ماں تمہیں کہاں سے لاؤں؟

ماں تمہیں کہاں سے لاؤں؟
ماں تمہیں کہاں سے لاؤں؟

  

میری ایک نظم ہے:”ماں کہاں سے لاؤں“

اس کا پہلا شعر کچھ یوں ہے:

دولت بھی ہے شہرت بھی ہے، ماں کہاں سے لاؤں 

دُنیا کی ہر راحت بھی ہے، ماں کہاں سے لاؤں 

آج یقینا نواز شریف اور شہباز شریف کی بھی یہی کیفیت ہو گی۔اولاد کے پاس جب سب کچھ ہوتا ہے تو ماں چلی جاتی ہے، پھر دُنیا جہان کی دولت خرچ کرنے سے بھی واپس نہیں ملتی۔ آج سے گیارہ برس پہلے میری ماں دُنیا سے رخصت ہوئی تو اللہ کا شکر ہے کہ ہم پانچ بھائی اور دو بہنیں اُن کے پاس موجود تھے۔ ہم پانچوں بھائیوں کو یہ سعادت بھی نصیب ہوئی کہ ہم نے اپنی ماں کے جنازے کو کندھا دیا اور جسد ِ خاکی کو لحد میں اتارا۔ بڑے بھائی رائے محمد فاروق کینیڈا میں ہوتے تھے، لیکن ماں کی بیماری کا سُن کر وہ بھی پاکستان آ گئے تھے اور اِس بات پر شکر ادا کرتے تھے کہ مَیں ماں کی زندگی میں پاکستان آ گیا،وگرنہ ساری زندگی خلش رہ جاتی۔اپنے اس تجربے کی بنیاد پر جب مَیں یہ سوچتا ہوں کہ نواز شریف اور شہباز شریف کس کیفیت سے گذر  رہے ہوں گے تو مجھے اُن کی حالت پر ترس آتا ہے۔نواز شریف کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی والدہ کی تدفین کے وقت اُن کی لحد پر مٹی نہیں ڈال سکیں گے اور شہباز شریف کو ہمیشہ یہ دُکھ رہے گا کہ آخری وقت پر وہ اپنی ماں کے پاس نہیں تھے۔ اِن دونوں دُکھوں کی تلافی کبھی نہیں ہو سکے گی۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ نواز شریف کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ ہمت کر کے اپنی والدہ کا جسد ِ خاکی لے کر پاکستان آتے اور تدفین میں شریک ہوتے، مگر شہباز شریف کے پاس یہ موقع نہیں تھا کہ وہ ماں کی زندگی میں اُن کے پاس رہتے،کیونکہ وہ پاکستان میں پابند ِ سلاسل ہیں۔ نواز شریف کے حصے میں ماں کی میت کو پاکستان روانہ کرنا لکھا تھا اور شہباز شریف کے حصے میں اُنہیں لحد میں اتارنا آیا ہے۔ دونوں کی محرومیاں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں اور دونوں کا ازالہ ممکن نہیں۔

شریف خاندان کو اللہ نے نوازا بھی بہت ہے، تاہم دُکھ بھی بہت دیئے ہیں، شاید یہی مشیت ایزدی ہے۔دُنیاوی لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان میں جس خاندان کے پاس سب سے زیادہ عرصے تک اقتدار رہا،وہ شریف خاندان ہے۔ تین بار ملک کی وزارتِ عظمیٰ اور چار مرتبہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ اس گھر کی لونڈی رہی۔ دوسری طرف یہی وہ خاندان ہے، جسے جلا وطن ہونا پڑا، اس طرح کہ چند ایٹیچی کیسوں کے سوا اور کچھ بھی ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ملی۔ نواز شریف کو ایک بار عمر قید اور دوسری بار دس سال کی قید سنائی گئی۔ پھر ایسا وقت بھی آیا کہ نواز شریف کے دونوں بیٹے باہر تھے اور پاکستان میں وہ اپنی بیٹی مریم نواز کے ساتھ قید بھگت رہے تھے۔دوسری طرف شہباز شریف ہیں، جنہیں اپنے بیٹے حمزہ شہباز کے ساتھ پابند ِ سلاسل ہونا پڑا اور اُن کا باقی خاندان ملک سے باہر موجود ہے۔ایک زمانے میں صرف شریف برادران کی ماں شمیم اختر ہی جاتی امراء میں رہتی تھیں، باقی سب دس ایکڑوں پرمشتمل محل سے دور جا چکے تھے،البتہ جب نواز شریف بیماری کی وجہ سے رہائی کے  بعد لندن گئے تو انہوں نے ماں کو بھی اپنے پاس بُلا لیا۔اب ماں کی جدائی کا صدمہ سہنے کی باری شہباز شریف کی تھی، جو انہیں لندن چھوڑ کر وطن واپس آ گئے اور پھر انہیں ماں کی شکل دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ انہوں نے اپنے والد کی تدفین میں بھی حصہ نہیں لیا تھا کہ اُس وقت وہ سعودی عرب میں جلا وطنی کے دن گذار رہے تھے……پھر وہ لمحات بھی بہت تکلیف دہ تھے،جب بیگم کلثوم نواز لندن کے ہسپتال میں بستر مرگ پر پڑی تھیں اور نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ قانونی تقاضے پورے کرنے پاکستان آ گئے تھے۔اُس کے بعد وہ جیتے جی بیگم کلثوم نواز کو نہیں دیکھ سکے، البتہ تدفین کے موقع پر انہیں مٹی ڈالنے کی سعادت ضرور ملی۔

آج شریف خاندان کے اکثر افراد لندن میں مقیم ہیں اور واپس نہیں آ رہے، کیونکہ یہاں انہیں مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نواز شریف تو ایک سزا یافتہ مجرم ہیں،جو علاج کے لئے حکومت کی اجازت سے باہر گئے اور انہیں سو فیصد یقین ہے کہ واپس آئے تو سیدھے جیل جائیں گے، غالباً اسی لئے انہوں نے ماں کے جنازے میں شرکت کرنے کا نایاب موقع بھی گنوا دیا۔ لازماً اس پر انہیں شدید دُکھ ہوا ہو گا،لیکن یہ فیصلہ اُن کا اپنا ہے، کسی اور نے اُن پر مسلط نہیں کیا۔اس تدفین میں شرکت کے لئے اگر وہ قیمت چکانے کا ارادہ کر لیتے تو کوئی انہیں روک نہیں سکتا تھا……دُعا یہی ہے کہ اللہ ایسے امتحانوں پر انسان کو بچائے،ماں کی جدائی تو ویسے ہی دُنیا کا سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے اور اگر یہ جدائی ایسی ہو جیسی نواز شریف کے حصے میں آئی ہے تو اس کرب کا اندازہ صرف وہی کر سکتا ہے،جو اس سے گذر رہا ہو۔ دُعا ہے کہ اللہ شریف خاندان کی بزرگ ہستی بیگم شمیم اختر کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی توفیق بخشے……”چارہئ دِل سوائے صبر نہیں“۔

مزید :

رائے -کالم -