کسی عدالتی فیصلے سے انسانی المیہ پیدا ہونے کا خدشہ ہواتو عمل نہیں کروں گا، سعید غنی 

کسی عدالتی فیصلے سے انسانی المیہ پیدا ہونے کا خدشہ ہواتو عمل نہیں کروں گا، ...

  

 کراچی (آئی این پی) وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کسی عدالتی فیصلے سے انسانی المیہ پیدا ہونے کا خدشہ ہوا عمل نہیں کروں گا، مشیر خزانہ نے تسلیم کیا بر وقت کارگوز نہ خریدنے پر گیس بحران ہوا، حکومتی نااہلیوں کی سزا عوام بھگت رہے ہیں، حکومت نے ہزاروں ارب روپے عوام کی جیب سے نکالے، وفاق ہربحران کا ذمہ دار سندھ حکومت کو ٹھہرا دیتا ہے، تحقیقات کرنی ہیں تو شوگر کمیشن رپورٹ پر کریں، حکومت نے تاحال شوگرکمیشن رپورٹ پر کارروائی نہیں کی۔کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ    ملک میں 70 فیصد گندم پنجاب میں پیدا ہوتی ہے، پھر پنجاب میں گندم کی قلت کیسے پیدا ہوگئی؟ جو گندم جانوربھی نہیں کھاتے وہ انسانوں کوکھلائی گئی، جب ملک میں گندم کی پیداوارزیادہ ہوئی تو گندم کہاں غائب ہوئی اور پھر بیرون ملک سے کیوں منگوائی گئی؟، وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کہا گیا کہ سندھ میں 16لاکھ ٹن گندم چوری ہو گئی سندھ حکومت نے 12لاکھ ٹن گندم پروکیورمنٹ کی تھی، سمجھ نہیں آرہی 12 لاکھ ٹن میں سے 16 لاکھ ٹن گندم کیسے غائب ہوگئی۔  سعید غنی نے کہا کہ گزشتہ روزسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے افسران کو وضاحت دینے کا کہا ہے جو غلط ہے، پولیس افسران کو تبدیل کرنے سے امن و امان کی صورتحال پر اثر پڑ سکتا ہے، افسران کا معاملہ بڑھا تو حکومت کی انتظامی امور متاثر ہوں گے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم عدالتی کے فیصلوں کو ماننے کے پابند ہیں لیکن عدالتوں سے ایسے فیصلے بھی آئے ہیں جن پر عمل کرنا افسران کے لیے مشکل ہوتا ہے، سندھ حکومت کے لیے جو فیصلے آئے ہیں وہ مناسب نہیں ہیں، اگر کوئی ایسا فیصلہ کیا جائے جس سے انسانی المیہ پیدا ہو جائے تو میں عمل نہیں کروں گا، میں عہدہ چھوڑ کر عوام کے ساتھ کھڑا ہونا پسند کروں گا۔

سعید غنی

مزید :

صفحہ آخر -