گیس کی قیمتوں میں ڈیڑھ سو فیصد اضافے کی درخواست

گیس کی قیمتوں میں ڈیڑھ سو فیصد اضافے کی درخواست

  

موسم سرما کے دوران صنعتی یونٹس کو گیس فراہمی کی بندش اور عام صارفین کو گیس پریشر میں کمی، سامنے کے بعد ایک ہوشربا خبر یہ آئی ہے کہ سوئی ناردرن نے گیس کے نرخ میں ڈیڑھ سو فیصد سے زائد اضافے کی درخواست کر دی ہے۔گذشتہ روز آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو ارسال کردہ درخواست میں ایس این جی پی ایل نے گیس کی اوسط قیمت15750فیصد بڑھانے کو کہا ہے، موجودہ نرخ907 روپے75پیسے فی یونٹ سے1484 روپے فی ایم ایم بی ٹی مقرر کرنے کی درخواست اوگرا کو موصول ہوئی ہے۔اگر یہ درخواست منظور کر لی جاتی ہے تو جس صارف کا بل ایک ہزار روپے ماہانہ ہے وہ اضافے کے بعد اڑھائی ہزار روپے سے زائد ہو جائے گا۔سوئی ناردرن گیس پائپ لائن کی اس درخواست کی عوامی سماعت یکم دسمبر کو لاہور میں ہو گی۔دوسری جانب یہ اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ حکومت نے مقامی گیس اور امپورٹڈ گیس کی اوسط قیمت ملا کر نیا گیس ٹیرف بھی تیار کر لیا گیا ہے،جس کی وفاقی کابینہ سے جلد منظوری حاصل کی جانے کی توقع ہے۔اس حوالے سے وزارتِ پٹرولیم کے ذرائع کا موقف ہے کہ موسم سرما میں درآمدی ایل این جی کی گھریلو صارفین کو فراہمی سے مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے، تاہم اس مقصد کے لئے گیس ٹیرف (نرخ) میں اضافہ کرنا پڑے گا۔شہری تو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، پٹرولیم مصنوعات، بجلی سمیت اشیائے صرف کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔گیس کی قیمت میں مجوزہ اضافہ نہ صرف صارفین کو گھریلو طور پر متاثر کرے گا،بلکہ اس سے کمرشل اور انڈسٹریل سطح پر بھی پیداواری لاگت بڑھے گی،جس کا اثر بھی عام لوگوں اور صارفین پر پڑے گا، نتیجے میں پاکستان کی درآمدات پر بھی منفی اثرات پڑیں گے،اہم معاملہ یہ ہے کہ وزارت پٹرولیم نے بروقت ایل این جی منگوانے کے لئے غیر ملکی کمپنیوں سے معاہدے نہیں کئے،جس کی وجہ سے ایل این جی 30ڈالر تک خریدنا پڑ رہی ہے۔گذشتہ سال بھی اسی وجہ سے ملک میں گیس کا بحران پیدا ہوا تھا۔ماہرین نے اس سال بھی بار بار کہا تھا کہ حکومت بروقت ایل این جی کی درآمد کے معاہدے کرے، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔اب بوجھ صارفین پر ڈالا جا رہا ہے،اس سے غم و غصے کی نئی لہر ابھرے گی،لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قومی خزانے میں خسارہ برداشت کرنے کی سکت ہے، نہ گیس پیدا کرنے والی مقامی کمپنیاں یہ بوجھ اٹھا سکتی ہیں،ضرورت اِس امر کی ہے کہ تیز رفتاری کے ساتھ گیس کی پیداوار میں اضافے کے لیے اقدامات کیے جائیں،تھر کوئلے سے گیس پیدا کرنے کی تجویز پر ماہرین زور دے رہے ہیں،ہنگامی بنیادوں پر اس طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -