قائمہ کمیٹی قانون انصاف، نیب بلز کیلئے ووٹنگ نہ کرانے پر اپوزیشن کا احتجاج 

قائمہ کمیٹی قانون انصاف، نیب بلز کیلئے ووٹنگ نہ کرانے پر اپوزیشن کا احتجاج 

  

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف میں نیب سے متعلق دوسر ے اور تیسر ے ترمیمی بل پر ووٹنگ نہ کرانے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ آج کمیٹی میں اپوزیشن کے تمام ارکان موجود تھے جبکہ حکومتی ارکان کم تھے اس لیے چیئر مین کمیٹی نے ووٹنگ نہیں کرائی،نیب ترامیمی بل سے حکومت اپنے آپکو این آراو دیناچاہتی ہے،بل کوکمیٹی سے مسترد کرائیں گے ہمارے ارکان کی تعداد زیادہ ہے،حکومت سنجیدہ ہے تو آرڈیننس واپس لے اورتب حکومت کے ساتھ بات کریں گے،حکومت نیک نیتی سے آرڈیننس نہیں لائی ہے،وزیر قانون فروغ نسیم نے کہاکہ اپوزیشن نیب قانون میں ترامیم کایہ موقع ضائع نہ کرے ماضی میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے موقع ضائع کیا تواس کو بھگتا بھی ہے،اپوزیشن جو ترامیم لاناچاہتی ہے ہم قبول کرنے کوتیار ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ نیب ترمیمی بلز پر کمیٹی میں اتفاق رائے پید اکرکے پاس کریں گے،کمیٹی نے بلوں کے محرکوں کے کمیٹی میں غیرحاضری پر نوٹس جاری کرنے کافیصلہ کرتے ہوئے آئندہ نہ آنے پر بل مسترد کرنے کافیصلہ کرلیا۔ بدھ کو  قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف کااجلاس چیرمین کمیٹی ریاض فتیانہ کی سربراہی میں ہوا۔اجلاس میں رکن کمیٹی لال چند،کشورزہرہ،ملیکہ بخاری،آغا حسن بلوچ،جنید اکبر،شنیلہ رتھ، راناثنا اللہ خان،چوہدری محمود بشیرورک، عثمان ابراھیم، خواجہ سعد رفیق،محسن شاہ نواز رانجھا،قادرخان مندوخیل،نفیسہ شاہ،نوید قمر اور عالیہ کامران  نے شرکت کی جبکہ وزیر قانون فروغ نسیم اور سیکرٹری قانون شریک ہوئے ہیں۔کمیٹی میں تین بلوں کے محرک  مہناز اکبر عزیز،نصرت وحید اور جے پرکاش کے نہ آنے پر کمیٹی نے شدید برہمی کااظہارکیااور کہاکہ بلوں کے محرک سنجیدہ نہیں ہیں اس لیے ایجنڈے کوختم کیاجائے جس پر  چیئرمین نے تینوں بلوں کے محرک کو نوٹس دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ اگر آئندہ اجلاس میں بلوں کے محرک نہ آئیں تو تینوں بلوں کومسترد کردیاجائے گا۔وزیر قانون فروغ نسیم کمیٹی میں دیر سے آئے جس پر کمیٹی نے ان کوانتظار کیا حکومتی رکن نے اپوزیشن کوکہاکہ وہ اس پر واک آوٹ کریں تو میں بھی ان کاسا تھ دوں گا۔ جس پر اپوزیشن ارکان نے کہاکہ ہم آج واک آوٹ نہیں کریں گے آج ہم  وزیر کاانتظار کریں گے۔ محسن شاہ نواز  نے کہاکہ بار کونسل کے الیکشن میں اخراجات کی بھی حد مقرر کی جائے۔نیب دوسر ے ترمیمی  بل 2021اور نیب تیسر ے  ترمیمی بل2021پر سیکرٹری قانون نے بتایاکہ نیب دوسری ترمیم میں پانچ ترامیم ہیں۔ٹیکس کے معاملات کو نیب آرڈیننس کے ذریعے نیب کیے دائرہ اختیار سے نکل دیا ہے جس کے تحت وفاقی و صوبائی کابینہ کے فیصلوں کو استثنی دے دیاگیا ہے۔رانا ثنائاللہ نے کہاکہ اگر کسی نے جان بوجھ کر نقصان پہنچایا ہوتو اس کو سزا کون دے گا۔وزیر قانون فروغ نسیم نے کہاکہ بل میں اپوزیشن جو اصلاح کریں گے ہم قبول کریں گے۔کابینہ کی فیصلے سب مل کرتے ہیں اس طرح سب ذمہ دار ہوں گے نیب کومکمل  غیر فعال نہیں کرسکتے  اگر نیب کے دائرہ اختیار سے کابینہ کے فیصلوں کو نکالیں گے تو ایف آئی اے اور انٹی کرپشن بھی کاروائی کرسکتا ہے۔ رانا ثنا اللہ نے کہاکہ ان اداروں کا سربراہ حکومت لگاتا ہے وہ کس طرح کاروائی کرسکتے ہیں۔فروغ نسیم نے کہاکہ نیب  چیئرمین کو بھی کوئی آئینی تحفظ حاصل نہیں ہے۔یہ نیب آرڈیننس کو ٹھیک کرنے کاموقع ہے اس کوضائع نہ کریں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے موقع ضائع کیا توان کوہی یہ بھگتنا پڑا۔سعد رفیق نے کہاکہ آپ کو یہ بات بہت دیر سے سمجھ آئی ہے۔فروغ نسیم نے کہاکہ کابینہ کے فیصلوں کے خلاف نیب نے انکوائری شروع کی ہے یہ ہواہے۔عالیہ کامران نے کہاکہ ہم نیب کے قانون کو نہیں مانتے ہیں۔جو عمل قانون کے بننے سے پہلے جرم تھا اب جرم نہیں ہے یہ حکومت نے اپنے آپ کو این آر او دیا ہے سابقہ دور کے لوگ اس جرم میں پیش ہوں گے جبکہ ان کے دور کے لوگ پر یہ کیس نہیں ہوگا۔لعل چند نے کہاکہ اس بل پر اتفاق رائے ہونا چاہیے۔کرپشن ملک کو پیچھے لے کر گیا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ آئین میں آرڈیننس کا اختیار مخصوص حالات کے لیے ہے ایوان صدر کو آرڈیننس فیکٹری  بنادیاگیاہے یہ آئین کے رو کے خلاف ہے ایک دن اسمبلی کا اجلاس ختم کیا جاتا ہے اور آرڈیننس جاری کردیا جاتاہے  اور اجلاس دوبارہ بلالیاجاتاہے حکومت پہلے آرڈیننس واپس لیں اور اس کے بعد مذاکرات کریں گے متحدہ اپوزیشن کی یہی رائے ہے۔بتایاجائے صوبائی چیف جسٹس کو ججوں کی تعیناتی سے باہر کیوں رکھ گیا ہے ریٹائرڈ سیشن جج کو ہائی کورٹ جج کے اختیار کیوں دیئے جارہے ہیں وہ حکومت کی بات کرے گا۔چیرمین نیب کو توسیع نہیں ملنی چاہیے کیا کوئی بھی قابل بندہ نہیں ہے اوروں کو بھی موقع ملنا چاہیے۔ چیئرمین نیب کی آزادی صلب ہوجائے گی جب اس کو صدر تعینات  کرئے گا۔اپوزیشن کے مقدمات پرانے قانون کے تحت چلیں گے جبکہ ان کے نئے قانون سے چلے گے۔۔اپوزیشن کے باربار بل پر ووٹنگ کی اسرار پر چیرمین کمیٹی نے کہاکہ بل پر اتفاق رائے پیداکیاجائے گا اج پہلااجلاس ہے اس پر مزید بحث بھی ہوگی اور اسی دوران چیرمین کمیٹی اجلاس ملتوی کردیا۔ووٹنگ نہ کرانے اور اجلاس ملتوی کرنے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیاکہ آج کمیٹی میں اپوزیشن کی تعداد زیادہ تھی جبکہ حکومتی ارکان نہیں آئے تھے جس پر ووٹنگ نہیں کی گئی۔

قانون و انصاف کمیٹی

مزید :

صفحہ آخر -