امریکہ افغانستان میں کیوں اور کیسے آیا؟ 

امریکہ افغانستان میں کیوں اور کیسے آیا؟ 
امریکہ افغانستان میں کیوں اور کیسے آیا؟ 

  

 زارشاہی کے زمانے ہی روس گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنے کا خواہش مند تھا۔ 1917ء میں اشتراکی انقلاب کے بعد سوویت یونین نے افغانستان میں پاؤں جمانے کیلئے کام کا آغاز کیا۔ ساٹھ برس تک سوویت یونین نے ظاہر شاہ سے اپنے تعلقات استوار کئے رکھے، لیکن وہاں سوویت یونین کو خاص کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ ساٹھ سال کی مسلسل کوششوں کے بعد سوویت یونین کا خیال تھا کہ اب افغانستان میں قدم جماناآسان ہو گا، تاہم 1979ء میں جب سوویت فوجی افغانستان میں داخل ہوئے تو انہیں افغانوں کے ہاتھوں بڑی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا……

جمعیت علمائے اسلام (س) اور جماعت اسلامی نے سوویت یونین کے خلاف جہاد میں افغانوں کی کھل کر نہ صرف حمایت کی بلکہ انہیں مالی امداد بھی فراہم کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کئے۔ انہی  جماعتوں اور جنرل ضیاء الحق کی حمایت کی بدولت سوویت فوجوں کے خلاف منظم مزاحمت شروع ہوئی تو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں نے بھی افغان مجاہدین کی امداد شروع کر دی۔ امریکہ افغانوں کی مسلح جدوجہد کا کئی ماہ تک بغور جائزہ لیتا رہا اور جب اسے یقین ہوگیا کہ افغانوں کی مزاحمت کے باعث گرم پانیوں تک سوویت یونین کی رسائی کو روکا جا سکتا ہے تو امریکی صدر ریگن نے افغانوں کی حمایت کا فیصلہ کیا۔ 

راقم الحروف کو اسی زمانے میں ایک شادی میں شرکت کیلئے دہلی جانے کا اتفاق ہوا۔ مجھے وہاں کئی دن قیام کرنا پڑا۔ دہلی میں میرے قیام کے دوران کتابوں کی ایک عالمی نمائش جاری تھی۔ مجھے دو تین بار یہ نمائش دیکھنے کا موقع ملا۔ اس نمائش کے دوران مجھے ایک سٹال پر ایک انگریزی کتاب Soviet intervention in Afghanistan نظر آئی۔ میں نے سرسری جائزے کے بعد یہ کتاب خرید لی اور ہندوستان میں قیام کے دوران ہی یہ ساری کتاب پڑھ لی۔ کتاب پڑھنے کے بعد مجھے علم ہوا کہ سوویت یونین افغانستان میں اپنے قدم جمانے کے بعد آبنائے ہرمز میں محدود مسلح تصادم کا آغاز کرے گا اور اس حملے کے ذریعے وہ یورپ اور پورے مغرب کیلئے مشرق وسطیٰ سے تیل کی فراہمی روک دے گا۔ راقم الحروف نے اس کی انگریزی میں ایک سمری تیار کی اور صدر جنرل ضیاء الحق کو پیش کر دی۔ اسی طرح اس کتاب کی دوسری سمری تیار کر کے میں نے اس وقت کے امریکی سفیر کو فراہم کی۔ سمری پڑھ کر جنرل ضیاء الحق نے امریکی سفیر کو اپنے ہاں بلا کر سمری دکھائی اور انہیں بتایا کہ سوویت یونین یورپ کو تیل کی سپلائی روکنا چاہتا ہے۔ یہ سمری دیکھ کر امریکی سفیر چونک پڑے اور انہوں نے صدر ریگن کو آگاہ کیا کہ سوویت یونین افغانستان میں اپنی پوزیشن مستحکم کر نے کے بعد تیل کی سپلائی روک دے گا۔  اس کے بعد صدر ریگن نے نہ صرف سوویت فوجوں کے خلاف افغانوں کی مدد کا فیصلہ کیا بلکہ انہوں نے افغان مجاہدین کے ایک وفد کو وائٹ  ہاؤس میں  مدعو کر کے ان کی جرائت و بہادری کی بہت تعریف کی اور انہیں امریکہ کی جانب سے پوری حمایت کا یقین دلایا۔ 

راقم الحروف نے اس سمری کی ایک کاپی امیر جماعت اسلامی میاں طفیل محمد مرحوم کو دکھائی تو انہوں نے پڑھنے کیلئے کتاب بھی طلب کی۔ میاں  طفیل محمد کتاب کا مطالعہ کر چکے تو ایک روز ملتان سے ملک وزیر غازی ایڈووکیٹ لاہور آئے اور انہوں نے میاں طفیل محمد سے ملنے کی خواہش ظاہر کی اور مجھے کہا کہ میں ان کو میاں صاحب کے پاس لے چلوں۔ ملاقات کے دوران ملک غازی کی نگاہ اس کتاب پر پڑی تو انہوں نے اپنے مطالعہ کیلئے میاں صاحب سے کتاب طلب کی۔ میاں صاحب نے انہیں بتایا کہ یہ کتاب ریاض چودھری صاحب نے پڑھنے کیلئے دی تھی، اگر یہ اجازت دیں تو آپ بھی پڑھنے کیلئے لے جا سکتے ہیں۔ ملک وزیر غازی کتاب اپنے ساتھ ملتان لے گئے۔ ملک وزیر غازی کے انتقال سے کچھ عرصہ قبل ان کے گھر پر ملاقات ہوئی تو میں نے کتاب لوٹانے کیلئے کہا۔ انہوں نے کتاب واپس کرنے کی حامی بھرلی لیکن میں ان کے ہاں سے نکلتے وقت کتاب اٹھانا بھول گیا۔ میں نے اس کتاب کی ایک فوٹو کاپی بھی کروائی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ فوٹو کاپی بہت بوسیدہ ہوگئی۔ جہاں بھی ہاتھ لگتا اس کے صفحات راکھ کی طرح بکھر جاتے۔ 

اس کے بعد افغانوں کے جہاد میں بہت شدت آگئی اورامریکہ نے بھی ہلکے اور بھاری ہتھیار افغان مجاہدین کو فراہم کرنا شروع کر دیئے۔ بالآخر سوویت یونین کو شکست ہوئی اور سوویت یونین کو جوہری اسلحہ رکھنے کے باوجود بہت بڑے اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ سوویت یونین کو آخر کار افغانستان سے نکلنا پڑا۔ اس سے پہلے برطانیہ نے بھی کئی بار افغانستان پر حملے کی کوشش کی مگر اسے منہ کی کھانی پڑی۔  نائن الیون کے بعد امریکہ نے طالبان کے امیر ملا عمر کو دھمکی دی کہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کر دے مگر ملاعمر کی حکومت نے یہ کہہ کر امریکہ کی بات ٹھکرا دی کہ افغان اپنے مہمانوں کو کبھی دشمن کے حوالے نہیں کرتے۔ چنانچہ امریکہ نے 43 ممالک کی حمایت سے افغانستان پر حملہ کر دیا لیکن بیس سال بعد اسے برطانیہ اور سوویت یونین کی طرح ہزیمت اٹھا کر افغانستان سے بھاگنا پڑا۔ 

علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا 

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی یا بندہ صحرائی یا مرد کوہستانی

صحرا سے علامہؒ کی مراد عراق تھا جو ایک ریگستان ہے اورکوہستانی سے مراد افغانستان تھا۔ علامہ نے یہ بات بیسویں صدی کے پہلے ربع میں بیان فرمائی تھی جو افغانستان میں سوویت یونین اور امریکہ کی شکست کے بعد سچ ثابت ہوئی کہ افغان اپنی آزادی کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ عراق نے بھی اپنے ہاں سے امریکہ کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ 

مزید :

رائے -کالم -