سکندر خان کی مسلمانی

 سکندر خان کی مسلمانی
 سکندر خان کی مسلمانی

  

اگرچہ میں نے کسی گزشتہ کالم میں یہ فقرہ تو لکھ دیا تھا کہ بعض لوگ سکندرِ اعظم کو مسلمان سمجھتے ہیں، لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ اس پر روزانہ دو تین کلپ موصول ہوں گے جن میں پوچھا جائے گا کہ: ”کیا واقعی سکندر مسلمان نہیں تھا؟“

اس کا بیک گراؤنڈ یہ ہے کہ جب میں GHQ میں تعینات تھا تو میرے ایک DG (مرحوم میجر جنرل ظہور احمد) نے کسی ٹی بریک کے دوران اقبالیات پر میرے میلانِ  طبع کا نوٹس لے لیا اور کہا کہ آپ پاک آرمی کے مقامی افسروں کی نژادِ نو کی تربیت کے لئے ہفتہ عشرہ میں ایک لیکچر ضرور دیا کریں۔ میں نے ٹال مٹول کی بہت کوشش کی لیکن بات نہ بن سکی اور مجھے طوعاً و کرعاً اپنے سینئر کی اس ڈیمانڈ پر سرِ تسلیم خم کرنا پڑا۔ راولپنڈی میں سگنل کور کا سنٹر بھی ہے۔ مجھے کہا گیا کہ فلاں روز آپ فلاں موضوع پر اقبالیات کے تناظر میں لیکچر دیں گے۔ سگنل سنٹر کے علاوہ سگنل کور کے دوسرے جونیئر آفیسرز کو بھی مدعو کیا گیا۔

مختلف کورسوں میں انسٹرکٹر آفیسرز کویہ بتایا جاتا ہے کہ جب لیکچر دیا جائے تو دورانِ خطاب وقفے وقفے سے کوئی لطیفہ بھی جھاڑ دیا کریں تاکہ سامعین کی توجہ کا ارتکاز برقرار رہے۔ اب یاد نہیں کہ موضوع کیا تھا لیکن اقبال کا فلسفہ ء خودی، فلسفہ شاہین یا فلسفہء مومن وغیرہ نہیں تھا کہ ان ”فلسفوں“ کو سن سن اور پڑھ پڑھ کر ہی لوگ اقبال کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے بلکہ بدظن رہتے تھے۔ لیکچر انگریزی میں تھا لیکن انگریزی زبان میں اقبال کے افکار پر نقد و نظر کرنا اور دریں اثناء کسی لیکچر میں سامعین کی دلچسپی برقرار رکھنا، ایک چیلنج تھا۔ لہٰذا میں نے کوشش کی کہ وقفے وقفے سے اقبال کا کوئی ایسا شعر پیش کر دوں جو اقبال شناس مقررین اور بالخصوص مولانا حضرات بیان کرکے مجلسوں اور محفلوں کو گرماتے اور حاضرین کی توجہ برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تو میں حاضرین کے سامنے اقبال کا وہ منظوم ڈائیلاگ پڑھ کر سنا رہا تھا جو سکندراعظم اور ایک بحری قزاق کے درمیان ہوتا ہے۔ میں نے بتایا کہ سکندر کی طبیعت میں عفو و استغنا کا جو پہلو تھا وہ بے نظیر تھا۔ اس نے راجہ پورس کو دریائے جہلم کی لڑائی میں شکست دی اور جب اسے پابجولاں سکندر کے سامنے لایا گیا تو اس نے وہ مشہور سوال پوچھا جو ہر قاری کے ذہن میں ہو گا اور پورس نے جو جواب دیا وہ بھی اس کی ہندو ذہنیت کے ترفع کا ترجمان تھا۔ جب آپ اقبال کو بہ نگاہِ غائر پڑھیں گے تو اس نے ہندی آریائی ذہنیت کا تذکرہ اپنے Ph.D کے مقالے میں بھی کیا ہے اور کئی فارسی اور اردو اشعار میں بھی اس کا برملا اظہار کیا ہے۔ مثلاً ایک شعر یہ ہے:

عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے

شکوہِ ترکمانی، ذہنِ ہندی، نطقِ اعرابی

میں نے سکندر اور پورس کے اس ڈائیلاگ کا حوالہ دے کر ایک اور ڈائیلاگ کا ذکر بھی کیا کہ جو ایک بحری قزاق (Pirate) اور سکندر کے درمیان ہوا تھا۔ جب اس قزاق کو کسی سمندری لڑائی کے دوران گرفتار کرکے سکندر کے سامنے پیش کیا گیا تو سکندر نے پوچھا:

صلہ تیرا تری زنجیر یا شمشیر ہے میری

کہ تیری رہزنی سے تنگ ہے دریا کی پہنائی؟

وہ بحری ڈاکو یہ سوال سنتا ہے اور فوراً جواب دیتا ہے:

سکندر! حیف تو اس کو جوانمردی سمجھتا ہے

گوارا اس طرح کرتے ہیں ہم چشموں کی رسوائی

ترا پیشہ ہے سفّاکی، مرا پیشہ ہے سفّاکی

کہ ہم قزاق ہیں دونوں، تو میدانی، میں دریائی

سکندر یہ جواب سن کر پھڑک اٹھا، اس کی زنجیریں کھلوائیں، اپنے پاس بلوایا، پہلو میں بٹھایا اور شاباش دی کہ تو نے سچ بولا ہے۔

ایک کپتان صاحب نے معاً اٹھ کر سوال کیا: ”سر! یہ جواب تھا جو اس بحری ڈاکو نے دیا۔ کیا یہ بے ادبی، گستاخی اور بدتمیزی کی ذیل میں نہیں آتا؟ اگر کوئی اور کمانڈر ہوتا تو اس کی زبان گُدّی سے نہ کھینچ لیتا……؟“

میں نے جواباً کہا کہ: ”سکندر 32برس کی عمر میں مر گیا تھا۔ اس کا لہو بھی جوان اور گرم تھا۔ اس نے اس زمانے کی تقریباً ساری معلومہ دنیا فتح کر لی تھی۔ مصر، ایران، آج کا افغانستان اور پاکستان سب اس کے زیرنگیں تھے۔ وہ چاہتا تو ایک حقیر سے ڈاکو کو قتل کروانے میں کیا امر مانع تھا؟ وہ یونان سے آیا اور ہندوستان تک پہنچا تو اس طویل سفر میں اس نے نجانے کتنے سورما ہلاک کئے ہوں گے لیکن راجہ پورس اور اس بحری ڈاکو کے جوابات سن کر اس نے جس کشادہ ظرفی اور دریا دلی کا اظہار کیا وہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہ واقعی ”سکندراعظم“ تھا۔ اس سے زیادہ ”عظیم“ کمانڈر دنیا میں شاید ہی کوئی اور ہوگا!“

یہ سن کر ایک لفٹین صاحب اٹھے اور پوچھا: ”سر کیا سکندر، مسلمان نہیں تھا؟“…… میں یہ سوال سن کر سخت حیران ہوا۔ میں نے پوچھا: ”کیا تاریخ پڑھی ہے؟“…… وہ جھینپ سا گیا۔ کہنے لگا: ”سر پڑھی تو ہے، ماسٹرصاحب نے تو یہی بتایا تھا کہ سکندر ایک عظیم فاتح تھا۔ ساری دنیا کو فتح کرنے نکلا تھا۔ اس کی ملاقات خواجہ خضر سے بھی ہوئی تھی اور آپ کہہ رہے ہیں، وہ مسلمان نہیں تھا…… یہ راجہ سلطان سکندر، سکندر بخش اور سکندر علی کے نام سے جو سینکڑوں لوگ پاکستان میں ہیں، کیا ان کے والدین کو معلوم نہ تھا کہ سکندر مسلمان نہیں، کافر تھا؟“

اتنے میں ایک طرف سے آواز ابھری: ”سر اس کا اپنا نام ”سکندر خاں“ ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر آفیسرز کو معلوم نہیں کہ سکندر مسلمان نہیں، غیر مسلم تھا۔ کافر نہ بھی ہو تو مسلمان تو ہرگز نہیں ہوگا“۔

میں نے یہ سن کر جواب دیا: ”سکندر کا اصل نام Alexander تھا جو بگڑ کر”سکندر“ ہو گیا۔ یہ بگاڑ ”عربوں“ نے الیگزنڈر کو دیا ہے۔ یہ سکندر تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی ساڑھے تین سو برس پہلے پیدا ہوا اور 323ق م میں مر گیا تھا۔ اس کے باپ کا نام فیلقوس تھا جو یونان کی ایک چھوٹی سی ریاست مقدونیہ کا حکمران تھا…… سکندر کے استاد کا نام ارسطو تھا۔فیلقوس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو ارسطو کی شاگردی میں دے دیا۔ارسطو 384ق م میں آج کے ایتھنز (یونان) میں پیدا ہوا اور 322ق م میں اس کا انتقال ہو گیا۔ سکندر 16 برس تک اس کا شاگرد رہا۔ وہ اپنے استاد کی کتنی عزت کرتا تھا، اس کے بارے میں کئی داستانیں مشہور ہیں اور میں ان کو یہاں دہرا کر وقت ضائع نہیں کروں گا۔

آپ کوئی اچھی سی ”ورلڈ ہسٹری“ بازار سے خریدیں اور الیگزنڈر کی سوانح کا مطالعہ کریں …… جہاں تک فوج کا تعلق ہے تو الیگزنڈر پر بہت سے سول اور فوجی مصنفین نے کئی ضخیم اور مبسوط سوانح قلمبند کی ہیں۔ آج ہی سنٹرل آرمی لائبریری میں جائیں اور کوئی تاریخ لاکر اس کا مطالعہ کریں …… یہ جو میں نے راجہ پورس اور اس بحری ڈاکو کا مکالمہ آپ کو سنایا ہے اس کی پشت پر بھی ارسطو کی تعلیمات کا اثر تھا کہ سکندر نے ان سے انتقام نہ لیا اور معاف کر دیا۔ انتقام لینا اور معاف کر دینا دو متضاد صفات (Attributes) ہیں جن پر ارسطو اور اس کے استاد افلاطون نے اپنی کتابوں میں بھرپور تبصرہ کیا ہے۔لیکن یہ کتب اور یہ تبصرے فلسفہ اور مابعدالطبیعات (میٹافزکس) کے مضامین ہیں …… ان کو اگر نہ بھی پڑھیں تو کچھ ہرج نہیں۔ لیکن آپ کا سکندر کو مسلمان سمجھنا میرے لئے باعثِ حیرانی ہے“۔

یہ سن کر سکندر خاں کے ایک کورس میٹ نے جواب دیا: ”سر، پھڈّا تو تب پڑے گا جب سکندر گھر جا کر اپنے والدین سے پوچھے گا کہ میرا نام آپ نے غیر مسلمانانہ کیوں رکھا؟……“ یہ سن کر کلاس نے ایک بھرپور قہقہہ لگایا اور میرا خطاب بھی ختم ہو گیا!

مزید :

رائے -کالم -