عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں مجرم کا خطاب افسوسناک، سسٹم کرپٹ ہے ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا: عمران خان 

  عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں مجرم کا خطاب افسوسناک، سسٹم کرپٹ ہے ٹھیک کرنے ...

  

         اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں مجرم کا خطاب بھی افسوسناک ہے۔ ہمارا سسٹم کرپٹ ہے ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا، ہمیں اپنی اخلاقیات کا معیاربلند کرنا ہو گا۔اسلام آباد میں کامیاب جوان کنونشن 2021ء  سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آج کل ٹیپس پر بات ہو رہی ہے، ٹیپس نکل رہی ہیں ججز کے نام آ رہے ہیں اور جو ٹیپس آ رہی ہیں یہ ڈرامہ ہیں۔ لاہور میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے شرکت کی، تقریب میں چیف جسٹس کو مدعو کیا گیا اور خطاب ایک مفرور کرتا ہے، فنکشن میں تقریر وہ کرتا ہے جو ملک سے جھوٹ بول کر بھاگا ہوا ہے، جب ایک قوم کی اخلاقیات ختم ہوتی ہے تووہ تباہ ہو جاتی ہے۔ جاپان میں اخلاقیات کی وجہ سے دوایٹم بم ملک تباہ نہیں کرسکے۔ مدینہ کی ریاست میں اخلاقیات تھیں، ہمارا سسٹم کرپٹ ہے ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا، ہمیں اپنی اخلاقیات کا معیاربلند کرنا ہو گا، اسی لیے رحمت اللعامین اتھارٹی بنائی تاکہ نبی کی زندگی سے سیکھا جائے، ہم سب عاشق رسول ہیں، نبی کی سیرت کواپنانا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ 25سال پہلے سیاست میں آیا تو کہا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، کرپشن کرنے والے یہ پیسہ باہر بھیج کر ملک کا دگنا نقصان کرتے ہیں، پاناما میں آف شور کمپنیوں میں پیسہ چھپانے والوں کے نام آئے، پاناما میں آیا لندن کے چار مہنگے فلیٹس کی مالکن مریم صفدر ہیں، پاناما لیکس پر عدالت میں کیس چلا اور نواز شریف کو سزا ہوئی۔ یہ عدالتوں کوبتادیں یہ پیسہ کدھرسے آیا، پہلے کہا گیا”مجھے کیوں نکالا“ پھر فوج کو برا بھلا کہا گیا، مجھے بھی برا بھلا کہا گیا، میں توپبلک آفس ہولڈرنہیں تھا لیکن سپریم کورٹ میں اپنا 40 سالہ پرانا ریکارڈ دیا۔کامیاب جوان پروگرام کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عثمان ڈار اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، عثمان ڈار نے جس جنون کے ساتھ یہ کام کیا اس پر مبارکباد دیتا ہوں، کامیاب جوان پروگرام تمام منصوبوں میں سب سے زیادہ کامیاب ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں آیا تو 14 سال میرا مذاق اڑایا گیا، کہا گیا کہ وہ پارٹی سسٹم میں تیسری پارٹی آ ہی نہیں سکتی، جب تیسری پارٹی آ گئی تو تین سال سے سن رہا ہوں یہ ناکام ہو جائے گی۔ سٹیڈیم میں 9 سال کی عمر میں ٹیسٹ میچ دیکھنے گیا تھا، اپنی والدہ کو کہا ٹیسٹ کرکٹر بننا چاہتا ہوں، میرے خاندان والوں نے کہا تم ٹیسٹ کرکٹرنہیں بن سکتے، ناممکن ہے۔ اللہ نے انسان کواشرف المخلوقات بنایا، جتنا چیلنجزکے سامنے کھڑے ہونگے اتنا ہی کامیاب ہوتے جائیں گے، کامیاب وہ ہوتا ہے جوبڑی سوچ رکھتا ہے اورہارنہیں مانتا۔ ہر چیز میں لوگوں نے مجھے کہا ناممکن ہے مگر اللہ نے کامیابی دی، میں آج کہتا ہوں کہ انشاء  اللہ پاکستانی قوم ایک عظیم قوم بنے گی۔مہنگائی کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ دنیا میں لاک ڈاؤن لگا، کاروبار رکا اور سپلائی لائن متاثرہوئی، یہ وقت ہمارے لیے مشکل ہے، دنیا میں کورونا کی وجہ سے برا وقت ہے، ہر چیز مہنگی ہو گئی، یہ اس وقت پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ 40 لاکھ خاندانوں کو سود کے بغیر گھر کے لیے قرضے دیئے جائیں گے۔ مجھ سب سے زیادہ فخر یونیورسل ہیلتھ کوریج پر ہے۔ ہر شہری کو ہم ہیلتھ انشورنس دے رہے ہیں۔اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کی ترقی کے لیے انہیں ہنرمند بنانا ہے، کامیاب پاکستان پروگرام کا ملکی معاشی ترقی کے لیے اہم کردارہے، ترقی یافتہ قومیں ہمیشہ اپنی نوجوان نسل پر خصوصی توجہ دیتی ہیں، جاپان اورچین کی ترقی ہمارے لیے قابل تقلید ہے، نوجوان نسل کی ترقی کے لیے تعلیم کے ساتھ انہیں ہنرمند بھی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ عثمان ڈارنے بہت اچھا کام کیا ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ نچلے طبقے کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے۔ 40 لاکھ گھرانوں کوپانچ لاکھ بغیرسود قرض دیں گے، یہ آئیڈیا عثمان ڈارنے دیا۔ اور وہ وزیراعظم عمران خان کا ویڑن لیکر ا?گے چل رہے ہیں۔وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کے اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پاکستان میں پولیو وائرس افغان مہاجرین کے ذریعے داخل ہوتا ہے۔قومی ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر اعظم نے انسداد پولیو کے موثر اقدامات پر صوبائی صحت کے محکموں اور ضلعی انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کیا جبکہ انسداد پولیو کے لیے دو سالہ نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان 23-2022 کی بھی منظوری دی گئی۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے بین القوامی شراکت داروں کا مالی اور تکنیکی امداد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موسم سرما میں پولیو کے پھیلاؤ کی شرح کم ہوتی ہے، بچوں کی ایمیونائزیشن کے لیے موسم سرما موزوں ترین وقت ہوتا ہے، ہم سب نے مل کر پولیو وائرس کا خاتمہ کرنا ہے جبکہ عالمی برادری کو پولیو کے خاتمے میں افغانستان کی بھی مدد کرنی چاہیئے اوربچوں کے دیگر ایمیونائزیشن پروگرامز کو بھی انسداد پولیو مہم کے ساتھ چلایا جائے۔اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ اگلے پانچ سالوں کے لیے 798.6 ملین ڈالر کا پی سی آئی منظوری کے لیے تیار ہے، عالمی اداروں اور حکومت پاکستان کی مالی معاونت شامل ہوگی،سال 2020 میں پولیو کے 84 کیس رپورٹ ہوئے،گزشتہ 10 ماہ میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، پاکستان کی انسداد پولیو کے حوالے سے بڑی کامیابی ہے جبکہ پاکستان میں پولیو وائرس افغان مہاجرین کے ذریعے داخل ہوتا ہے۔اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کوپولیو فری سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لئے 36 ماہ کا عرصہ بغیر کسی کیس کے رپورٹ ہوئے گزارنا ہوگا۔انجنئیر ان چیف پاکستان آرمی نے اجلاس کو پولیو ٹیموں کو فراہم سکیورٹی کے حوالے سے آگاہ کیا، عالمی اداروں کے نمائندوں نے انسداد پولیو مہم کی موثر قیادت پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا جبکہ عالمی اداروں کے نمائندوں نے حکومت پاکستان کے انسداد پولیو اقدامات پر مکمل اعتماد کا بھی اظہار کیا۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -