کیا کوئی مڈل ایسٹ ٹریٹی آرگنائزیشن بن رہی ہے؟

کیا کوئی مڈل ایسٹ ٹریٹی آرگنائزیشن بن رہی ہے؟
کیا کوئی مڈل ایسٹ ٹریٹی آرگنائزیشن بن رہی ہے؟

  

خبر بڑی گرم ہے اور اس پر کئی ٹاک شوز بھی ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں کہ سعودی عرب کے شہر نیوم (Neom) میں امریکی وزیر خارجہ پومپیو، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی ایک خفیہ ملاقات ہوئی ہے۔ نیوم، بحیرۂ احمر کے دہانے پر شرم الشیخ کے نزدیک ایک نیا بندرگاہی شہر ہے جو ہنوز معرضِ تشکیل میں ہے۔ سعودیوں نے اس ملاقات سے انکار کیا ہے لیکن اتنا اقرار کیا ہے کہ یہ ملاقات امریکی اور سعودی نمائندوں کے مابین ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں تین سوال ذہن میں اٹھ رہے ہیں …… ایک یہ کہ اگر دھواں اٹھ رہا ہے تو کیا کہیں نہ کہیں آگ نہیں سلگ رہی ہے؟…… دوسرا سوال یہ ہے کہ پومپیو کو نیوم جیسے دور افتادہ سعودی شہر میں جا کر سعودیوں سے ملنے کی کیا ضرورت تھی؟…… اور تیسرا سوال یہ ہے کہ اسرائیلی ایجنسی اس ملاقات کا ذکر کیوں کئے جا رہی ہے؟

ماضی قریب میں متحدہ عرب امارات نے اسرائیل سے مکمل سفارتی تعلقات قائم کئے۔ اس کے بعد بعض دوسری خلیجی عرب ریاستوں نے بھی امارات کی پیروی کی۔ اس موضوع کو میڈیا پر کئی بار کھنگالا جا چکا ہے اس لئے میں اس پر مزید بات کرکے قارئین کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ یہ درست ہے کہ امارات اور سعودی عرب کے سٹیٹس میں بہت فرق ہے۔ سعودی عرب پوری مسلم امہ کی مذہبی قبلہ گاہ ہے، اس کا فلسطین کے مسئلے کے حل کے بغیر اسرائیل کا تسلیم کرنا ہرگز سمجھ سے باہر ہے۔ لیکن سعودی عرب ہو کہ امارات، قطر ہو کہ بحرین ان کے مفادات اور نقصانات ایک جیسے رہے ہیں۔ اگر کہیں کوئی ذرا سی دراڑ آئی بھی ہے تو وہ محض دکھاوا تھی۔ کور مفادات کا جہاں تک تعلق ہے تو وہ سب عرب ریاستوں کے ایک ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کیا ٹرمپ نے ڈیڑھ دو سال پہلے یہ نہیں کہا تھا کہ سعودی عرب کیا ہے؟…… ایک ہفتے کی مار ہی تو ہے!

اور یہ بات کچھ ایسی غلط بھی نہ تھی۔ دنیا جانتی ہے کہ عرب ممالک کا سارا اسلحہ بارود کہاں سے آتا ہے؟ ان کے پاس اسلحہ کے انبار ہیں لیکن یہ سب یا تو امریکہ سے آتے ہیں یا مغربی یورپ سے۔ سارا مغربی یورپ (جرمنی، فرانس، برطانیہ وغیرہ) امریکہ کا دُم چھّلا ہے۔عربوں کا زیادہ تیل مغربی یورپ، انڈیا اور چین کو فروخت ہوتا ہے۔لیکن کیا سلاحِ جنگ بھی چین اور انڈیا سے آتے ہیں؟…… ہرگز نہیں۔ وہ سارے کے سارے اسرائیل اور ویسٹرن بلاک سے آتے ہیں اور اسرائیل اور ویسٹرن بلاک کوئی دو بلاک نہیں، تینوں (مغربی یورپ، اسرائیل اور امریکہ) ایک ہیں۔آپ کو اس حقیقت پر بھی غور کرنا ہوگا کہ تولیدِ اسلحہ کا ابتدائی ترکیبی جزو تیل ہے اور عربوں نے نہائی جزو کے انبار لگا لئے ہیں تو گویا اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی ماری ہے۔ تبھی تو امریکہ نے کہا تھا کہ سعودی عرب ہمارے لئے ایک ہفتے کی مار ہے۔ عرب ممالک بُری طرح امریکی چنگل میں جکڑے ہوئے ہیں۔ وہ اگر یہ دعویٰ کریں کہ ہم کسی آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی کو  فالو کرتے ہیں تو ان پر کون اعتبارکرے گا؟

قارئین سے گزارش کروں گا کہ وہ ازراہِ کرام اتنا کھوج ضرور لگائیں کہ NATO کیوں تشکیل کی گئی تھی؟ اور یہ کھوج لگاتے ہوئے اس حقیقت کا بھی خیال رکھیں کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ نے جس ملک کے ساتھ بھی جنگ کی ہے اس کے ہمراہ ناٹو فورسز ضرور تھیں؟ لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا تبدیل ہو چکی ہے۔ یہ تبدیلی ابھرتی ہوئی ایک تیسری عالمی طاقت کی مرہونِ احسان ہے۔ چین آج مغربی بلاک کے لئے ویسا ہی عفریت ہے جیسا 1930ء کے عشرے میں ہٹلر کا جرمنی تھا۔ اتحادیوں نے ہٹلر کو 6سال کی خونریز اور طویل جنگ کے بعد شکست ضرور دے دی تھی، لیکن جونہی یہ جنگ ختم ہوئی تھی تو ایک ”نیا ہٹلر“ سامنے آ گیا تھا جس کا نام سوویت یونین تھا۔ اس نئے ہٹلر سے جنگ کرنے کے لئے، فاتح امریکہ نے NATO تشکیل دی تھی اور ساتھ ہی اقوام متحدہ بھی بنائی تھی۔ 1945ء سے لے کر آج تک امریکہ نے جن ممالک کے ساتھ پنجہ آزمائی کی ہے، ان کو NATO کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔(ناٹو، دوسری جنگ عظیم میں فتح یاب اتحادیوں کا دوسرا نام ہے)۔ اوپر عرض کر چکا ہوں کہ کالم کی سپیس کم ہے۔ اس لئے موٹی موٹی باتوں کی طرف اشارہ کر سکوں گا۔ اگست 1945ء کے بعد جب جرمنی اور جاپان کو شکست ہو گئی تو امریکہ نے اپنے ان دونوں سابق دشمنوں کو گلے لگا لیا  اور سوویت یونین کے خلاف صف آراء کر دیا۔ ایک گھسی پٹی بات پھر لکھ رہا ہوں کہ 1990ء تک دنیا دو بلاکوں میں تقسیم رہی۔ 45برس کا یہ عرصہ سرد جنگ کا عرصہ کہلاتا ہے۔ لیکن فطرت نے بھی اس کائنات میں توازن برقرار رکھنا ہوتا ہے۔چنانچہ روس کی جگہ ’گراں خواب چینی‘ سنبھلے اور ایسے سنبھلے کہ امریکہ اور ناٹوکو جان کے لالے پڑ گئے!

1990ء کے لگ بھگ تین اسلامی ملکوں نے انگڑائی لی۔ تیسرا ابھی تک جوہری افق کی طرف نہیں بڑھا لیکن پاکستان باقاعدہ ایک جوہری اور میزائلی قوت بن چکا ہے اور اس حوالے سے اور بھی خطرناک ہے کہ ننگ دھڑنگ ہے،مفلس و نادار ہے، جیب و دامن خالی ہے لیکن وہ جو کسی نے کہا ہے کہ بلی عاجز آ جاتی ہے تو پلنگ کی آنکھیں نکال لیتی ہے۔ اس لئے مشتری کو اس سے ہشیار رہنا پڑے گا۔ دوسرا ایران ہے۔ وہ اگرچہ جوہری قوت نہیں بنا لیکن آثار یہی ہیں کہ وہ جوہری راستے پر گامزن ہے۔ تیسرا اسلامی ملک ترکی ہے۔ وہ NATO کا ممبر بھی ہے۔ لیکن ایک قابلِ لحاظ غیر جوہری عسکری اور اقتصادی قوت ہے۔ یہ تینوں ممالک (پاکستان، ایران اور ترکی) جس خطے میں واقع ہیں، اس کی پشت پناہی چین کر رہا ہے…… اس تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ کے لئے چین مستقبل کا نازی جرمنی اور اس کا صدر شی جن پنگ مستقبل کا اوڈلف ہٹلر ہے!

CPEC، بیلٹ اینڈ روڈ انی شی ایٹو کا فلیگ شپ منصوبہ ہے۔ امریکہ اس چینی یلغار کو روکنا چاہتا ہے۔ اور میں پھر ایک گھسا پٹا فقرہ لکھ رہا ہوں جو آپ کئی برسوں سے پڑھ رہے ہیں کہ امریکہ اس چینی یلغار کو روکنا چاہتا ہے۔…… متحدہ عرب امارات میں اسرائیل کی موساد کا دفتر کھولنا اور اس کے بعد دوسری عرب ریاستوں اور سعودی عرب کو اپنے نیٹ (Net) میں لانا اسی طرح کی ایک سٹرٹیجک عسکری چال ہے جیسی کہ ناٹو کو تشکیل کرتے ہوئے امریکہ نے چلی تھی…… اگر سعودی عرب کل کلاں اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے اور فلسطین کے مسئلے پر اگر امریکہ، فلسطینیوں کو کچھ مرعات دے دیتا ہے تو میرے لئے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہوگی۔ امریکہ نے عراق، لیبیا، شام اور یمن کو برباد کرکے دیکھ دیا۔ افغانستان میں 17برس تک قیام کیا، ناٹو فورسز بھی یہاں آکر اکٹھی ہوئیں۔ یہ سب کچھ آپ کے سامنے ہوتا رہا ہے۔

اب وہ دن دور نہیں جب CPEC کے بعض انتہائی اہم منصوبے مکمل ہونے کی طرف تیزی سے گامزن ہیں۔ اسی لئے امریکہ اب سعودی عرب کو اسرائیل سے تسلیم کروانے کی راہ پر گامزن ہے۔ ان ملکوں کی طرف سے پاکستان پر بھی زور ڈالا جا رہا ہے کہ وہ بھی اسرائیل سے دوستی کرے۔ ہمارے وزیراعظم کا دوٹوک بیان اگرچہ ریکارڈ پر ہے۔ لیکن سعودی عرب اور امارات میں جو پاکستانی افرادی قوت کام کر رہی ہے وہ اگر واپس آتی ہے تو ہمارے زرمبادلہ کا ایک بڑا حصہ بند ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان کی معیشت ہرگز اس ”جھٹکے“ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اگر سعودی عرب، اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے تو یہ گویا اس کا پاکستان پر ایک قاتلانہ وار ہو گا۔ میں نہیں جانتا کہ آنے والے کل میں عرب اسرائیل تعلقات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ لیکن عرب ریاستوں میں پاکستانی افرادی قوت کے علاوہ بھی ہمارے بہت سے ایسے مفادات سعودی عرب سے وابستہ ہیں کہ ان کا ذکر کھلے عام نہیں کیا جا سکتا۔ فرض کریں اگر سعودی عرب کل کلاں اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کر لیتا ہے تو خواہی نخواہی پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنا پڑے گا۔

میرے خیال میں امریکہ، عربوں سے اسرائیل کے تعلقات استوار کرکے اس خطے میں ایک نئی NATO تشکیل کرنے کی راہ پر گامزن نظر آتا ہے جسے METO (مڈل ایسٹ ٹریٹی آرگنائزیشن) کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یہ بات دوسری ہے کہ عربوں کے ہاں تیل تو ہے لیکن کوئی ایسی جنگی قوت اور تجربہ نہیں جیسی کہ NATO ممالک کی افواج کا ہے۔ چنانچہ یہ METO ایک ایسی تنظیم ہو گی جس میں تجربہ اور حرب و ضرب کا ڈنک نہیں ہوگا…… اگر امریکہ 17،18برس تک افغانستان میں رہ کر وہاں افغان نیشنل آرمی اور افغان نیشنل پولیس قائم نہیں کر سکا تو عرب ریاستوں میں وہ دم خم نہیں کہ وہ اپنے تیل کی قوت کو عسکری قوت میں تبدیل کر سکیں۔ اس کے لئے کم از کم نصف صدی کی پلاننگ اور ریاضت کی ضرورت ہو گی۔ امریکہ اور مغربی یورپ نے عرب ممالک/ ریاستوں کو اسلحہ تو دے دیا ہے لیکن اس کو استعمال کرنا، اس کو Maintain کرنا اور کسی جنگ کی صورت میں ہونے والے جنگی ضائعات (Losses) کو پورا کرنا عربوں کے بس میں نہیں ہوگا…… میرا دل عربوں کے ساتھ ہے لیکن کیا کروں، دماغ دل کا ساتھ  دینے کی طرف نہیں آتا۔

مزید :

رائے -کالم -