مائیں صرف، مائیں ہوتی ہیں 

مائیں صرف، مائیں ہوتی ہیں 
مائیں صرف، مائیں ہوتی ہیں 

  

جو بھی ہو والدین کی جدائی کی کسک کبھی ختم نہیں ہوتی زندگی بھر ان کے ہجر کی ٹیسیں اٹھتی رہتی ہیں عمر بھر ہم ان کا لمس محسوس کرتے ہیں ہمارے خیالات و احساسات میں ان کے تصور کی ٹھنڈی ہوائیں چلتی رہتی ہیں زندگی کے ہر حصے میں ان کے چہرے ہماری آنکھوں کے سامنے رہتے ہیں ان کی آوازیں ہمیں اپنے آس پاس سے آتی محسوس ہوتی ہیں ان کے تصور کی کلیاں چٹک کر پھول بنتی ہیں جن کی خوشبو سے ہمارا جیون مہکتا ہے کہیں غموں کی دھوپ میں ان کی دعاؤں کا سایہ ہم پر رہتا ہے تو کبھی دکھوں کی آگ انکی دعاؤں کے اثر سے ٹھنڈی ہوتی رہتی ہے ماں کسی امیر کی ہو کہ فقیر کی اس کے فراق کے زخم ایک جیسے ہوتے ہیں اوراس کادرد بھی ایک سا ہوتا ہے اس کی تکلیف ایک ہی طرح کی ہوتی ہے، یعنی مائیں صرف مائیں ہوتی ہیں ہماری آنکھوں کے فریم میں قدرت نے ان کی تصویر کچھ اس طرح لگا دی ہوتی ہے جس کا آئینہ اشکوں کے پانی سے صاف ہوتا رہتا ہے کبھی میلا نہیں ہوتا ان کا خیال ہرموسم میں ساتھ رہتا ہے ان کے ساتھ بیتی رفاقتیں اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ سلامت رہتی ہیں ان کی دعاؤں کے قافلے ہمیشہ ہی رواں دواں رہتے ہیں قدرت نے انہیں خاص ہی مقام و مرتبے عطا کر رکھے ہوتے ہیں ان کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا سحابِ بہار بھی ماں کے آنچل کی بہار کا مقابلہ نہیں کرسکتے ان کی ایک مسکراہٹ زندگی بھر کی خوشیوں سے قیمتی ہوتی ہے ان کے ہوتے ہوئے غموں کے موسم کا ہمارے جیون سے محض اس لئے گذر نہیں ہوتا کہ ان کی دعائیں بڑے بڑے طوفانوں کا رخ موڑ دیتی ہیں ایک معصوم فاختہ بھی اپنے بچوں کیلئے زہریلے ناگ سے لڑجاتی ہے۔

پاکستان کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے میاں نواز شریف کی والدہ ماجدہ ملک عدم رخصت ہوئی ہیں تو نواز شریف علاج کے حوالے سے بیرون ملک مقیم ہیں تو شہباز شریف پابند سلاسل ہیں جب نواز شریف کے والد ماجد اللہ کو پیارے ہوئے تو اس وقت بھی شریف خاندان کے حالات آج سے کچھ مختلف نہ تھے اور آج ان کی والدہ چل بسی ہیں تو حالات آج بھی تب سے زیادہ مختلف نہیں ان حالات میں ا یسی لاچارگی کچھ اور بھی نڈھال کر دیتی ہے والدین کچھ ایسی ہی ہستیاں ہوتی ہیں کہ ان سے منسو ب ہر حوالہ معتبر ہوجاتا ہے نواز شریف جب اپنی بیٹی مریم نواز کو لے کر وطن لوٹے تو سیدھے سلاخوں کے پیچھے گئے اس دوران نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز اپنے خاندان کو داغ مفارقت دے گئیں اور اب بیگم شمیم بھی ہمیشہ کے لئے رخصت ہوئیں شریف خاندان کے لئے یقیناآزمائشوں کے دور میں یہ بڑے صدمے ہیں بیگم شمیم اختر بڑی برگزیدہ اور بہادر خاتون تھی جس نے اپنے شوہر میاں شریف کی جدائی کا بارگراں اٹھایا اپنے بچوں کی سیاسی شکست و ریخت دیکھی انہیں زیر عتاب دیکھا اور پہاڑ حوصلوں کے ساتھ برداشت بھی کیا ایک ماں دنیا کے ستم تو اٹھا سکتی ہے لیکن اپنے بچوں کی معمولی سی تکلیف اس کے لئے بڑی اذیت ناک ہوتی ہے نواز شریف پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہے ہیں انہوں نے ایٹمی دھماکوں سے لے کر سی پیک کی صورت میں معاشی دھماکے کئے لوڈ شیڈنگ جو ملک کے لئے ایک مسلسل عذاب کی شکل اختیار کر چکی تھی اسے ختم کیا نواز شریف پر ایٹمی دھماکوں کے وقت جس قدر بیرونی دباؤ تھا ایسی ہی مشکلات سی پیک کے موقع پر بھی تھیں ادھر پاکستان نے سی پیک کا افتتاح کیا تو ادھر انڈیا چا بہار جا پہنچا تھا

جس کا مقصد چا بہار سے گوادر سرگرمیوں پر نظر رکھنی تھی نواز شریف پر انڈیا نوازی کا الزام دینے والوں کو یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہئے کہ بھارت سمیت دنیا کی پاکستان دشمن قوتوں کی مخالفت کے باوجود نواز شرف نے سی پیک کا افتتاح کیا  نواز شریف سیاسی بصیرت رکھنے والے سیاستدان ہیں عمران خان اپنی انتخابی مہم کے دوران لفٹر سے گر کر زخمی ہوئے نواز شریف انکی تیمارداری کو پہنچے نواز شریف جب قومی اسمبلی جاتے تو سب سے پہلے اپوزیشن کے بنچوں کی طرف جا کر وہاں ہاتھ ملاتے سیاست میں سیاسی اختلافات ایسا معیوب نہیں لیکن اختلافات اور انتقام میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے موجودہ حکومت کو اپنے اقتدار کے تیسرے سال میں داخل ہوئے بھی تین ماہ ہوئے لیکن نواز شریف پر کوئی کرپشن ثابت ہوئی نہ ان سے کچھ نکلوایا جا سکا تو پھر ہنگامہ کس چیز کا ہے اس ہنگامہ آرائی میں ملک کا نقصان ہورہاہے عوام کی زندگیا ں اجیرن ہو چکی ہیں مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت اپنی حدوں سے تجاوز کرتی جا رہی ہے،سیاست میں ایسے تو دوام حاصل نہیں کیا جا سکتا نہ ہی عوامی مقبولیت حاصل کی جا سکتی ہے عمران خان صاحب نے بھی اپنی والدہ کے دکھ کو محسوس کرتے ہوئے شوکت خانم ہسپتال بنایا جو بڑا کام ہے اور عمران خان صاحب ملک کے وزیراعظم ہیں انہیں نوازشریف کی ماں کا دُکھ اپنی ماں کی طرح محسوس کرتے ہوئے شریف خاندان کے حوالے سے کوئی بہتر فیصلے لینے اور اپوزیشن سے مل کر ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں مثبت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -