اللہ بادشاہ 

اللہ بادشاہ 
اللہ بادشاہ 

  

اقتدار کی مسندوں پر چہرے بدلتے رہتے ہیں، کوئی ناگزیر نہیں ہوتا مگر ہمارے ہاں ناگزیر سمجھ لیا جاتا ہے۔ کتنی ہی ایسی باتیں ہمیں روزانہ یہ احساس دلاتی ہیں کہ دنیا میں سدا بادشاہی صرف اللہ کی ہوتی ہے۔ باقی سب کو دنیا میں کچھ وقت کے لئے بادشاہت ملتی ہے اور پھر واپس لے لی جاتی ہے۔ جو شخص بھی بادشاہی کے دنوں میں یہ سمجھ لیتا ہے کہ اب اس کے اختیار کا سورج کبھی غروب نہیں ہوگا وہ غفلت کی گہری کھائی کا اسیر بن جاتا ہے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک کے سب سے حساس ادارے میں ایک نیا چہرہ مسند نشین ہو چکا ہے۔ کل تک اسی جگہ جس شخص کا طوطی بولتا تھا اب وہ قصہ ماضی بن گیا ہے۔ یہی دنیا کا نظام ہے مگر ہم اسے سمجھتے نہیں۔ قوموں کی تاریخ میں افراد آتے جاتے رہتے ہیں، سدا اقتدار صرف اس لافانی ذات کا ہے جسے کبھی زوال نہیں باقی سب وہم ہوتا ہے، ایک جذباتیت ہوتی ہے کوئی انسان اتنا ناگزیر نہیں کہ اس کے جانے سے کام رک جائے، یہ ہماری قومی خرابی ہے کہ ہم شخصیات کو پاکستان کے لئے لازم، ملزوم سمجھ لیتے ہیں، خاک کے پتلے کو خدائی درجہ دے دیتے ہیں حالانکہ بطور انسان اسے منصب سے بھی اترتا ہوتا ہے اور پھر قبر میں بھی جانا ہوتا ہے۔ یہی قانون فطرت ہے اور یہی مسلمہ حقیقت ہے۔ کیا یہ حقیقت پیغام نہیں دیتی کہ اصل چیز وہ مہلت ہے جو قدرت انسانوں کو دیتی ہے۔ وہ مہلت ختم ہوتی ہے تو سب ختم ہو جاتا ہے۔ جو اس حقیقت کو نہیں مانتے اور سمجھتے ہیں اپنے داؤ پیچ سے وقت کو لگام ڈال دیں گے وہ غافل ہی نہیں گمراہ بھی ہیں۔

یہ جملہ بھی شاید ہمارا ہی ایجاد کردہ ہے کہ فلاں شخص کے جانے سے جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ کبھی پورا نہیں ہو سکے گا، کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ قبرستان ایسے لوگوں سے بھرے پڑے ہیں جو کہتے تھے کہ ہمارے بغیر دنیا نہیں چل سکتی۔ دنیا کی مہذب اور ترقی یافتہ قوموں نے اپنے اندر اس برائی کو پنپنے نہیں دیا۔ وہاں شخصیت پرستی جیسی برائی موجود نہیں، امریکہ جیسی سپر پاور میں کوئی شخص دو بار سے زائد صدر منتخب نہیں ہو سکتا، چاہے اس نے امریکہ کے لئے آسمان سے تارے ہی کیوں نہ توڑ لئے ہوں۔ برطانیہ جیسی جمہوریت میں کوئی بھی خود کو ناگزیر نہیں کہہ سکتا، حتیٰ کہ وہاں کی سیاسی جماعتیں بھی اس برائی سے پاک ہیں اور ان کا وجود کسی شخص کی وجہ سے نہیں۔ یہاں یہ عالم ہے کہ ہر شعبے میں جو اقتدار پر آجائے وہ ملک کے لئے ناگزیر ہو جاتا ہے، اس کے بغیر اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔ ملک کا جو آرمی چیف بنتا ہے، اُسے اس قدر شناخت مل جاتی ہے کہ فوج اور ملک اس کے بغیر بے یارو مدد گار لگنے لگتے ہیں آپ ذرا سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بارے میں عوام کے تاثرات کو یاد کریں۔ ہر طرف سے دہائی دی جا رہی تھی کہ انہیں ملازمت میں توسیع دی جائے کیونکہ ان کا متبادل فی الوقت کوئی نظر  نہیں آتا۔ مگر وہ گئے تو پتا چلا پتہ بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلا اور فوج اپنا کام اسی طرح تندہی سے کرتی رہی افتخار محمد چودھری چیف جسٹس تھے تو ان کی ریٹائرمنٹ قریب آتے ہی ہاہا کار مچی ہوئی تھی کہ ان کے بعد عدلیہ کا کیا بنے گا۔ وہ گئے تو عقدہ کھلا کہ عدلیہ تو ان کے دور میں برباد ہو رہی تھی۔

تاہم انہوں نے از خود نوٹسوں سے اپنا جو امیج بنایا ہوا تھا۔ اس کی وجہ سے عدلیہ کے لئے وہ ناگزیر نظر آتے تھے۔ سیاستدان تو از خود یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ہیں تو پاکستان ہے، وگرنہ ان کے جاتے ہی ٹوٹ پھوٹ جائے گا۔ اب آپ نوازشریف اور آصف زرداری کی مثالیں دیکھیں۔ دونوں نے اقتدار کو جی بھر کے دیکھا اور انجوائے کیا، لیکن اس کے باوجود یہ سمجھتے رہے کہ ان کی سیاست کی ضرورت ہے۔ ملک چلانے کے لئے ان کا سکہ چلتا رہتا، وہ جب وزیر اعظم تھے تو کئی ایسے مواقع آئے کہ جب وہ اقتدار کو ٹھوکر مار کر ایک مدبر سیاستدان کا مرتبہ حاصل کر سکتے تھے۔ مگر وہ آخر وقت تک اقتدار سے چمٹے رہے۔ اس خمار سے ہی نہ نکل سکے کہ ان کے بغیر ملک نہیں چل سکتا جب انہیں نا اہل قرار دے کر وزیر اعظم ہاؤس سے نکالا گیا تو اس وقت بھی وہ یہی سمجھتے رہے کہ انہیں نکال کر ملک نہیں چلے گا۔ پھر ایک احمقانہ مہم چلائی، جس کا کوئی سرپیر نہیں تھا، اس لئے کہ نا اہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کیا تھا اور اس کا فیصلہ سڑکوں پر احتجاج سے تبدیل نہیں ہونا تھا۔ آج وہ لندن میں بیٹھے یہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ میرے بغیر بھی ملک چل رہا ہے۔ بلکہ مجھے تو اب اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لئے سوسو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ دنیا میں جہاں جہاں کسی نے اقتدار کو اپنے لئے لازم و ملزوم بنا لیا، اس نے نقصان اٹھایا، قذافی، صدام حسین، حسنی مبارک جیسے لوگوں کی مثالیں سامنے ہیں۔ ایران کے شہنشاہ کا بھی یہی حشر ہوا تھا۔ جب یہ دنیا عارضی ہے تو اس کی کوئی شے دائمی کیسے ہو سکتی ہے؟ خاص طور پر عہدہ یا اقتدار۔

ہر صاحبِ اختیار کو صرف ایک بات پلے باندھنی چاہئے یہ دنیا عارضی قیام کی جگہ ہے اور اس کا اقتدار و اختیار بھی عارضی ہے۔ بیورو کریٹس ہوں، ججز ہوں، جرنیل ہوں یا سیاستدان انہیں بالآخر طاقت اور اقتدار سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ کوئی اپنی مدت ملازمت پوری کر کے ریٹائر ہو جاتا ہے اور کسی کو عوام اتار دیتے ہیں جو سیانے ہیں وہ ملنے والے اختیار و اقتدار کو قوم اور ملک کی خدمت کا ذریعہ بناتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر نیک نامی کمانی ہے، عوام کے دلوں میں جگہ بنانی ہے اور تاریخ میں امر ہونا ہے تو پھر اپنی ذات کو تج کے وہ کام کرنے ہیں جو اقتدار کی کرسی سے اترنے کے باوجود عوام کے دلوں سے نہیں اترنے دیتے۔ آج کے مسند نشینوں کو بھی یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہئے۔ تاریخ کا کوڑا دن بہت وسیع ہے۔ اس میں ہر قسم کی آلائشیں سما جاتی ہیں۔ بہتر یہی ہے انسان اس کوڑا دان سے بچے اور تاریخ کے اس خانے میں جگہ بنانے کی کوشش کرے جس میں امر ہو جانے والی شخصیات کا بسیرا ہے۔ یزید بھی دنیا سے گزر جاتا ہے اور حسینؓ بھی چلے جاتے ہیں۔ یزید نفرت کی کھائی میں دفن ہو جاتا ہے، حسینؓ محبت کے شبستان میں زدہ رہتے ہیں اللہ بادشاہ ہے اور انسان اس کی بنائی ہوئی کٹھ پتلیاں ہیں۔ جب یہ کٹھ پتلیاں خدا بننے کی کوشش کرتی ہیں تو نشان عبرت بن جاتی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -