائی سے30اکتوبر تک حکومت نے کوئی قرضہ نہیں لیا، مہنگائی پر قابو پانے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، حالانکہ حکومت کی یہ کوششیں کہیں دکھائی نہیں دے رہیں،عوام تو صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ وزیراعظم سمیت ساری کابینہ اپوزیشن کو چور لٹیرے اور جیب کترے ثابت کرنے میں ثابت کرنے میں مصروف ہیں اور مسلم لیگ(ن) کے ”ووٹ کو عزت دو اور حکومت کو ختم کرو“ کے بیانیہ کے مقابلے میں پی ٹی آئی کا یہی بیانیہ ہے۔

نیب، ایف آئی اے اور عدالتوں میں اُنہیں الجھانے اور اپنا وقت ضائع کرنے کے سوا حکومت کے ہاتھ کچھ آیا ہے، نہ آئندہ آنے کی امید ہے عوام کو کوئی اچھی خبر دینے کی بجائے ہر وقت اپوزیشن کو بُرا بھلا کہنے اور ان میں کیڑے نکالنے کے علاوہ حکومت کو دوسرا  کوئی کام ہی نہیں۔ بیورو کریسی ڈر کے مارے کام کرنے کو تیار نہیں ہے، سرمایہ کار وزیراعظم کی کھلی آفر کے باوجود سرمایہ کاری کرنے پرآمادہ نہیں۔ یہ تشویشناک حالات ملکی سلامتی اور معاشی خوشحالی کے لئے قومی یکجہتی کی ضرورت کا احساس دلاتے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کی رہنما مریم نواز نے حال ہی میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے پی ڈی ایم کے فورم سے فوج کے ساتھ بات کرنے کا مشروط عندیہ دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور بلاول بھٹو نے سیاست میں مذاکرات کے دروازے کھلے رکھتے ہوئے گرینڈ نیشنل مذاکرات پر رضا مندی کا اظہار کر دیا ہے، مقتدر قوتوں کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کی دعویدار حکومت جب ملک کے قومی و سیاسی فورم پر اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے اور بات چیت کرنے پر تیار نہ ہو تو اپوزیشن نے تو ملکی معاملات کو سنگین صورتِ حال سے نکالنے کے لئے کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنا ہی ہے، اس میں گلے شکوے اور طعنے دینے کی تو ضرورت ہی نہیں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -