نوازشریف اور سراج الحق کے لئے غم کی گھڑی 

نوازشریف اور سراج الحق کے لئے غم کی گھڑی 
نوازشریف اور سراج الحق کے لئے غم کی گھڑی 

  

بخاری شریف میں روایت ہے  حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ لوگوں میں سے میرے حسن سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: تیری ماں۔ پھر اس نے پوچھا پھر کون؟آپﷺنے فرمایا تیری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا تیری ماں۔ اس نے چوتھی بار پوچھا اس کے بعد کون؟ آپ ﷺنے فرمایا ماں کے بعد تیرا باپ تیرے حسن سلوک کا زیادہ مستحق ہے۔ پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتہ دار۔ماں باپ دنیا میں کسی بھی شخص کے لئے ایسی نعمت ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ بھائی،بہن، بیوی ایسے رشتے ہیں کہ ان رشتوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے دیگر رشتے بنائے ہیں، لیکن واحد ماں باپ ایسی ہستی ہیں جن کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ پاکستان کی سیاست میں گزشتہ دنوں دو بڑے قد آور سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی مائیں اس دنیا سے چلی گئیں جو یقینا ان کے لئے ایک صدے کی حیثیت رکھتا ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج االحق کی والدہ کچھ دنوں قبل وفات پا گئیں جن کی نمازجنازہ سراج الحق صاحب نے خود پڑھائی۔ یہ بھی والدین کے لئے بڑی خوش بختی کی بات ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا بیٹا نوازا جو  اُن کے دنیا سے چلے جانے کے بعد خود ان کے لئے دعائیں کرتا ہے، نماز جنازہ ادا کرتا ہے اور یہ بڑی سعادت کی بات ہے کہ کوئی اپنے قریبی کا جنازہ خود پڑھے تا کہ اس کے لئے خلوص دل سے دعا کر سکے۔ سینیٹر سراج الحق صاحب کے لئے یہ غم کی گھڑی تھی اور انہوں نے اس موقع پر اپنی والدہ کا جنازہ پڑھایا۔ماں کی دعاؤں ہی کی بدولت وہ ایک غریب گھرانے کے چشم و چراغ ہونے کے باوجود پاکستان کی ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ بنے۔

 دوسرا سانحہ میاں نوازشریف اور ان کے خاندان کے لئے ہے ان کی والدہ بیگم شمیم لندن میں انتقال کر گئیں۔ نواز شریف اور ان کے خاندان میاں شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت ان کے دیگر لواحقین کے لئے یہ ایک الم ناک سانحہ ہے کہ ان کی پیاری والدہ اور دادی انتقال کر گئیں، کیونکہ مقدمات کی وجہ سے میاں نوازشریف لندن سے واپس نہیں آ سکتے یا آنا نہیں چاہتے اسی طرح حمزہ شہباز اور شہباز شریف جیل میں ہیں اور وہ بھی مقدمات کی وجہ سے آخری دنوں میں اپنی والدہ اور دادی کی تیمار داری نہ کر سکے جو ان کے لئے ساری عمر کا قلق رہے گا۔ جب مشرف دور میں نوازشریف اور شہباز شریف کے والد کا انتقال ہوا تھا تب بھی نوازشریف اور شہباز شریف پاکستان نہ آ سکے۔ پھر میاں نوازشریف کی اہلیہ کا لندن میں انتقال ہوا تو وہ جیل میں تھے اور ان کے بیٹے لندن میں تھے جو مقدمات کی وجہ سے پاکستان اپنی والدہ مرحومہ کو دفنانے نہ آ سکے جو کسی بھی خاندان کے لئے کوئی معمولی بات نہیں ہے،بلکہ ساری عمر کا پچھتاوا اور قلق ہے۔ میاں نواز شریف کی والدہ ایک نیک اور پاکباز خاتون تھیں ان کے قریبی خاندانی ذرائع کے مطابق ہر وقت دُعائیں پڑھنا،اللہ کے ذکر میں مشغول رہنا اور اپنے بچوں سمیت ملکی سلامتی کے لئے خصوصی دعائیں کرنا ان کا شیوہ تھا۔ پھر میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کوئی بھی کام کرنے سے قبل اپنی والدہ مرحومہ سے اجازت لیتے تھے اور دونوں بیٹے اپنے والدین کا بہت ادب کرتے تھے۔

جب تک میاں نوازشریف کے والد حیات رہے تو سیاسی و کاروباری امور ان کی اجازت اور مشورے سے طے کئے جاتے تھے۔ جب ان کے والد دنیا سے رخصت ہو گئے تو پھر دونوں بھائی کوئی بھی کام کرنے سے قبل والدہ  کی دعائیں لینا اور ان سے اجازت طلب کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔میاں شہباز شریف کے قریبی ذرائع بھی یہی بتاتے ہیں کہ وہ اپنی والدہ سے دعائیں لیتے تھے اور جب تک والدہ پاکستان میں تھیں ان کو روزانہ ملنا ان کا معمول تھا۔پھر ان کا ایک بیٹا وزیراعظم پاکستان اور دوسرا وزیراعلیٰ پنجاب کے منصب پر فائز ہوا یہ سب والدین کی دعاؤں کا ثمر ہی تھا۔ حال ہی میں جب نوازشریف کی طبیعت جیل میں خراب تھی تو یہ ان کی والدہ ہی کا دباؤ تھا کہ نوازشریف لندن میں علاج کروانے پر راضی ہوئے تھے وگرنہ وہ پہلے اس بات سے انکار کر چکے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ  وہ جیل میں ہی رہنا پسند کریں گے اور پاکستان میں ہی اپنا علاج کروائیں گے، لیکن جب شہباز شریف اور دیگر خاندان کے لوگوں نے نوازشریف کی والدہ سے نوازشریف کی حالت کے پیش نظر سفارش کرائی اور انہیں کہا کہ آپ ان کو بیرون ملک علاج کے لئے قائل کریں وگرنہ ان کے لئے بڑے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں تو بیگم شمیم نے جیل میں اپنے بیٹے سے ملاقات کر کے انہیں کہا کہ وہ بیرون ملک علاج کے لئے جائیں جس کے بعد نواز شریف علاج کے لئے  بیرون ملک گئے۔ خیر نوازشریف اور سینیٹر سراج الحق صاحب کی مائیں اب اپنے رب کے حضور پیش ہو چکی ہیں دونوں خواتین مکمل گھریلو خواتین تھیں جنہوں نے اپنے بچوں کی پرورش ایک اسلامی ماحول کے تحت کی جس پر یقینا وہ داد کی مستحق ہیں۔ دونوں خواتین اپنی اولاد سے آخر وقت تک خوش رہیں اور ان پر راضی رہیں، یہی ان کے لئے سب سے بڑی خوش بختی ہے۔اس غم کی گھڑی میں نواز شریف اورسینیٹر سراج الحق کے خاندان کو اللہ صبر جمیل دے اور ان کی والدہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین۔ 

مزید :

رائے -کالم -